Column

ماہِ محرم الحرام: استقبال، اتحاد، برداشت اور امن کا پیغام

ماہِ محرم الحرام: استقبال، اتحاد، برداشت اور امن کا پیغام
تحریر : صفدر علی حیدری
ماہِ محرم الحرام صرف اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ نہیں، بلکہ یہ تاریخِ انسانیت کا ایک ایسا روحانی دروازہ ہے جو کھلتے ہی فکر، احساس اور ضمیر کی دنیا کو جھنجھوڑ دیتا ہے ۔ یہ وہ مہینا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتابِ مقدس میں ’’ حرام‘‘ یعنی حرمت والا اور عظمت والا قرار دیا ہے۔ اس کی فضیلت محض زمانی نہیں بلکہ فکری اور روحانی بھی ہے، کیوں کہ اسی مہینے میں وہ عظیم سانحہ رونما ہوا جس نے حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل کھینچ دی ۔
کربلا محض ایک میدانِ جنگ نہیں ، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر دور کا انسان اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ ایک طرف اقتدار کی ہوس، جبر اور ظلم کی علامت یزیدی نظام تھا، اور دوسری طرف صبر، استقامت، صداقت اور حق کی علامت امام حسینؓ اور ان کے جانثار تھے۔ مگر محرم کا پیغام صرف اس تاریخی تصادم تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر زمانے کے انسان کے لیے ایک زندہ اصول ہے: حق کے ساتھ کھڑے رہو، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔
عام طور پر محرم کو ایک طبقہ صرف سوگ، غم اور ماتم کا مہینا سمجھ لیتا ہے جب کہ دوسرا طبقہ اسے کوئی خاص مقام دینے پر تیار نہیں ہوتا ۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ دونوں رویے افراط و تفریط کا شکار ہیں ۔
محرم الحرام کی اصل روح ایک نئے فکری آغاز اور روحانی بیداری سے جڑی ہوئی ہے۔
جس طرح رمضان المبارک کی آمد پر دل خوشی، تیاری اور عبادت کے جذبے سے بھر جاتے ہیں، اسی طرح محرم بھی ہمیں ایک نئے اخلاقی سال کے آغاز کی دعوت دیتا ہے۔
محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو وہ صرف کیلنڈر کا آغاز نہیں کرتا، بلکہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اب تمھیں اپنے دلوں کا محاسبہ کرنا ہے، اپنی سوچوں کو پاک کرنا ہے، اور اپنے رویوں کو بہتر بنانا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کو رک کر یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی اس پیغام کا وارث ہے جس کے لیے امام حسینؓ نے اپنی جان قربان کی؟۔
کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ نہیں کہ وہاں جنگ ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ وہاں جنگ سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کی گئی۔ امام حسینؓ نے آخری لمحے تک مکالمے کا دروازہ کھلا رکھا۔ انھوں نے دشمنوں کو سمجھایا، ان کے ضمیر کو جھنجھوڑا، اور انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں کربلا ہمیں برداشت اور تحمل کا عظیم درس دیتی ہے۔ آج کے معاشرے میں جب اختلافات فوراً دشمنی میں بدل جاتے ہیں، کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اختلاف رائے کو اختلاف دل نہ بننے دو۔ اگر امام حسینؓ جیسے عظیم انسان نے اپنے مخالفین کے لیے ہدایت کی دعا کی، تو ہم کس طرح ایک دوسرے کو کافر، گمراہ یا دشمن قرار دینے میں جلدی کر سکتے ہیں؟۔
یہی برداشت کا جوہر ہے کہ انسان سخت ترین حالات میں بھی اپنی زبان، اپنے رویے اور اپنے اخلاق پر قابو رکھے۔اسلام کا بنیادی اصول قرآن مجید میں یوں بیان ہوا: ( ترجمہ)’’ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام ہے۔ رسول اکرم نے مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان جو رشتہ قائم کیا، وہ تاریخِ انسانیت میں بھائی چارے کی سب سے روشن مثال ہے۔ آپ نے امت کو ایک جسم کی مانند قرار دیا کہ اگر جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔
افسوس کہ آج امت اسی وحدت سے محروم ہے۔ ہم ایک اللہ، ایک رسول ، ایک قرآن اور ایک قبلہ کے ماننے والے ہونے کے باوجود چھوٹے چھوٹے فقہی، مسلکی اور فکری اختلافات کو نفرت میں بدل چکے ہیں۔ حالانکہ کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل تقسیم حق اور باطل کی ہے، نہ کہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان دشمنی کی۔
