Column

ایران کی ریڈ لائنز اور مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ

ایران کی ریڈ لائنز اور مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ

غلام مصطفیٰ جمالی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ جنگوں، تنازعات، سفارتی کشمکش اور عالمی طاقتوں کی رسہ کشی کا میدان بنا ہوا ہے، مگر حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں ایک نئے سیاسی باب کی نوید دے رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدہ طے پا سکتا ہے، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا لیکن واضح کیا کہ ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا گیا۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
ایران نے اس مجوزہ معاہدے کے لیے اپنی چند بنیادی شرائط یا ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں۔ ان شرائط میں جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کی بحالی، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مخر کرنا شامل ہے۔ بظاہر یہ شرائط ایران کے قومی مفادات کے تناظر میں پیش کی گئی ہیں، لیکن ان کے اثرات پورے خطے اور عالمی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کو محض ایران اور امریکہ کے درمیان ایک سفارتی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایران طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دبائو اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے مختلف ادوار میں لگائی جانے والی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا۔ تیل کی برآمدات میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ اور بین الاقوامی مالیاتی نظام تک محدود رسائی نے ایرانی حکومت کو کئی مشکلات سے دوچار کیا۔ ایسے حالات میں اگر کوئی معاہدہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی دبا میں کمی کا باعث بنتا ہے تو یہ تہران کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔
دوسری جانب امریکہ بھی اس خطے میں ایک ایسی صورتحال چاہتا ہے جو عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام پیدا کرے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ جب بھی اس گزرگاہ کی بندش یا اس میں رکاوٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا مطالبہ صرف امریکہ یا ایران تک محدود نہیں بلکہ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کے ممالک بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال اسرائیل کا ہے۔ اسرائیل کئی برسوں سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے ایک بڑا سکیورٹی خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا موقف رہا ہے کہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا اس کی قومی سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی بات ہوتی ہے تو اسرائیل کا ردعمل خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک موخر کرنے کی تجویز اسرائیل کے لیے قابلِ قبول ہو گی یا نہیں، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو گا۔ تاہم ماضی کے تجربات کو دیکھا جائے تو اسرائیل ایسی کسی بھی پیش رفت پر تحفظات کا اظہار کر سکتا ہے جس میں جوہری پروگرام کے حوالے سے فوری اور سخت اقدامات شامل نہ ہوں۔ اسرائیلی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ایران اپنی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے، اس لیے وہ جوہری مسئلے کو اولین ترجیح دینا چاہتے ہیں۔
آج کی دنیا میں سفارت کاری صرف بند کمروں میں ہونے والے مذاکرات کا نام نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ اقتصادی مفادات، توانائی کی ضروریات، علاقائی سلامتی اور عوامی رائے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدہ انہی تمام عوامل کا مجموعہ ہے۔
(باقی صفحہ5پر ملاحظہ کیجئے )
اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے عالمی منڈیوں میں اعتماد پیدا ہوگا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع سامنے آئیں گے اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوگی۔ اگر یہ کوشش ناکام ہوتی ہے تو اس کے اثرات بھی صرف سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی اور سماجی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
ایران کی قیادت اس وقت ایک مشکل توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف اسے اپنے عوام کو یہ یقین دلانا ہے کہ قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ دوسری طرف عالمی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ ایران مذاکرات اور امن کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکام بار بار یہ واضح کر رہے ہیں کہ معاہدہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ایران کی بنیادی شرائط کا احترام کیا جائے۔
اسرائیل کے لیے بھی موجودہ صورتحال آسان نہیں۔ ایک جانب وہ امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور دوسری جانب ایران کے ساتھ اس کی کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اگر امریکہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط کرتا ہے جسے اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے تو دونوں اتحادیوں کے درمیان پالیسی کے اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ دونوں ممالک اہم معاملات پر مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے تحفظات کو نظرانداز نہیں کرتے۔
