میثاق معیشت اور مینڈیٹ

میثاق معیشت اور مینڈیٹ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو مذاکرات کی ایک بار پھر دعوت دی کہ وہ آئیں اور میثاق معیشت پر معاہدہ کریں۔ بلاشبہ وزیراعظم کا اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دینا خوش آئند ہے، تاہم سوال ہے کہ کیا وزیراعظم کے پاس اپوزیشن کے ساتھ بات چیت او ر ان کے مطالبات تسلیم کرنے کا مینڈیٹ ہے؟۔ مجھے یاد ہے وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی نے وزیراعظم کو فون کرکے ان سے عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تو وزیراعظم کا کہنا تھا وہ پوچھ کر بتائیں گے۔ سوال ہے ملک کا وزیراعظم اگر سیاسی قیدی سے ایک وزیراعلیٰ کی ملاقات کے لئے بھی کسی اور سے پوچھے تو پھر وزیراعظم کے پاس اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کا کیا اختیار رہ جاتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنا منصب سنبھالا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈائون شروع ہو گیا اور سیکڑوں پی ٹی آئی کے ورکروں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا ۔ہمیں عمران خان اور ان کی جماعت سے کچھ لینا دینا نہیں، نہ ہی ہم کسی سیاسی جماعت کے ورکر ہیں، ایک صحافی کے طور پر سچ لکھنا ہمارے فرائض میں شامل ہے، تاکہ قارئین کو تمام تر صورت حال سے آگاہی ہو سکے۔ اس وقت پیکا ایکٹ کے تحت جو لوگ جیلوں میں ہیں ان میں سے زیادہ تعداد پی ٹی آئی ورکرز کی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے سانحہ نو مئی پر عدالتی کمیشن بنانے اور فوٹیج کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا تھا، حکومت نے چپ سادھ لی، حالانکہ انصاف کا تقاضا تھا اتنے بڑے سانحہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جاتی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا۔ بدقسمتی سے سانحہ نو مئی کی عدالتی تحقیقات وہیں کی وہیں رہی، اور پی ٹی آئی ورکرز کو فوجی اور دہشت گردی کی عدالتوں سے سزائیں دے دی گئیں۔ جو وزیراعظم ایک وزیراعلیٰ کی سیاسی قیدی سے ملاقات کرانے کا اختیار نہیں رکھتا ہو اس سے اپوزیشن جماعتوں کے مذاکرات بے معانی ہو جاتے ہیں۔ تعجب ہے امریکہ اور یورپی ملک جو جمہوریت کے بڑے داعی ہیں پاکستان میں ہونے والے گزشتہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ دراصل امریکہ کو فوجی ادوار اچھے لگتے ہیں، امریکہ نے پاکستان میں ہمیشہ فوجی ادوار کی حمایت کی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت کا بانی قید و بند میں ہے، جہاں تک اس کے خلاف مقدمات کی بات ہے وہ جھوٹے یا سچے ہیں اس سے ہٹ بات کریں تو اس کے خاندان کے افراد ملاقات سے محروم ہیں، جب کہ اس سلسلے میں حکومت بے اختیار ہے۔ یہ بات درست ہے پی ٹی آئی کے بانی اور ان کے خاندان کے افراد کو ملکی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی سے اجتناب کرنا چاہیے تھا، لیکن اس کے دوسرے پہلوئوں پر غور کریں تو ملکی اداروں کو بھی سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ گزشتہ انتخابات میں عوام سے انتخابات کے نام پر جو کھلواڑ کیا گیا عالمی دنیا بھی اس پر حیرت زدہ ہے۔ موجودہ حکومت نے آئینی ترامیم کرکے عدلیہ کے پر کاٹ دیئے ہیں، اعلیٰ عدلیہ میں بعض من پسند ججوں کو متعین کیا گیا ہے، جس سے سیاسی جماعتوں اور عوام کا عدلیہ پر اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ملکی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے کہ جن سیاست دانوں کے خلاف مقدمات تھے اقتدار میں لانے جانے کے بعد انہوں نے قوانین میں ترامیم کرکے اپنے خلاف مقدمات از خود ختم کر لئے۔ حال ہی میں گلگت بلتستان میں جو انتخابات ہوئے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کو وہاں جا کر الیکشن مہم میں حصہ لینے کی اجازت تھی، ٹی آئی کے رہنمائوں پر انتخابی مہم میں حصہ لینے پر قدغن تھی، جو جمہوریت کی بدترین مثال ہے۔ آج پاکستان کے غریب عوام مہنگائی کے ہاتھوں دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں، مگر حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ کوئی اپنے لئے اربوں روپے کا جہاز خرید رہا ہے اور کوئی بیرون ملک اثاثے بنا رہا ہے، غریب عوام کے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوگا۔ اگر ہم آزادی اظہار کی بات کریں تو اپوزیشن جماعتوں کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر خاطر خواہ کوریج نہیں دی جا رہی ہے، تاہم اس کے باوجود حکومت پی ٹی آئی سے نہ جانے کیوں خائف ہے۔ اگر ہم مسلم لیگ نواز کی بات کریں تو ایک وقت تھا جب پنجاب کو پی ایم ایل نون کا قلعہ تصور کیا جاتا تھا مگر 2018ء کے عام اور ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ نون کا پنجاب کے قلعے والا دعویٰ ختم ہو کر رہ گیا۔ تاسف ہے مسلم لیگ نون کی وزیراعلیٰ اربوں روپے کے اشتہار دے کر اپنی جماعت کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ بحال کرنے کے لئے کوشاں ہے، اس کے باوجود انہیں عوام کی طرف سے پذیرائی کی امید نہیں ہے۔ ملک میں سیاسی ابتری ہے بیرونی سرمایہ کار واپس جاچکے ہیں، ملک پہلے سے بہت زیادہ مقروض ہو چکا ہے، مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے، لیکن حکمران اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ اگر ہم اداروں کی سیاست میں مداخلت کی بات کریں تو اس کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ادارے میں سیاسی ونگ قائم کرکے اس کی ابتدا کی، جس کا نتیجہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ یہ سیاست دان تھے جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کو خطوط لکھ کر جمہوریت کا پانسہ پلٹنے کی دعوت دی تھی۔ اگرچہ وہ سیاست دان اس وقت جہان فانی سے رخصت ہو چکے ہیں، مگر ان کا لگایا بیج پورا درخت بن چکا ہے، جسے کاٹنے کی کوئی سیاسی جماعت جرات نہیں کر سکتی، لہذا سیاسی رہنمائوں کو سیاست میں اداروں کی مداخلت کو شکوہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم یہ بات دعویٰ سے کہتے ہیں اگر ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اداروں کی مداخلت کے خاتمے کا صمیم قلب سے عہد کر لیں اور منافقت کی سیاست چھوڑ دیں تو ملک کا کوئی ادارہ سیاست میں مداخلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جس روز سیاسی رہنما شفاف انتخابات او ر اداروں کی مداخلت کے خاتمے کا صدق دل سے عہد کر لیں گے، ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کا انعقاد یقینی بات ہے۔





