Column

اک نکتے وچ گل مکدی اے

اک نکتے وچ گل مکدی اے
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
جو دکھائی دے وہ نقطہ ، جو سجھائی دے وہ نکتہ۔
بعض اوقات ایک مختصر سا جملہ اپنے اندر ایسی وسعت سمو لیتا ہے، جسے بیان کرنے کے لیے ضخیم کتابیں بھی ناکافی محسوس ہوتی ہیں۔ پنجابی صوفی روایت کا مشہور مصرع ’’ اک نکتے وچ گل مکدی اے‘‘ ایسا ہی ایک جملہ ہے۔ بظاہر چند لفظ، مگر اپنے اندر فکر، فلسفے، عرفان اور زندگی کا ایک ہمہ گیر تصور سمیٹے ہوئے۔
یہ مصرع اس حقیقت کا اظہار ہے کہ تمام علمی، فکری اور روحانی سفر آخرکار ایک بنیادی حقیقت تک پہنچتے ہیں۔ شاخیں بے شمار ہو سکتی ہیں مگر جڑ ایک ہوتی ہے ۔ دریا کتنے ہی ہوں ، سمندر ایک ہوتا ہے۔ رنگ لاتعداد ہوں، مگر روشنی ایک ہوتی ہے۔ حقیقت کے تمام مظاہر آخرکار ایک نکتے پر آ کر جمع ہو جاتے ہیں۔
نقطہ بظاہر ایک معمولی سی علامت ہے ، مگر زبان اور تحریر کی دنیا میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے ۔ ایک نقطہ حرف کی شناخت بدل دیتا ہے اور معنی کی سمت متعین کر دیتا ہے ۔ اہلِ نظر نے اسی نقطے میں ایک بڑی حقیقت کا عکس دیکھا ۔ انہیں محسوس ہوا کہ جس طرح حروف کی دنیا کسی بنیادی نقطے سے اپنا تشخص حاصل کرتی ہے، اسی طرح وجود کی دنیا بھی کسی بنیادی حقیقت سے اپنا رشتہ قائم کرتی ہے۔
اسی تناظر میں اہلِ تصوف نے اس مولا علیؓ کے اس معروف قول کو بڑی اہمیت دی ہے ، ’’ نا النقطۃ تحت البائ‘‘ میں با کے نیچے موجود نقطہ ہوں ۔ قرآنِ مجید کا آغاز’’ بسم اللہ ‘‘ سے ہوتا ہے ، ’’ بسم‘‘ کا آغاز حرفِ ’’ ب‘‘ سے اور ’’ ب‘‘ کی بنیاد اس کے نیچے موجود نقطہ ہے۔
صوفیا نے اسے وحدت، مرکزیت اور اصل کی علامت قرار دیا۔ ان کے نزدیک کثرت کے پیچھے وحدت کو تلاش کرنا ہی معرفت کا سفر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کہا جا سکتا ہے، جو دکھائی دے وہ نقطہ، جو سجھائی دے وہ نکتہ۔
نقطہ آنکھ کا مشاہدہ ہے اور نکتہ دل کا ادراک ۔
نقطہ لفظ ہے اور نکتہ معنی۔ نقطہ واقعہ ہے اور نکتہ اس کی حکمت۔
نقطہ سطح ہے اور نکتہ گہرائی۔
قدرت کی ہر شے اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے ۔ بارش کو دیکھیے ۔ ایک شخص کے لیے وہ صرف پانی کے قطرے ہیں، ایک کسان کے لیے رزق ، ایک شاعر کے لیے حسن اور ایک عارف کے لیی رحمتِ الٰہی کا اظہار ۔ بارش ایک ہی ہے، مگر ہر شخص کا نکتہ مختلف ہے۔ یہی فرق دیکھنے اور سمجھنے میں ہے۔
ایک بیج بظاہر معمولی سا ذرہ ہے ، مگر اس کے اندر ایک پورا درخت پوشیدہ ہوتا ہے۔
شاخیں، پتے، پھول، پھل اور آنے والے بے شمار بیج اسی ایک نقطے میں چھپے ہوتے ہیں۔ بیج نقطہ ہے اور اس کے اندر موجود امکانات نکتہ۔
قطرہ سمندر سے جدا ہو تو معمولی محسوس ہوتا ہے ، مگر جب سمندر سے اس کا رشتہ سمجھ میں آ جائے تو وہ پانی کا ایک ذرہ نہیں رہتا بلکہ ایک عظیم حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے۔ انسان بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بظاہر ایک فرد، مگر اپنے اندر ایک پوری کائنات سمیٹے ہوئے۔
