بلیک ہول ( سیاہ شگاف) کائنات کا وہ راز جہاں روشنی
بلیک ہول ( سیاہ شگاف) کائنات کا وہ راز جہاں روشنی بھی قید ہو جاتی ہے
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
کائنات ایک ایسا طلسمِ ہوش رُبا اور حیرت کدہ ہے جس کی وسعتوں کا اندازہ انسانی عقل آج تک مکمل طور پر نہیں لگا سکی۔ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائیوں میں بے شمار راز چھپے ہوئے ہیں، اور انسان اپنی تمام تر علمی ترقی کے باوجود ان رازوں کے کنارے ہی کھڑا نظر آتا ہے۔ اگر انسان پوری زندگی بھی اس کائناتی بھید کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہے تو شاید قیامت تک بھی وہ اس کے مکمل ادراک تک نہ پہنچ سکے۔
ارسطو نے بجا طور پر کہا تھا: ’’ میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا‘‘۔
یہ کائنات بظاہر ایک منظم اور حسین نظام ہے، مگر اس کے اندر ایسے اسرار بھی پوشیدہ ہیں جو عقلِ انسانی کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہیں سربستہ رازوں میں سے ایک ’’ بلیک ہول‘‘ بھی ہے، ایک ایسا کائناتی مظہر جس کے بارے میں جتنی معلومات اب تک حاصل ہوئی ہیں وہ محدود ہیں، لیکن اتنی ہی حیرت انگیز بھی ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کائنات میں کوئی ایسی جگہ بھی ہو سکتی ہے جہاں روشنی بھی واپس نہ آ سکے؟ ایک ایسی جگہ جہاں اگر آپ ٹارچ جلائیں تو اس کی روشنی ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائے؟ اور جہاں وقت بھی عام رفتار سے نہ چل پائے؟۔
جی ہاں! ہماری کائنات میں ایسی حیرت انگیز جگہیں موجود ہیں جنہیں ’’ بلیک ہول‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہ کوئی عام خلا میں سوراخ نہیں بلکہ کائنات کا وہ حصہ ہے جہاں مادہ اتنا زیادہ دب جاتا ہے کہ اس کی کششِ ثقل ناقابلِ تصور حد تک بڑھ جاتی ہے ، اتنی کہ روشنی بھی وہاں سے آزاد نہیں ہو سکتی۔ بلیک ہول خود نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات پوری کائنات میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ بلیک ہول خلا کا وہ خطہ ہے جہاں کششِ ثقل اتنی طاقتور ہو جاتی ہے کہ کوئی چیز بھی وہاں سے باہر نہیں نکل سکتی۔
اگر آپ زمین سے کوئی چیز اوپر پھینکیں تو وہ واپس آ جاتی ہے کیونکہ زمین اسے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ زمین سے مکمل طور پر نکلنے کے لیے ایک مخصوص رفتار درکار ہوتی ہے جسے ’’ رفتارِ فرار‘‘ کہا جاتا ہے۔
اب تصور کریں ایک ایسی جگہ جہاں یہ رفتار اتنی زیادہ ہو جائے کہ روشنی بھی اس حد سے باہر نہ نکل سکے۔ چوں کہ کائنات میں روشنی سے تیز کچھ نہیں، اس لیے واپسی ممکن نہیں رہتی۔ یہی بلیک ہول ہے۔
ہر ستارے کی ایک کہانی ہوتی ہے۔ بلیک ہول کی بھی ایک کہانی ہے۔ یہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب بہت بڑا ستارہ اپنی زندگی کے اختتام پر پہنچتا ہے۔ ستارے گیس اور حرارت سے روشن رہتے ہیں۔ ان کے اندر مسلسل جوہری فیوعن سے توانائی پیدا ہوتی ہے جو انہیں اپنے ہی وزن سے گرنے سے بچاتی ہے۔ لیکن جب یہ توانائی ختم ہونے لگتی ہے تو توازن ٹوٹ جاتا ہے اور بڑا ستارہ اپنے ہی وزن کے نیچے دبنے لگتا ہے۔ یہ عمل ’’ سپر نووا (Supernova)‘‘ کہلاتا ہے، جو کائنات کے سب سے طاقت ور دھماکوں میں سے ایک ہے۔ اگر ستارہ سورج سے 20سے 25گنا بڑا ہو تو اس کا بچا کھچا حصہ مزید سکڑتا رہتا ہے اور آخرکار وہ مقام آ جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی، یعنی بلیک ہول کی پیدائش۔ چھوٹے ستارے ( جیسے ہمارا سورج) بلیک ہول نہیں بن سکتے۔ وہ آہستہ آہستہ ٹھنڈے ہو کر سفید بونے ( White Dwarf ) بن جاتے ہیں۔
