Column

ابنِ انشا: ایک صاحبِ طرز ادیب و شاعر

ابنِ انشا: ایک صاحبِ طرز ادیب و شاعر

رفیع صحرائی
بعض لوگ اپنی عمر پوری کر کے رخصت نہیں ہوتے، بلکہ وقت کے شعور میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔ ان کے لفظ کتابوں کے اوراق سے نکل کر معاشرے کی نبض میں دھڑکنے لگتے ہیں۔ وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے لکھے گئے لفظوں کے ذریعے ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔
ابنِ انشا بھی انہی نایاب شخصیات میں سے ایک ہیں جن کا ذکر آتے ہی اردو زبان کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ 15جون کو ان کے ننانوے ویں یومِ پیدائش پر انہیں یاد کرنا محض ایک ادیب کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے طرزِ فکر کو سلام کرنا ہے جس نے شائستگی، انسان دوستی اور خوش مزاجی کو ادب کا حصہ بنایا۔ ابنِ انشا کا کمال ان کی علمیت سے زیادہ ان کی انسان شناسی میں تھا۔ وہ مشکل فلسفوں کو آسان جملوں میں اور گہرے دکھوں کو ہلکی سی مسکراہٹ میں ڈھال دینے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کا طنز تلوار نہیں تھا، آئینہ تھا؛ ایسا آئینہ جس میں دوسروں کے ساتھ ساتھ ہم اپنی صورت بھی دیکھ سکتے تھے۔ وہ شور مچا کر نہیں، آہستگی سے سچ کہنے والے لکھاری تھے، اور شاید اسی لیے ان کا کہا ہوا آج بھی دل پر اثر کرتا ہے۔
شیر محمد خان سے ابنِ انشا بننے تک کا سفر صرف ایک قلمی نام کی تبدیلی نہیں بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد لہجے کی آمد تھی۔ شاعر، کالم نگار، مزاح نگار، سفرنامہ نگار اور مترجم کی حیثیت سے انہوں نے ہر صنف میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ ان کی شخصیت میں علم بھی تھا اور حلم بھی، مشاہدہ بھی تھا اور انسانوں سے بے لوث محبت بھی۔ان کے سفرنامے محض شہروں اور ملکوں کی روداد نہیں بلکہ تہذیبوں، انسانوں اور رویوں کی داستان ہیں۔ ’’ آوارہ گرد کی ڈائری‘‘ ، ’’ دنیا گول ہے‘‘، ’’ ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں‘‘ اور ’’ چلتے ہو تو چین کو چلیے‘‘ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف صرف راستے نہیں ناپ رہا بلکہ انسان کے باطن کی مسافت بھی طے کر رہا ہے۔ وہ نقشے نہیں، مزاج لکھتے ہیں۔ لوگوں کے رویّے دیکھتے ہیں، رویّوں سے ان کی تہذیبی اقدار و روایات سے محبت یا لاتعلقی کو پرکھتے ہیں اور یہی وصف انہیں دوسرے سفرنامہ نگاروں سے ممتاز کرتا ہے۔
ان کے کالموں کا ایک بڑا وصف یہ تھا کہ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرتے تھے۔ وہ معاشرتی مسائل کی نشاندہی کرتے، ان پر مسکراتے، قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتے۔ آج کے شور، تلخی اور تقسیم زدہ ماحول میں ابنِ انشا کا اسلوب پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے عہد میں، جہاں اختلاف اکثر بدتہذیبی میں بدل جاتا ہے، انشا ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ شائستگی بھی دلیل کی ایک صورت ہے۔
بطور شاعر بھی ان کا مقام نہایت منفرد ہے۔ ان کی شاعری میں میر کی اداسی، کبیر کی انسان دوستی، نظیر اکبرآبادی کی عوامی سادگی اور اپنی ذات کا الگ رنگ ایک ساتھ جھلکتا ہے۔ وہ محبت کو محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور وطن سے محبت کو نعروں کے بجائے خود احتسابی میں تلاش کرتے ہیں۔
’’ انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘ جیسی لازوال غزل اور اس کا اک اک شعر پڑھنے، سننے اور محسوس کرنے کی چیز ہے۔
’’ اس دل کے دریدہ دامن میں دیکھو تو سہی، سوچو تو سہی‘‘
ہر شعر میں ایک ایسی اداسی موجود ہے، جو مایوسی نہیں بلکہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر آمادہ کرتی ہے۔
شب بیتی چاند بھی ڈوب گیا زنجیر پڑی دروازے پہ
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
پوری درد بھری داستان ہے اس شعر میں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ابنِ انشا کی مقبولیت کا راز صرف ان کی فنی مہارت نہیں بلکہ ان کا اخلاقی مزاج تھا۔ وہ قاری پر اپنی دانش مسلط نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ چلتے تھے۔ ان کی تحریروں میں تکلف نہیں، مکالمہ ہے؛ برتری نہیں، برابری ہے؛ اور یہی وصف انہیں ہر نسل کے لیے قابلِ قبول بناتا ہے۔
آج جب معاشرہ عدم برداشت، سطحی گفتگو اور فوری ردِعمل کی ثقافت کا شکار ہے تو ابنِ انشا کا مطالعہ محض ادبی ذوق کی تسکین نہیں بلکہ تہذیبی ضرورت محسوس ہوتا ہے۔ ان کی تحریریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ مزاح بے ادبی نہیں، تنقید دشمنی نہیں اور اختلاف نفرت کا نام نہیں، اختلاف تو زندگی کا حسن ہے۔ بات تب بگڑتی ہے جب اختلاف مخالفت سے ہوتا ہوا دشمنی میں بدل جاتا ہے۔
ان کی وفات کو دہائیاں گزر چکی ہیں، نصف صدی ہونے کو آئی ہے، مگر ان کا لہجہ آج بھی زندہ ہے۔ یہی بڑے ادیب کی اصل پہچان ہوتی ہے کہ اس کی آواز اس کی خاموشی کے بعد بھی سنائی دیتی رہتی ہے۔ زبانیں صرف الفاظ سے نہیں، اپنے بڑے لکھنے والوں کے مزاج سے زندہ رہتی ہیں اور اردو زبان خوش قسمت ہے کہ اسے ابنِ انشا جیسا نرم خو، شگفتہ طبع اور گہرے شعور کا امین قلم کار نصیب ہوا۔
ابنِ انشا کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ صرف ان کی سالگرہ منانا یا ان کی غزلیں دہرانا نہیں بلکہ ان کی سادگی، ان کی شائستگی، ان کی خود احتسابی اور ان کی انسان دوستی کو اپنی گفتگو اور اپنے رویوں کا حصہ بنانا ہے۔ یہ حقیقت بڑی اہم ہے کہ بعض لوگ کتابوں میں نہیں، معاشروں کے کردار میں زندہ رہتے ہیں، اور ابنِ انشا یقیناً انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔

جواب دیں

Back to top button