خطے کے عرب ممالک بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں کئی غیر متوقع سفارتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے جبکہ بعض نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ ایسے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بھی معاہدہ خطے کے سفارتی نقشے کو مزید تبدیل کر سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں نئے اتحاد وجود میں آئیں اور پرانے تنازعات کے حل کی راہ ہموار ہو۔
اس سارے منظرنامے میں عوامی مفاد کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگوں اور کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایران، اسرائیل، فلسطین، لبنان، شام، عراق اور دیگر ممالک کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر کوئی معاہدہ خطے میں امن اور استحکام لا سکتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ انہی عوام کو پہنچے گا جو طویل عرصے سے تنازعات کے اثرات برداشت کر رہے ہیں۔
دنیا کی بڑی طاقتیں بھی اس معاملے کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہی ہیں۔ یورپی ممالک عمومی طور پر سفارتی حل کے حامی ہیں اور وہ کسی ایسے معاہدے کا خیر مقدم کریں گے جو خطے میں کشیدگی کم کرے۔ چین اور روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اقتصادی اور سیاسی مفادات رکھتے ہیں، اس لیے وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ معاملہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست کے ایک اہم موضوع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی صرف دستخطوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس پر عمل درآمد سے ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی معاہدے ہوئے جو ابتدا میں امید کی کرن بن کر سامنے آئے لیکن بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔ اس لیے اگر موجودہ مذاکرات کسی معاہدے پر منتج ہوتے ہیں تو اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوگا۔ فریقین کو اعتماد سازی، شفافیت اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی استحکام چاہتے ہیں۔
آبنائی ہرمز کا معاملہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اس راستے سے گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی تجارت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی لیے عالمی طاقتیں اس علاقے میں استحکام کو اپنی اقتصادی سلامتی سے جوڑ کر دیکھتی ہیں۔ اگر معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں مکمل استحکام آتا ہے تو اس کا مثبت اثر پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے۔
منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کے مالی وسائل پر عائد پابندیوں نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر ان اثاثوں کی واپسی ممکن ہوتی ہے تو اس سے ایران کو معاشی طور پر کچھ سہارا مل سکتا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے لیے شفاف طریقہ کار ضروری ہوگا تاکہ بین الاقوامی برادری کے خدشات بھی دور ہو سکیں۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے اختلافات بدستور سب سے پیچیدہ مسئلہ ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک اور اسرائیل مختلف خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر مستقبل میں سب سے زیادہ بحث اور مذاکرات ہونے کا امکان ہے۔ اگر اس معاملے پر کوئی قابلِ قبول حل تلاش کر لیا جاتا ہے تو یہ خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت تحمل، تدبر اور دوراندیشی کی ہے۔ جذباتی فیصلے وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں لیکن پائیدار استحکام کے لیے سنجیدہ سفارت کاری ناگزیر ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔ امن اور تعاون ہی وہ راستہ ہے جو خطے کے عوام کو بہتر مستقبل فراہم کر سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے تنازعات بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں۔ چاہے اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، بات چیت کے دروازے کھلے رہیں تو حل کی امید بھی زندہ رہتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی سرگرمیاں اسی امید کی علامت ہیں۔ اگرچہ ابھی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے لیکن یہ حقیقت اہم ہے کہ فریقین کم از کم ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔
آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی نظریں تہران، واشنگٹن اور تل ابیب پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر ایران کی ریڈ لائنز، امریکی مفادات اور اسرائیلی تحفظات کے درمیان کوئی متوازن راستہ نکل آتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر خطہ ایک بار پھر کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے بھنور میں پھنس سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ مذاکرات صرف ایک سفارتی عمل نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہیں۔ امید یہی کی جا سکتی ہے کہ تمام فریق عقل، تدبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے تاکہ جنگ کے سائے چھٹیں اور امن کی روشنی پورے خطے کو منور کر سکے۔
غلام مصطفیٰ جمالی

جواب دیں

Back to top button