Column

زندگی جو دنیا سے کٹی رہی

زندگی جو دنیا سے کٹی رہی
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
29 اکتوبر 1938ء کے ایڈنبرا ڈیلی کورئیر کے اخباری تراشے میں ایک یونانی راہب کی نہایت دلچسپ کہانی بیان کی گئی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی عورت کو نہیں دیکھا۔ مضمون کے مطابق، اس راہب نے اپنی پوری زندگی مائونٹ ایتھوس پر گزاری۔ اگرچہ اس یونانی راہب کی کہانی، جس نے مبینہ طور پر کبھی کسی عورت کو نہیں دیکھا، بہت دلچسپ ہے، لیکن اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس واقعے کی صحت کی تصدیق کا کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ موجود نہیں۔۔
کہانی کے مطابق، 1856ء میں پیدائش کے صرف چار گھنٹے بعد ہی اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ چونکہ اس کے والد یا خاندان کا کوئی اور فرد اس کی ذمہ داری لینے کے لیے سامنے نہ آیا، اس لیے بچے کو مائونٹ ایتھوس کی ایک خانقاہ کی سیڑھیوں پر چھوڑ دیا گیا۔ خانقاہ کے راہبوں نے اسے گود لے لیا اور اس کا نام مِہائیلو ٹولوٹوس Mihailo Tolotosرکھا۔
ٹولوٹوس کا بچپن اور پوری زندگی مائونٹ ایتھوس تک ہی محدود رہی، جہاں یونانی آرتھوڈوکس راہبوں کی نگرانی میں اس کی پرورش ہوئی۔ اس کی زندگی ایک ایسے مذہبی اور نظم و ضبط والے ماحول میں گزری جہاں تمام باشندوں کے لیے سخت قوانین پر عمل کرنا لازمی تھا۔
مائونٹ ایتھوس میں ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے نافذ سب سے نمایاں اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین کو اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔
دسویں صدی سے ایسے قوانین نافذ ہیں جو خواتین اور گھریلو مادہ جانوروں کے مائونٹ ایتھوس میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہیں، اور یہ قوانین آج بھی برقرار ہیں۔ اس پابندی کا مقصد یہ تھا کہ وہاں رہنے والے تمام راہب اپنی پوری زندگی تجرد سے رہنے کی مذہبی شرط پر عمل کر سکیں۔
ٹولوٹوس نے کبھی مانٹ ایتھوس نہیں چھوڑا اور 1938ء میں 82برس کی عمر میں وہیں وفات پائی۔ اسی وجہ سے، اور راہبوں کی سادہ اور زاہدانہ طرزِ زندگی کے باعث، جس میں جدید سہولیات کو قبول نہیں کیا جاتا تھا، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹولوٹوس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی عورت کو نہیں دیکھا۔
اگرچہ مِہائیلو ٹولوٹوس کی کہانی وسیع پیمانے پر مشہور ہے، لیکن یہ بات اہم ہے کہ ایسی کسی شخصیت کے وجود کی تصدیق کرنے والے تاریخی ریکارڈ یا ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔
ممکن ہے کہ یہ کہانی ایک افسانہ یا ایسی روایت ہو جو آرتھوڈوکس مسیحی روایت میں تجرد اور خانقاہی زندگی کی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے لیے تخلیق کی گئی ہو۔ البتہ اخبارات میں شائع ہونے والے تراشے حقیقی ہیں، مگر ان کی اصل معلوماتی بنیاد مشکوک ہے۔
مائونٹ ایتھوس یونان میں واقع ایک خانقاہی برادری ہے جس کی ایک طویل تاریخ ہے اور جہاں خواتین کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہے۔ اس قانون کو اَواٹون (Avaton)کہا جاتا ہے، جو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے نافذ ہے۔ اس اصول کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ خواتین کی موجودگی خانقاہی زندگی کی روحانی پاکیزگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اَواٹون کے قانون کے تحت خواتین کو مائونٹ ایتھوس میں داخلے کی اجازت نہیں، سوائے جزیرہ نما کے جنوبی سرے پر واقع ایک محدود علاقے کے، جہاں مخصوص شرائط کے ساتھ خواتین جا سکتی ہیں۔