انسان کی داستان بھی ایک نقطے سے شروع ہوتی ہے۔ پھر خیالات جنم لیتے ہیں، خیالات نظریات بنتے ہیں، نظریات تحریکوں کو جنم دیتے ہیں اور تحریکیں تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔ گویا ہر بڑی تبدیلی کا آغاز ایک چھوٹے سے نقطے سے ہوتا ہے۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اور قدیم عرفان، بظاہر مختلف راستوں پر چلتے ہوئے بھی بعض مقامات پر ایک ہی سچائی کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
آج کی ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد صرف دو علامتوں، صفر اور ایک، پر قائم ہے۔
کمپیوٹر، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور پوری ڈیجیٹل تہذیب انہی دو بنیادی اشارات سے وجود میں آتی ہے۔
گویا حیرت انگیز پیچیدگی کی بنیاد بھی انتہائی سادگی میں پوشیدہ ہے۔
کائنات کا مطالعہ بھی یہی سبق دیتا ہے کہ وسعت کا آغاز اختصار سے ہوتا ہے۔ عظیم درخت ایک بیج میں سمٹا ہوتا ہے، وسیع سمندر ایک قطرے کی ماہیت میں پوشیدہ ہوتا ہے اور تہذیبیں ایک خیال سے جنم لیتی ہیں۔
انسانی شعور کی پوری تاریخ دراصل نقطے سے نکتے تک پہنچنے کی تاریخ ہے۔ انسان نے ستاروں کو دیکھا، پھر ان کے درمیان ربط تلاش کیا۔ اس نے زمین کو دیکھا، پھر اس کے قوانین دریافت کیے۔ اس نے اپنی ذات کو دیکھا، پھر اپنے وجود کے معنی تلاش کرنے لگا۔ یہی تلاش فلسفے کو جنم دیتی ہے، یہی سائنس کو آگے بڑھاتی ہے اور یہی روحانیت کا سر چشمہ بنتی ہے۔
قرآنِ مجید بھی انسان کو بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ آسمانوں، زمین، بارش، نباتات اور خود انسان کی ذات میں نشانیاں دکھا کر سوال کرتا ہے کہ کیا تم تدبر نہیں کرتے؟ گویا کائنات کی ہر شے ایک نقطہ ہے جو کسی نکتے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
عرفاء نے اسی حقیقت کو عام آدمی کی زبان میں بیان کیا۔ ان کے نزدیک اصل علم وہ نہیں جو صرف ذہن کو بھر دے، بلکہ وہ ہے جو دل کو روشن کرے۔ معلومات اور معرفت میں یہی فرق ہے۔ معلومات جمع کی جا سکتی ہیں، مگر نکتہ دریافت کرنا پڑتا ہے۔
زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ لوگ اکثر نقطوں پر جھگڑتے رہتے ہیں اور نکتوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ وہ الفاظ کو پکڑ لیتے ہیں اور معنی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ صورتوں میں الجھ جاتے ہیں اور حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ظواہر سے گزر کر ان کے باطن تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
جو شخص نکتے تک پہنچ جاتا ہے، اس کی نظر وسیع ہو جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اختلافات کی بہت سی دیواریں ظاہری ہیں۔ حقیقت کی سطح پر انسان ایک دوسرے کے کہیں زیادہ قریب ہیں جتنا وہ سمجھتے ہیں۔ یہی شعور برداشت پیدا کرتا ہے، یہی تعصب کم کرتا ہے اور یہی انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے۔
یہ دور معلومات کے سیلاب کا دور ہے۔ ایک لمحے میں ہزاروں کتابیں، لاکھوں مضامین اور بے شمار آراء انسان کی دسترس میں آ جاتی ہیں۔ مگر اس فراوانی کے باوجود بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ذہن بھر رہے ہیں مگر دل خالی ہوتے جا رہے ہیں۔