بلیک ہول کی کچھ مشہور اقسام ہیں۔ پہلی قسم ستاروں جیسے بلیک ہول (Stellar-mass Black Holes)ہیں جو بڑے ستاروں کے مرنے کے بعد بنتے ہیں اور ان کی کمیت سورج سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری قسم عظیم الجثہ بلیک ہول (Supermassive Black Holes)ہیں جو لاکھوں یا اربوں سورجوں کے برابر کمیت رکھتے ہیں اور ہر بڑی کہکشاں کے مرکز میں موجود ہوتے ہیں، بشمول ہماری ملکی وے۔ تیسری قسم درمیانی اور ابتدائی بلیک ہول (Intermediate / Primordial)ہیں جو ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔ ابتدائی بلیک ہولز فرضی ہیں، یہ بگ بینگ کے فوراً بعد انتہائی کثیف علاقوں میں بن سکتے تھے اور ان کی کمیت کسی پہاڑ سے لے کر سورج سے کم تک ہو سکتی ہے۔
ہماری کہکشاں کے مرکز میں ایک عظیم الجثہ بلیک ہول موجود ہے جسے Sagittarius A*( تلفظ: سیجیٹیریئس اے سٹار) کہا جاتا ہے۔ اس کی کمیت سورج سے 4ملین گنا زیادہ ہے۔
بلیک ہول کے گرد ایک حد ہوتی ہے جسے ایونٹ ہورائزن (Event Horizon)کہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے آگے جانا تو ممکن ہے مگر واپس آنا ناممکن۔ مثال کے طور پر جیسے آپ دریا کے بہائو میں بہتے ہوئے آبشار کے قریب پہنچ جائیں تو ایک وقت آتا ہے جب واپس جانا ممکن نہیں رہتا۔ یہی ایونٹ ہورائزن ہے۔ اگر کوئی خلاباز اس حد کو عبور کر لے تو وہ کبھی واپس نہیں آ سکتا، چاہے وہ کتنی ہی تیز رفتار راکٹ کیوں نہ بنا لے۔ خود روشنی بھی اس حد کو پار کر کے باہر نہیں آ سکتی۔
جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ بلیک ہول کے اندر ہوتا کیا ہے تو یہی جگہ بتاتی ہے کہ سائنس اپنی حد پر پہنچ گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مرکز میں ایک مقام ہوتا ہے جسے ’’ سنگولیریٹی (Singularity)‘‘ کہتے ہیں۔ یہاں مادہ انتہائی چھوٹے نقطے میں سمٹ جاتا ہے، کثافت لامحدود ہو جاتی ہے، اور وقت و جگہ کے قوانین بدل جاتے ہیں۔ ہمارے موجودہ قوانینِ طبیعیات ( آئن سٹائن کا اضافیت کا نظریہ بھی) وہاں کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ آج تک کوئی نہیں جانتا کہ وہاں حقیقت میں کیا ہوتا ہے، یہی اس کا سب سے بڑا راز ہے۔
یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ بلیک ہول ہر چیز کو نگل لیتے ہیں۔ بلیک ہول ’’ کائناتی ویکیوم کلینر‘‘ نہیں ہوتے۔ اگر ہمارا سورج اچانک بلیک ہول بن جائے ( اور اس کی کمیت وہی رہے) تو زمین اپنی موجودہ مدار میں ہی گھومتی رہے گی ۔ اصل خطرہ تب ہوتا ہے جب کوئی چیز بہت قریب چلی جائے، کیوں کہ پھر کششِ ثقل کا فرق (Tidal Force) اسے آہستہ آہستہ کھینچ کر ’’ اسپگیٹی فائی‘‘ Spaghettification( نوڈلز کی طرح لمبا کر دینا) کر دیتا ہے۔
بلیک ہول کے قریب کششِ ثقل اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وقت نسبتاً سست ہو جاتا ہے۔ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کا حصہ ہے اور جی پی ایس(GPS)سسٹم میں اسے درست کرنا پڑتا ہے۔ تصور کریں کہ آپ کا ایک جڑواں بھائی بلیک ہول کے قریب کچھ گھنٹے گزار کر واپس آئے تو زمین پر شاید کئی سال گزر چکے ہوں گے۔ یہ ’’ وقت کی توسیع‘‘ (Time Dilation)فلم Interstellarمیں خوبصورتی سے دکھائی گئی ہے۔