اس صورت میں بھی خواتین کو خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے اور سخت لباس اور دیگر ضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہوتی ہے۔ گھریلو مادہ جانور، جیسے گائے اور بھیڑیں، بھی ممنوع ہیں، البتہ چوہوں کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کی وجہ سے بلیوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔
اَواٹون کا قانون کئی برس سے تنازع کا موضوع رہا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ امتیازی اور فرسودہ قانون ہے۔ حالیہ برسوں میں خواتین کو مائونٹ ایتھوس جانے کی اجازت دینے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں، اور کچھ افراد خانقاہی زندگی میں زیادہ شمولیت اور کشادگی کے حامی ہیں۔
ان مطالبات کے باوجود، مائونٹ ایتھوس کی بہت سی خانقاہیں آج بھی اَواٹون کے اصول پر عمل پیرا ہیں، اور یہ علاقہ آرتھوڈوکس مسیحی روحانیت اور ثقافت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
آج مائونٹ ایتھوس کو یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے اور ہر سال ہزاروں زائرین یہاں آتے ہیں، جنہیں اس کی تاریخی اہمیت اور روحانی روایات اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
مائونٹ ایتھوس کی خانقاہی برادری یونان میں مشرقی آرتھوڈوکس راہبوں کی ایک خودمختار مذہبی کمیونٹی ہے، جسے ایک خصوصی انتظامی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا علاقہ جزیرہ نما ایتھوس کے آخری حصے اور مانٹ ایتھوس کے گرد و نواح پر مشتمل ہے۔
جدید یونانی زبان میں اس کمیونٹی کو عام طور پر آگیو اوروس یعنی مقدس پہاڑ کہا جاتا ہے، جبکہ اوروس ایتھوس سے مراد خود پہاڑ اور ہرسونیسوس تو آتھو سے مراد جزیرہ نما علاقہ ہے۔
اس کمیونٹی میں 20خانقاہیں اور ان سے وابستہ بستیاں شامل ہیں۔ ان خانقاہوں میں قریباً 2000مشرقی آرتھوڈوکس راہب رہتے ہیں، جن کا تعلق یونان کے علاوہ رومانیہ، مالدووا، جارجیا، بلغاریہ، مونٹی نیگرو، سربیا اور روس جیسے ممالک سے بھی ہے۔ یہ راہب دنیا سے الگ تھلگ ایک زاہدانہ زندگی گزارتے ہیں۔
مائونٹ ایتھوس کی خانقاہوں میں نایاب کتابوں، قدیم دستاویزات، تاریخی نوادرات اور قیمتی فن پاروں کا عظیم ذخیرہ محفوظ ہے۔ اسی وجہ سے1988ء میں اسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
اگرچہ مائونٹ ایتھوس قانونی طور پر یونان کی طرح یورپی یونین کا حصہ ہے، لیکن اس کی خانقاہی برادری کو خصوصی قانونی اختیارات حاصل ہیں، جن کی دوبارہ توثیق یونان کے یورپی برادری میں شامل ہونے کے وقت کی گئی تھی۔
ان اختیارات کی بدولت خانقاہی انتظامیہ اپنے علاقے میں لوگوں اور اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت پر مخصوص پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔
اگر روایت درست مانی جائے تو ان کی زندگی مکمل تنہائی، عبادت اور خانقاہی ماحول میں گزری، جہاں انہوں نے جدید دنیا کی بہت سی چیزیں بھی کبھی نہ دیکھیں۔ اس نے کبھی گاڑی، ٹرین یا فلم نہیں دیکھی۔ وہ ایک ایسی دنیا میں پلا بڑھا جو صدیوں سے نہیں بدلی تھی۔ 82سال تک، وہ بھکشوئوں، موم بتی کی روشنی، اور قدیم پتھر کی دیواروں کے درمیان رہتا تھا۔ یہ کوئی سزا نہیں تھی۔ یہ جلاوطنی بھی نہیں تھی۔ یہ بس صرف اس کی پوری دنیا تھی۔ روایت، خاموشی، اور مطلق علیحدگی سے بنی عجیب زندگی تھی۔

جواب دیں

Back to top button