علم، عمل اور اخلاص، حضرت انسان کی تکمیل کا سفر
علم، عمل اور اخلاص، حضرت انسان کی تکمیل کا سفر
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
کبھی کبھی انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ پھر بھی ادھورا رہتا ہے۔ کتابیں، ڈگریاں، تجربے، الفاظ کا انبار، سب کچھ موجود ہوتا ہے، مگر اندر کہیں ایک خلا ایسا رہتا ہے جو بھرنے کا نام نہیں لیتا۔
یہ خلا آخر ہے کیا؟
یہی وہ سوال ہے جو انسان کو علم کے دروازے تک لے جاتا ہے، پھر عمل کی دہلیز پر لا کر ٹھہرا دیتا ہے، اور آخر میں اخلاص کے آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔
کیوں کہ انسان کا مسئلہ علم کی کمی نہیں، علم کا ادھورا سفر ہے۔
گائوں کی ایک پرانی بیٹھک تھی، جہاں وقت نہیں، تجربہ بولتا تھا۔ چائے کی پیالیوں میں دھواں نہیں، صدیوں کی سوچیں تیر رہی تھیں۔ اور باہر زندگی اپنی بے ترتیب رفتار سے گزر رہی تھی۔ وہیں کسی بزرگ نے آہستہ، مگر وزن دار آواز میں کہا تھا: ’’ علم کے سمندر کے مقابلے میں عمل کا ایک قطرہ زیادہ وزنی ہے، اور عمل کے سمندر کے مقابلے میں اخلاص کا ایک قطرہ زیادہ قیمتی ہے‘‘۔ یہ جملہ نہیں تھا، ایک میزان تھا۔ ایسا میزان جس پر انسان اپنی پوری زندگی تولی جا سکتی ہے۔
لوگوں نے سر ہلا دیا، کچھ نے تعریف کی، کچھ خاموش ہو گئے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان اکثر سچ کو سنتا ہے، مگر اس کے اندر اترنے نہیں دیتا ۔ کیوں کہ سچ صرف سننے کے لیے نہیں ہوتا، وہ جینے کے لیے ہوتا ہے۔
اور جب تک دل شامل نہ ہو، علم صرف الفاظ رہتا ہے، عمل صرف حرکت، اور اخلاص صرف ایک خوبصورت دعویٰ۔ علم ایک ایسا نور ہے ، ایک ایسا روشن چراغ ، جو ظاہری و باطنی اندھیروں میں انسان کو صرف راستہ نہیں دکھاتا بلکہ پہچان عطا کرتا ہے ۔ یہ وہ شعور ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔
مگر حیرت یہ ہے کہ ہر چراغ روشنی نہیں بنتا، کبھی کبھی وہ صرف ایک شے بن جاتا ہے جسے انسان اٹھائے پھرتا ہے، مگر راستہ پھر بھی اندھیرا رہتا ہے۔
اصل علم وہ ہے جو دل میں اتر جائے ۔ پھر وہ صرف معلومات نہیں رہتا، کردار بن جاتا ہے۔
ایسا علم انسان کی سوچ بدل دیتا ہے ، اس کا لہجہ نرم کر دیتا ہے ، اس کے فیصلوں میں توازن پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن اگر علم صرف زبان تک رہے، تو وہ انسان کو بدلنے کے بجائے صرف ’ جاننے والا‘ بنا دیتا ہے اور جاننے والا ہونا اور بننے والا ہونا، یہ دونوں دو مختلف حقیقتیں ہیں۔
علم کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ یہ انسان میں غرور پیدا کر سکتا ہے۔ انسان سمجھنے لگتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اور جب انسان یہ سمجھ لے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے، تو وہ اصل میں سب سے زیادہ کھو دیتا ہے۔
علم جب زمین پر اترتا ہے، تو اس کا نام عمل ہوتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان اپنی اصل سے ملتا ہے ۔ عمل صرف حرکت نہیں، یہ علم کا جیتا جاگتا اظہار ہے۔
ایک شخص ساری زندگی اچھائی کے لیکچر دیتا رہا، مگر اس کی اپنی زندگی میں اچھائی کا کوئی رنگ نہ تھا۔ دوسرا شخص خاموش تھا، مگر اس کے قدم جہاں پڑتے تھے وہاں خیر کی روشنی چھوڑ جاتے تھے۔
یہی وہ فرق ہے جو حقیقت اور دعوے کے درمیان لکیر کھینچ دیتا ہے۔
علم بات کرتا ہے، عمل گواہی دیتا ہے ۔
عمل وہ میدان ہے جہاں بہانے مر جاتے ہیں۔ جہاں ’’ کل کروں گا‘‘ کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جہاں انسان اپنے علم کا امتحان خود اپنے ہاتھوں سے دیتا ہے۔
اسی لیے کہا گیا ہے کہ علم کے سمندر کے مقابلے میں عمل کا ایک قطرہ زیادہ وزنی ہے، کیونکہ سچائی کا ایک قطرہ بھی پوری دعوے داری پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
مگر سفر ابھی مکمل نہیں ہوتا، اصل تکمیل یہاں آتی ہے۔
اخلاص وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی نیت کو بھی دیکھنا چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ اصل دیکھنے والا کوئی اور ہے۔
یہ وہ خاموش کیفیت ہے جو عمل کے اندر روح بن کر موجود ہوتی ہے۔ وہ روشنی جو دکھائی نہیں دیتی مگر پورے وجود کو منور کر دیتی ہے۔
ایک شخص ساری زندگی عبادت میں مصروف رہا، لوگ اسے نیک کہتے تھے، اس کی مثالیں دیتے تھے۔ مگر اس کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ احساس موجود تھا کہ ’’ میں اچھا ہوں‘‘ ۔
دوسرا شخص کم عمل کرتا تھا، مگر جب بھی کرتا تھا، خود کو نہیں دیکھتا تھا، صرف اپنے رب کو دیکھتا تھا۔وقت گزرا، پہلا آدمی لوگوں کی یادوں میں رہ گیا، دوسرا آدمی قبولیت کے درجے تک پہنچ گیا۔
فرق صرف نیت کا تھا۔ اسی لیے کہا گیا: عمل کے سمندر کے مقابلے میں اخلاص کا ایک قطرہ زیادہ قیمتی ہے۔کیونکہ اخلاص وہ دروازہ ہے جس سے عمل بارگاہِ رب میں قبولیت کے لیے داخل ہوتا ہے۔
یہ تینوں الگ نہیں، یہ ایک ہی حقیقت کے تین رخ ہیں۔
علم راستہ دکھاتا ہے، عمل اس راستے پر چلنے کا حوصلہ دیتا ہے، اور اخلاص اس سفر کو معنی عطا کرتا ہے۔
اگر علم ہو مگر عمل نہ ہو، تو انسان رک جاتا ہے۔ اگر عمل ہو مگر اخلاص نہ ہو، تو انسان بھٹک جاتا ہے۔ اور اگر اخلاص ہو مگر علم نہ ہو، تو انسان کمزور رہ جاتا ہے۔
اصل کمال تب پیدا ہوتا ہے جب یہ تینوں ایک ہو جائیں۔
پھر انسان صرف جینے والا نہیں رہتا، بلکہ انسانیت کی مکمل تصویر بن جاتا ہے۔
ایک بستی میں دو آدمی تھے۔ ایک بہت بولتا تھا، دوسرا کم بولتا تھا مگر اس کے اعمال زیادہ بولتے تھے۔ پہلے کو لوگ دانشور کہتے تھے، دوسرے کو سادہ۔ وقت گزرتا گیا، لوگ پہلے کو بھول گئے، دوسرے کو یاد رکھ گئے۔ کیونکہ وقت علم کو نہیں دیکھتا، وہ اثر کو دیکھتا ہے۔ اور اثر ہمیشہ عمل اور اخلاص سے پیدا ہوتا ہے۔
زندگی آخر میں یہ نہیں پوچھتی کہ تم نے کتنا پڑھا، زندگی یہ پوچھتی ہے کہ تم نے کتنا بدلا۔
علم ایک دروازہ ہے، عمل اس دروازے سے گزرنے کا راستہ، اور اخلاص وہ ہوا ہے جو اس راستے کو زندہ اور روشن رکھتی ہے۔
اگر علم ہو مگر عمل نہ ہو تو انسان کھڑا رہ جاتا ہے۔ اگر عمل ہو مگر اخلاص نہ ہو تو انسان تھک جاتا ہے۔ اور اگر یہ تینوں ایک ہو جائیں، تو انسان مکمل ہو جاتا ہے۔
اور شاید یہی اصل انسان ہے، جو جانتا بھی ہے، کرتا بھی ہے، اور سب کچھ صرف اپنے رب کے لیے کرتا ہے۔
یا اللہ! ہمارے علم کو نور، ہماری عمل کو صداقت، اور ہمارے اخلاص کو قبولیت عطا فرما، آمین ۔
آخر میں ایک افسانچہ پیش خدمت ہے۔
’’ آخری چراغ‘‘
کسی علاقے میں ایک بہت بڑا عالم رہتا تھا۔ اس کی زبان علم سے روشن تھی، مگر اس کے گھر کا چراغ اکثر بجھا رہتا تھا۔ ایک دن ایک بچہ بھوک سے تڑپ اٹھا۔ اس کی ماں عالم کے پاس آئی۔ اس نے صدقے کی فضیلت سنائی، مگر کچھ دیا نہیں۔ ماں نے کہا: ’’آپ کی باتیں آسمان کو چھوتی ہیں، مگر ہاتھ زمین تک نہیں آتے‘‘۔
یہ جملہ دل میں اتر گیا۔
رات بھر وہ خاموش رہا۔ صبح اندھیرے میں اٹھا، خود روٹی بنائی اور چپ چاپ بچے کے دروازے پر رکھ آیا۔
نہ نام لیا، نہ اعلان کیا۔
صبح بچہ آیا اور بولا ’’ آج آپ کے چہرے پر یہ روشنی کیسی ہے؟‘‘۔
عالم نے مسکراتے ہوئے کہا ’’ آج میں نے علم نہیں پڑھا، جیا ہے‘‘۔





