بلاعنوان

بلا عنوان
تحریر : محمد مبشر انوار (ریاض)
آج ایک دوست نے ٹک ٹاک کا ایک کلپ شیئر کیا، جس کو قارئین کے ساتھ شیئر کرناچاہتا ہوں جس میں نہ صرف اس وقت پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کی حالت زار کو ننگا کیا گیا ہے او ر دوسری طرف پاکستانی اداروں کی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ترجیحات اور موقف کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کلپ آزاد کشمیر ڈسٹرکٹ سندنوتی کے فرزند ’’ غازی شہزاد‘‘ کا ہے، جس کے متعلق اے آر وائی نیوز کی جانب سے خبر چلائی گئی ہے کہ خارجی شہزاد بھارتی ایجنسی ’’ را‘‘ کا لکھا ہوا بیانیہ پڑھ رہا ہے اور اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔ غازی شہزاد، جو باریش ہیں، انہوں نے اس خبر پر پاکستانی میڈیا کو شیطان میڈیا سے تشبیہ دی ہے کہ انہیں جو کہا جاتا ہے یہ بغیر تصدیق کے ایسی خبر کو چلا دیتے ہیں، خواہ وہ خبر جھوٹی اور گمراہ کن ہی کیوں نہ ہو، انہوں نے اے آر وائی سے مطالبہ کیا کہ مزید کوئی کارروائی کرنے سے قبل کم از کم ان کو افغانی بنانے سے گریز کریں اور اس کی تصحیح کریں۔ دوسری اہم بات واقعتا اہم ہے کہ میڈیا کو اگر کوئی خبر ملتی ہے تو پیشہ ورانہ مہارت کا تقاضہ ہے کہ میڈیا اس کی تصدیق اپنے ذرائع سے کرکے، اس خبر کو نشر کرتا ہے مگر جو صورتحال اس وقت پاکستان میں ہے، اس میں صحافیوں کے لئے یہ کس قدر مشکل ہو چکا ہے کہ وہ ایسی خبروں کی تصدیق کریں یا کم از کم ایسی خبروں کو نشر کرنے سے گریز کریں، صرف اس ایک خبر سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس شخص کے متعلق خبر دی جارہی ہے، اس کے ماضی پر بھی نظر دوڑانے کی اجازت نہیں ۔ غازی شہزاد، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ وہ کسی جنگ میں زندہ سلامت واپس غازی لوٹا ہے، ایسے شخص کو صرف وقتی مفادات یا مفادات کے خلاف جانے پر اداروں کی جانب سے ’’ را‘‘ کا ایجنٹ کہہ دینا ہی، میڈیا کے لئے معتبر ٹھہرا اور میڈیا نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے پہلو تہی کی یا اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی اجازت نہیں دی گئی؟ کیا میڈیا کو جبرا ایسی خبر کی اشاعت پر مجبور کیا گیا؟۔ بہرحال غازی شہزاد نے اپنے ٹک ٹاک میں بتایا کہ انہوں نے کارگل جنگ میں حصہ لیتے ہوئے، دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا تھا اور شو مئی قسمت کے کل تک جس دشمن کا جہاز گرایا تھا، آج اس کا ایجنٹ قرار دیا جار ہا ہے، اس کارنامہ پر جنرل مشرف دور میں غازی شہزاد کو ’’ سند تحسین‘‘ بھی دی گئی تھی، جو انہوں نے اپنے ٹک ٹاک میں لگا رکھی تھی۔ اس سے زیادہ اندھیر نگری اور کیا ہو سکتی ہے کہ کل تک بھارت کے خلاف برسر پیکار رہنے والے شخص کو آج اسی کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے جبکہ غازی شہزاد اپنے ٹک ٹاک میں مزید کہتے ہیں کہ کارگل جنگ سے واپسی پر وہ دلبرداشتہ ہو کر ، بھارت چلے گئے اور وہاں اس کے خلاف 11سال تک لڑتے رہے۔ غازی شہزاد کا کہنا ہے کہ بھارت سے واپس آنے کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنی ریاست کو بچانے کے لئے، آزاد کشمیر بیس کیمپ سے اپنی تحریک اور جنگ خود لڑنی ہوگی۔ انہوں نے اس کاوش کے بدلے آزاد کشمیر حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے حکومت پاکستان اور اداروں کے ایماء پر، ان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بنایا اور انہیں گرفتار کیا گیا، البتہ آزاد کشمیر ہائیکورٹ کی جانب سے انہیں ضمانت دی گئی، اور یہ کہا کہ اس شخص نے آزاد کشمیر و پاکستان میں ایک گملا نہیں توڑا، اگر وہ اپنی تحریک خود لڑنا چاہتا ہے تو آپ اسے دہشت گرد کیسے قرار دے سکتے ہیں؟۔ یہ سوال نہ صرف اہم ہے بلکہ انتہائی سے زیادہ برمحل بھی ہے کہ پاکستان تو کشمیریوں کی تحریک آزادی کا نہ صرف حمایتی ہے، بلکہ کشمیریوں کو ہر طرح کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے وہ خواہ سفارتی مدد ہو یا اخلاقی، پاکستان ہمیشہ کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے دنیا میں ان کا مقدمہ بھی لڑ رہا ہے تو پھر یہ کایا پلٹ کیسے اور کیونکر ( اس کا جواب آخر میں لکھوں گا) ؟؟۔ غازی شہزاد کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام سن لو کہ رب کعبہ کی قسم کہ غازی شہزاد سے پاکستان کا ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا، ہم اپنی آزادی کی تحریک بھارت کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں، پاکستان نے بھارت کے ساتھ مل کر ، بھارتی ’’ را‘‘ کے ساتھ مل کر مجھے گرفتار کیا ہے کہ آپ بھارت کے ساتھ نہیں لڑ سکتے، اور ہم آپ کو نہیں لڑنے دیں گے، بھارتی ایجنٹ کس کو کہتے ہیں، ’’ را‘‘ کا بندہ کسے کہتے ہیں؟۔
دوسری طرف ڈاکٹر شہباز گل کے کلپ کا ایک حصہ ایک اور دوست نے شیئر کیا ہے، جس میں ڈاکٹر شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے عارضی صدر نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی، عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر ایکشن کمیٹی کی قیادت کے خلاف جاری کردہ احکامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول صدر آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ ایسے تمام احکامات ان کے دستخطوں سے جاری تو ہوئے ہیں، لیکن انہیں اس کا کوئی علم نہیں کہ کب اور کیسے یہ احکامات جاری ہوئے، اور کس کے کہنے پر جاری ہوئے ہیں، بالخصوص ایکشن کمیٹیوں کی قیادت کے سروں کی قیمت والے احکامات کا انہیں قطعا علم نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر شہباز گل نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک زمانے میں ڈاکٹر عارف علوی کے نام سے بھی ایسے احکامات جاری ہوتے تھے، جن کے متعلق ڈاکٹر عارف علوی کو بھی علم نہیں ہوتا تھا، یعنی ریاستی امور کے حوالے سے ذمہ داران کی لاعلمی کہیں یا انہیں لاعلم رکھا جاتا ہے، کیا سمجھا جائے ؟۔ حقیقت تو یہی ہے کہ جس طرح ریاستی امور چل رہے ہیں، اس کے بعد یہی سمجھ آتا ہے کہ ریاستی امور کے ذمہ داران کو دانستہ کئی ایک امور سے لاعلم رکھا جاتا ہے جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ ذمہ داران خواہ عوام سے منتخب ہو کر آئیں یا عوامی رائے پر ڈاکہ مار کر اقتدار تک پہنچے ہوں، ان کا اختیار ہر دو صورتوں میں نہ ہونے کے برابر ہے اور بااختیار کسی بھی قاعدے قانون سے بالا تر تھے اور ہیں۔ دوسری طرف آزاد کشمیر کی صورتحال یہ ہے کہ احتجاجی مظاہرین کو روکنے کے تمام حربے ناکام دکھائی دے رہے ہیں کہ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد، ہزاروں میں، راولا کوٹ پہنچ چکی ہے اور مزید متوقع ہیں، جن کا حتمی مقام مظفر آباد ہے اور اہم بات یہ ہے کہ وہ قیادت جو ریاستی جبر و تشدد کے باعث منظر سے غائب تھی، منظر عام پر آ چکی ہے اور ان مظاہرین کے درمیان موجود ہے۔ انہی میں سے ایک سردار امان نے راولا کوٹ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی واپس نہیں جائیگا، ہم سب ایک حکمت عملی اور ترتیب کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور اگر ہم پر حملہ ہوا تو پھر وہ بھی اپنی ٹانگوں پر واپس نہیں جائیں گے، آپ سب قیادت کے ہدایات پر عمل کریں۔ ایک ایک بندہ ہماری نظر میں ہے جو سہولت کار ان کے ساتھ مل کر ظلم کر رہا ہے، تمام سہولت کاروں کو کھلا چیلنج ہے کہ سب مل جائیں ہر جگہ پر تمہارا مقابلہ کریں گے۔
قارئین کرام!! اس وقت آزاد کشمیر کی یہ صورتحال ہے اور اگر حقائق کا بغور جائزہ لیں تو یہ بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ 5اگست 2019ء کے بھارتی اقدام کے بعد، پاکستان کی جانب سے کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا اور دوسری طرف آزاد کشمیر میں بھی سختیاں بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں، حالانکہ ایک وقت تھا کہ دو ریاستوں، فلسطین اور کشمیر، کے لئے پاکستان میں احتجاج کبھی بھی نہیں روکا گیا تھا، اور ہمیشہ ان کے حق میں پاکستان میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں، لیکن اب معاملات کلیتا بدلے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے اولا پالیسی میں تبدیلی تو جنرل مشرف کے دور میں ہی ہو چکی تھی، جب لائن آف کنٹرول پر بھارت کو آہنی باڑ لگانے کی اجازت دی گئی تھی، اس وقت بھی یہ افواہیں گرم تھی کہ کشمیر کا سودا کر لیا گیا ہے، لیکن بعد ازاں معاملات بتدریج بدلتے چلے گئے، اور 2019ء میں بھارت کے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دینے کے یکطرفہ اقدام کے بعد تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے چراغوں میں روشنی نہ رہی ہو۔ ویسے ذاتی طور پر ایک سابق سینٹر و وفاقی وزیر کے برابر عہدہ رکھنے والی مرحوم شخصیت نے اس امر کا اظہار کیا تھا کہ اب کشمیر کی حیثیت، جو جس کے پاس ہے، و الی ہے، مراد اب جو حصہ بھارت کے پاس ہے، وہ بھارت کا حصہ ہے اور جو پاکستان کے پاس ہے، وہ پاکستان کا حصہ ہے، لیکن چین نے بھارت کے اس فیصلے سے فائدہ اٹھایا اور بہت سے علاقوں پر قبضہ مستحکم کر لیا ہے، جبکہ ہم اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرنے کو تیار ہیں، لیکن کیا کشمیری بھی اسے تقدیر کا لکھا سمجھنے کو تیار ہیں یا نہیں؟۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو کیا آزاد کشمیر کو پاکستان کا باقاعدہ حصہ بنانے کی کوشش ہورہی ہے، اور انہیں سکھایا جارہا ہے کہ پاکستان میں کیسے رہنا ہوگا، اور کیا کشمیری اس کے لئے تیار ہیں یا اپنی جنگ جاری رکھیں گے؟۔