شاید اس لیے کہ معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر حکمت کم ہو رہی ہے۔ ہم جاننے لگے ہیں، مگر سمجھنے کا ہنر کھوتے جا رہے ہیں۔ ہم نے ذرائع حاصل کر لیے ہیں مگر مقاصد گم کر بیٹھے ہیں۔
ایسے دور میں ’’ اک نکتے وچ گل مکدی اے‘‘ محض ایک صوفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ ایک فکری ضرورت بن جاتا ہے ۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل اہمیت معلومات کی کثرت کی نہیں بلکہ معنی کی گہرائی کی ہے۔ اصل اہمیت ظاہری وسعت کی نہیں بلکہ باطنی مرکزیت کی ہے۔
نقطے سے نکتے تک: انسان کی پوری زندگی دراصل نقطے سے نکتے تک کا سفر ہے۔ آنکھ پہلے منظر دیکھتی ہے، پھر عقل اس کا تجزیہ کرتی ہے اور آخرکار دل اس کے معنی تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اکثر لوگ منظر تک پہنچتے ہیں، کچھ لوگ مفہوم تک اور بہت کم لوگ حقیقت تک رسائی پاتے ہیں۔
کائنات کا ہر ذرہ ایک نقطہ ہے جو کسی نکتے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ سورج روشنی کا نقطہ نہیں، قدرت کا نکتہ ہے۔ بارش پانی کا قطرہ نہیں، رحمت کا استعارہ ہے۔ بیج صرف ایک دانہ نہیں، امکانات کی ایک پوشیدہ دنیا ہے۔ انسان گوشت پوست کا پیکر نہیں، اسرارِ وجود کا امین ہے۔
علم جب بصیرت میں ڈھل جائے تو نکتہ بن جاتا ہے۔ عبادت جب محبت سے ہم آہنگ ہو جائے تو نکتہ بن جاتی ہے۔ زندگی جب صرف گزرنے کے بجائے سمجھ میں آنے لگے تو نکتہ بن جاتی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس معلومات کم ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم معلومات کے انبار میں معنی کا دھاگا کھو بیٹھے ہیں۔ ہم نقطوں کو گنتے رہتے ہیں مگر نکتہ تلاش نہیں کرتے۔ الفاظ یاد رکھتے ہیں مگر حکمت بھول جاتے ہیں۔ صورتوں پر بحث کرتے ہیں مگر حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔
اہلِ دل اسی لیے کہتے ہیں کہ دانائی کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں ظاہری اختلافات ختم اور باطنی وحدت آشکار ہونا شروع ہو جائے ۔ جب انسان ہر شے کے پیچھے موجود ربط کو دیکھ لیتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ کثرت کے شور میں بھی وحدت کی ایک خاموش صدا گونج رہی ہے۔
تب اسے سمجھ آتی ہے کہ: علم کا مقصد معلومات نہیں، بصیرت ہے۔
عبادت کا مقصد رسم نہیں، قرب ہے۔
محبت کا مقصد تعلق نہیں ، معرفت ہے۔
اور زندگی کا مقصد صرف جینا نہیں، حقیقت کو سمجھنا ہے۔
پھر لفظ کم پڑنے لگتے ہیں اور خاموشی بولنے لگتی ہے۔ کیونکہ بعض حقیقتیں بیان نہیں ہوتیں، صرف محسوس کی جاتی ہیں۔ بعض راز لکھے نہیں جاتے، دل میں اترتے ہیں۔ اور بعض باتیں اتنی وسیع ہوتی ہیں کہ صدیوں کی فکر، فلسفے اور تجربے کا نچوڑ بن جاتی ہیں۔
تب انسان جان لیتا ہے کہ بیج سمٹا ہوا درخت ہے، قطرہ سمٹا ہوا سمندر ہے، حرف سمٹی ہوئی کتاب ہے، خیال سمٹی ہوئی تہذیب ہے اور انسان سمٹی ہوئی کائنات ہے۔
اور جب کثرت وحدت میں سمٹ جائے، جب ظاہر باطن کا دروازہ بن جائے، جب نقطہ معنی میں ڈھل جائے تو پھر ساری گفتگو ایک ہی مقام پر آ کر ٹھہر جاتی ہے: جو دکھائی دے وہ نقطہ، جو سجھائی دے وہ نکتہ۔
اور سچ تو یہ ہے کہ : اک نکتے وچ گل مکدی اے۔

جواب دیں

Back to top button