
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آج ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کرنے کا اعلان کر دیا۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی سے خطے میں معاشی خوشحالی کا دور آئے گا، تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور ان میں مزید کمی آئے گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے تیل کی آج ہفتہ وار قیمتوں کا اعلان کرنا ہے، آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی جائے گی، چاروں وزرائے اعلیٰ نے عوام کو ریلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا نام گونج رہا ہے، یہ عزت اور وقار صدیوں میں نہیں ملتا، اللّٰہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، قومی وحدت کے لیے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ شام کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی کال آئی، اُن سے آدھا گھنٹہ بات ہوئی، ایرانی صدر نے کہا کہ وہ دل کی گہرائیوں سے پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان چٹان کی طرح ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایرانی صدر نے فیلڈ مارشل کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا، میں نے ایرانی صدر کو جلد از جلد پاکستان آنے کی دعوت دی، میں نے ایرانی صدر کو کہا کہ پوری قوم آپ کا والہانہ استقبال کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ 3 اور 4 جولائی کو شہید ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی، ایران کے صدر نے ہمیں ان میں شرکت کی دعوت دی، میں نے کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے اور پاکستان کا وفد وہاں موجود ہو گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس کامیابی میں سب سے زیادہ کلیدی کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے، ہمیں کریڈٹ لینے کا کوئی شوق نہیں بلکہ قوم کو کریڈٹ دلوانے کا جوش و جذبہ ذہنوں پر سوار تھا، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے بھی بھرپور حصہ ڈالا، وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایران کے حوالے سے اپنا پورا کردار ادا کیا، قائدِ حزب اختلاف کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی لیڈر شپ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا، قطر، چین، ترکیے، سعودی عرب کا اس میں اہم کردار ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم اپنی نشست سے اُٹھ کر اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی نشست پر بھی گئے۔
وزیرِ اعظم نے محمود اچکزئی، اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر کے ساتھ خوشگوار انداز میں گفتگو بھی کی اور اس کے کچھ دیر بعد وہ اپنی نشست پر واپس آ گئے۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم قومی اسمبلی اجلاس کے دوران قرارداد میں ساتھ دینے کے لیے اپوزیشن لیڈر کے پاس پہنچے، اس موقع پر اپوزیشن نے سابقہ فاٹا کے لیے بجٹ کا معاملہ وزیرِ اعظم کے سامنے رکھا۔







