ColumnImtiaz Ahmad Shad

محرم الحرام: اسلامی سال کا پہلا اور احترام والا مہینہ

محرم الحرام: اسلامی سال کا پہلا اور احترام والا مہینہ
امتیاز احمد شاد
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسے اسلام میں خاص تقدس اور احترام حاصل ہے۔ یہ ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں قرآن کریم نے ’’اشہرِ حرم‘‘ یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔ ان مہینوں میں جنگ و جدال اور خونریزی سے اجتناب کی تلقین کی گئی ہے تاکہ معاشرے میں امن، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ مل سکے۔ اسلامی تاریخ میں یہ مہینہ نہ صرف نئے سال کے آغاز کی علامت ہے بلکہ کئی اہم تاریخی، مذہبی اور روحانی واقعات کی یاد بھی دلاتا ہے جنہوں نے امت مسلمہ کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
محرم الحرام کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ؐنے اسے ’’ اللہ کا مہینہ‘‘ قرار دیا۔ احادیث مبارکہ میں اس مہینے کے روزوں کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، خصوصاً یومِ عاشورہ یعنی دس محرم کا روزہ۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے روزے ہیں۔ اس مہینے میں عبادت، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن اور نیکی کے کاموں کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ محرم کا آغاز مسلمان کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ ایک نیا سال شروع ہو رہا ہے اور اسے اپنے اعمال کا جائزہ لے کر اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
محرم الحرام کی تاریخ میں سب سے اہم اور دردناک واقعہ میدانِ کربلا کا ہے جو 61ہجری میں پیش آیا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے جس نے حق، سچائی، صبر اور قربانی کی لازوال مثال قائم کی۔ حضرت امام حسینؓ، جو نبی اکرمؐ کے نواسے اور حضرت علیؓو حضرت فاطمہؓ کے فرزند تھے، نے ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے اقتدار یا دنیاوی مفاد کے لیے نہیں بلکہ دین اسلام کی حقیقی تعلیمات کے تحفظ اور حق کے قیام کے لیے قربانی دی۔ کربلا کے میدان میں امام حسینؓ اور ان کے رفقا نے بے مثال استقامت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے حق پر قائم رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
واقعہ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک عظیم درسگاہ ہے۔ یہ واقعہ انسان کو سکھاتا ہے کہ اصولوں اور اقدار کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے۔ امام حسینؓ نے ثابت کیا کہ طاقت اور اقتدار ہمیشہ حق کی علامت نہیں ہوتے بلکہ حق وہ ہے جو عدل، انصاف اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہو۔ ان کی قربانی آج بھی مسلمانوں کے لیے صبر، استقامت، شجاعت اور وفاداری کا سرچشمہ ہے۔ محرم کے دنوں میں دنیا بھر کے مسلمان امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں اور ان کے پیغام پر غور و فکر کرتے ہیں۔
دس محرم، جسے یومِ عاشورہ کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ میں کئی دیگر اہم واقعات کی وجہ سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ روایات کے مطابق اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی تھی۔ جب نبی کریمؐ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ یہودی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کامیابی عطا کی تھی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام سے ہمارا تعلق زیادہ ہے، چنانچہ آپؐ نے خود بھی روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کی ترغیب دی۔ اسی وجہ سے عاشورہ کا روزہ اسلام میں ایک اہم عبادت سمجھا جاتا ہے۔
محرم الحرام کا پیغام صرف غم یا سوگ تک محدود نہیں بلکہ یہ اصلاحِ نفس، تقویٰ اور روحانی بیداری کا مہینہ بھی ہے۔ اس مہینے میں مسلمان اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔ یہ مہینہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا عارضی ہے اور اصل کامیابی اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ محرم کا احترام ہمیں صبر، برداشت، ایثار اور محبت جیسے اعلیٰ اخلاق اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں محرم الحرام کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ صحابہ کرامؓ اور تابعین اس مہینے میں عبادت اور نیکی کے کاموں کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ اگرچہ مختلف معاشروں میں محرم منانے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی یاد، دین کی خدمت اور نیک اعمال کی طرف توجہ ہے۔ اس مہینے کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ مسلمان اپنے کردار کو بہتر بنائیں اور معاشرے میں امن، محبت اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
آج کے دور میں جب دنیا بے شمار مسائل، تنازعات اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے، محرم الحرام کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی اور انصاف کے لیے ڈٹ جانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اسی طرح عاشورہ کا روزہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی مدد کو یاد دلاتا ہے۔ محرم انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود امید، صبر اور ایمان کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
محرم الحرام اسلامی سال کا آغاز ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان، تقویٰ، قربانی اور حق پرستی کی علامت بھی ہے۔ یہ مہینہ مسلمانوں کو اپنی روحانی زندگی بہتر بنانے، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں سے سبق حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ محرم الحرام کا تقدس اور اہمیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مومن کی زندگی کا اصل مقصد حق، انصاف اور اللہ کی رضا کے لیے کوشش کرنا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو اس بابرکت مہینے کو اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button