محرم ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے فکری زاویوں کو وسیع کریں۔ یہ مہینہ کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں بلکہ پوری امت کا مشترکہ روحانی ورثہ ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر اپنی اپنی روایت کے مطابق اس مہینے کی تعظیم کرتے ہیں، مگر مقصد سب کا ایک ہی ہونا چاہیے: امام حسینؓ کی قربانی سے سبق حاصل کرنا۔
اگر ہم اس مہینے میں ایک دوسرے کے جذبات، عقائد اور روایات کا احترام کرنا سیکھ لیں تو بہت سے فتنوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ اختلاف ہونا فطری ہے، مگر اختلاف کو نفرت میں بدل دینا غیر فطری اور غیر اسلامی رویہ ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ عاشورہ صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق ہمیشہ اخلاقی طاقت کے ساتھ جیتتا ہے، نہ کہ ظاہری قوت کے ساتھ۔ مگر اس کا اصل پیغام یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو امن کا گہوارہ بنائیں۔
اگر ہم محرم کے آغاز سے ہی یہ عہد کریں کہ: ہم کسی کے عقیدے کی توہین نہیں کریں گے، ہم نفرت انگیز گفتگو سے اجتناب کریں گے، ہم عبادات اور مقدسات کا احترام کریں گے، ہم اختلاف کو شائستگی کے دائرے میں رکھیں گے، تو یقیناً عاشورہ تک ہمارا معاشرہ ایک بہتر فکری اور اخلاقی فضا اختیار کر سکتا ہے۔
امن: صرف جنگ بندی نہیں، دلوں کی صفائی۔ امن کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ بندوقیں خاموش ہوں، بلکہ اصل امن یہ ہے کہ دلوں میں نفرت خاموش ہو جائے۔ جب تک دلوں میں تعصب، بغض اور کینہ موجود ہے، حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ قرآن کا واضح حکم ہے: ( ترجمہ ) ’’ دین میں کوئی جبر نہیں‘‘۔
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عقیدہ ایک ذاتی معاملہ ہے اور ہر انسان کو اپنی سوچ اور عبادت کی آزادی حاصل ہے۔ کسی پر اپنا نظریہ زبردستی مسلط کرنا نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ انسانی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
آج کی دنیا میں اسلام کو مختلف زاویوں سے غلط طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کہیں اسے شدت پسندی سے جوڑا جاتا ہے، کہیں اسے تقسیم کا باعث قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کربلا کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
کربلا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اصل دشمن ’’ یزیدی فکر‘‘ ہے۔ یعنی ظلم، ناانصافی، جبر اور انسانیت کی تذلیل۔ ہمیں اپنی توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ظلم کے خلاف استعمال کرنی چاہئیں۔
محرم ہمیں صرف تاریخ پڑھنے کا نہیں بلکہ اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔ ہر شخص کو خود سے سوال کرنا چاہیےکیا میں نے آج کسی کا دل دکھایا؟، کیا میں نے کسی کی عزت کا خیال رکھا؟، کیا میں نے انصاف کا ساتھ دیا؟، کیا میں نے صبر اور برداشت کا مظاہرہ کیا؟۔ یہ سوالات اگر روزانہ خود سے کیے جائیں تو انسان کی شخصیت میں انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے۔
عہدِ نو: آئیے! اس محرم میں ہم اجتماعی طور پر یہ عہد کریں: ہم فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر امت کی وحدت کو فروغ دیں گے، ہم ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں گے، ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گی، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو،ہم اپنے معاشرے کو محبت، برداشت اور رواداری کا مرکز بنائیں گے،ہم کربلا کے پیغام کو صرف جذبات نہیں بلکہ عمل بنائیں گے۔
اختتامیہ: محرم الحرام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تاریخ صرف واقعات کا نام نہیں بلکہ کرداروں کا تسلسل ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی آج بھی زندہ ہے، اور قیامت تک زندہ رہے گی، کیونکہ سچائی کبھی مرتی نہیں۔ اگر ہم نے اس مہینے کو صرف رسم و رواج تک محدود رکھا تو ہم اس کے اصل پیغام سے محروم رہ جائیں گے، لیکن اگر ہم نے اسے اپنے اخلاق، کردار اور رویے کی اصلاح کا ذریعہ بنا لیا تو یہ مہینہ ہمارے لیے نجات کا وسیلہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں حسینی کارواں سے جوڑتا ہے، حق، انصاف، محبت اور انسانیت کا راستہ۔
دعا ہے کہ یہ محرم ہم سب کے لیے اتحاد، امن، برداشت اور ہدایت کا ذریعہ بنے، آمین۔

جواب دیں

Back to top button