مشہور سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق بلیک ہول مکمل طور پر مستقل نہیں ہوتے۔ وہ بہت آہستہ آہستہ Hawking Radiationخارج کرتے ہیں اور طویل عرصے بعد ختم بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ عمل اتنا سست ہے کہ بڑے بلیک ہولز کے لیے یہ وقت کائنات کی عمر (13.8ارب سال) سے بھی لاکھوں گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔
چوں کہ بلیک ہول خود نظر نہیں آتا، اس لیے سائنس دان اسے اس کے اثرات سے پہچانتے ہیں: اس کے گرد گھومتے ستاروں کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ، گرم گیس کی ایکس رے خارج کرنے والی ڈسک (Accretion Disk)، روشنی کا مڑ جانا (Gravitational Lensing)، اور بلیک ہولز کے آپس میں ملنے سے پیدا ہونے والی ثقلی موجیں (Gravitational Waves) جس کا 2015ء میں پہلی بار پتہ چلا۔2019ء میں’’ ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ‘‘ کے نام سے ایک عالمی منصوبے نے پہلی بار M87کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کے سائے ( شیلو) کی تصویر حاصل کی، یہ سائنس کی تاریخ کا ایک تاریخی لمحہ تھا۔ 2022ء میں ہماری اپنی کہکشاں Sagittarius A*کی بھی تصویر لی گئی۔
بلیک ہول نے صرف طبیعیات دانوں ہی کو نہیں بلکہ فلسفیوں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ انفارمیشن پیراڈاکس کے مطابق اگر بلیک ہول ختم ہو جاتا ہے تو اس کے اندر جانے والی چیزوں کی معلومات کہاں چلی جاتی ہیں؟ کیا کائنات میں معلومات مٹ سکتی ہے؟ یہ اب تک کا ایک بڑا معمہ ہے۔ کچھ نظریات ( مثلاً ورم ہول) میں کہا گیا ہے کہ شاید بلیک ہول کسی اور کہکشاں یا کسی اور کائنات کا دروازہ ہو، حالانکہ یہ محض قیاس ہے۔ بلیک ہول ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمارے حواس اور موجودہ سائنس کی بھی حد ہے۔ جو ہم ’’ حقیقت‘‘ سمجھتے ہیں، وہ شاید پوری حقیقت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
بلیک ہول کائنات کا وہ راز ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم ابھی بہت کم جانتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں روشنی قید ہو جاتی ہے، وقت بدل جاتا ہے اور مادہ اپنی پہچان کھو دیتا ہے۔ لیکن ہر جواب کے ساتھ ایک نیا سوال جنم لیتا ہے۔ شاید یہی بلیک ہول کا سب سے بڑا راز ہے، یہ ہمیں علم بھی دیتا ہے اور مزید تحقیق پر بھی مجبور کرتا ہے۔
کائنات کی کتاب ابھی مکمل نہیں ہوئی، اور بلیک ہول اس کے سب سے پراسرار ابواب میں سے ایک ہے۔
خلاصہ ( یاد رکھنے والے بنیادی نکات)
بلیک ہول خلا کا وہ خطہ ہے جہاں کششِ ثقل انتہائی زیادہ ہوتی ہے۔
یہاں سے روشنی بھی باہر نہیں نکل سکتی۔
یہ بڑے ستاروں کے مرنے ( سپر نووا) کے بعد بنتے ہیں، جبکہ چھوٹے ستارے سفید بونے بن جاتے ہیں۔
اس کی تین بڑی اقسام ہیں: Stellar، Supermassive، Intermediate/Primordial۔
ہماری کہکشاں کے مرکز میں Sagittarius A*نامی عظیم الجثہ بلیک ہول موجود ہے۔
اس کے گرد حد کو ایونٹ ہورائزن کہتے ہیں، واپسی ناممکن۔
اس کے مرکز کو سنگولیریٹی کہتے ہیں، جہاں طبیعیات کے قوانین کام نہیں کرتے۔
بلیک ہول ’’ کائناتی ویکیوم کلینر‘‘ نہیں ہوتے۔
اس کے قریب وقت سست ہو جاتا ہے ( ٹائم ڈائیلیشن) ۔
Hawking Radiationکے ذریعے یہ بہت طویل عرصے میں ختم ہو سکتے ہیں۔
انہیں براہِ راست نہیں دیکھ سکتے، مگر اثرات ( جیسے ایکسرے ڈسک، ثقلی موجیں) سے دریافت کیا جاتا ہے۔
انفارمیشن پیراڈاکس اور ورم ہول کے نظریات ابھی تک تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔







