تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

ایران نے ایٹمی ہتھیار بنائے تو قیامت ڈھا دینگے، امریکی صدر

امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد 14جہاز آبنائے ہرمز سے گزرگئے اورعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 80ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی ہے جوکہ مارچ کے بعد پہلی بار ہوا ہے‘ادھر لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں منگل کو 4افرادشہیدہوگئے‘ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ امریکی رقم کا ایک سینٹ بھی ایران کو نہیں جائے گا‘نہ 300ارب ڈالر‘نہ 24ارب ڈالر اور نہ ہی کسی کسی قسم کی کوئی اور رقم ۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے پھردھمکی دی ہے کہ معاہدے کے تحت ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بناسکتا‘اگر ایساکیاتو قیامت ڈھا دیں گے ‘افزودہ یورینیم ضبط کرنے کی جلدی نہیں‘ معاہدہ منظوری کے لیے کانگریس کو بھیجا جائے گا‘معاہدے کا دوسرا مرحلہ نسبتاًآسان ہوگا‘ اسرائیل لبنان میںمعصوم لوگوں کو نشانہ بنارہاہے ‘ امریکا کے بغیر اسرائیل بھی نہیں ہوتا‘قطرنے بہت متاثر کیا ‘ان کے ساتھ کام کرکے بہت اچھا لگا‘ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردارکیا ہے کہ لبنان پر حملہ اوروہاںاسرائیلی قبضہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گاجس سے یہ معاہدہ خطرے میں پڑ جائےگا۔امریکا کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات اسی ہفتے شروع ہوں گےجس میں جوہری مسائل اور پابندیاں ہٹانے کے بارے میں فیصلے کیے جائیں گےجبکہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کا دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ایرانی فوج نے بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے مظلوم عوام کا قتل عام بند نہ کیا تو اسے سخت جواب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ایرانی نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی ہے ۔ سعودی نشریاتی ادارے کے مطابق اس نے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کی کاپی حاصل کرلی ہے جبکہ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے منگل کے روز بتایا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا ایران کو فوری طور پر تیل اور ایندھن کی فروخت شروع کرنے کی اجازت دے گا۔ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ختم ہوجائیں گی ‘اس شرط کے تحت تیل کی فروخت کو آسان بنانے کیلئے بینکنگ‘ ٹرانسپورٹیشن اور انشورنس سمیت دیگر خدمات بھی شامل ہوں گی۔ ادھرایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضاپہلوی نے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ اس حکومت کے ساتھ سودے بازی ناکام ہوگی اور ہم سب کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسے ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کرے گاجبکہ قطرنے کہاہےکہ وہ پاکستان کی قیادت میں ثالثی ٹیم کا حصہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق فاکس نیوز سے گفتگو میں جے ڈی وینس کا کہناتھاکہ کچھ ایرانی عناصر اس معاہدہ کو اپنے عوام کے سامنے زیادہ سے زیادہ مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا قطر سے 300 ارب ڈالر کی واپسی اور 24 ارب ڈالر کے غیر منجمد اثاثے ایران کو منتقل کیے جا رہے ہیں، تو وینس نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر ایرانی پروپیگنڈا ہے۔اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اسے کچھ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور قطر‘امارات یا سعودی عرب ایران میں سرمایہ کاری کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔علاوہ ازیں این بی سی کو انٹرویو میں وینس کا کہناتھاکہ معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں داخلے کی اجازت ہو گی۔ ابتدائی معاہدے کے تحت ہم 60 روز تک حتمی معاہدے پر مذاکرات کریں گے‘ اس دوران بنا کسی ٹول کے آبنائے ہرمز میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی اجازت ہو گی۔ ادھرصدرٹرمپ نے کہاہے کہ معاہدے کے بعد اب چونکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل شروع ہو چکی ہے

جواب دیں

Back to top button