قربانی کے بعد

قربانی کے بعد
تحریر : ثناء اللہ مجیدی
عید الاضحیٰ کے مبارک ایام گزر چکے ہیں۔ قربانی کے جانور ذبح ہو چکے، تکبیرات کی صدائیں مدھم ہو گئی ہیں، مہمان اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں اور معمولاتِ زندگی دوبارہ اپنی سابقہ رفتار اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن ایک سوال آج بھی ہر صاحبِ ایمان کے دل کے دروازے پر دستک دے رہا ہے: کیا قربانی صرف چند دنوں کا ایک مذہبی عمل تھا، یا اس کے پیچھے کوئی ایسا پیغام بھی پوشیدہ ہے جو ہماری پوری زندگی کو بدل سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ عیدالاضحیٰ محض ایک تہوار کا نام نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک طرزِ زندگی کا نام ہے۔ یہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال اطاعت، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی صبر و استقامت کی یاد دلاتی ہے۔ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ اپنے اندر موجود برائیوں، منفی سوچوں، غلط عادات اور نفسانی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرنا ہے۔ انسان کی زندگی میں سوچ بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ہماری سوچ ہی ہمارے فیصلوں، عادات، تعلقات اور مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ اگر سوچ مثبت ہو تو مشکلات بھی آسان محسوس ہوتی ہیں اور اگر سوچ منفی ہو تو آسان راستے بھی دشوار نظر آتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کی ذہنی کیفیت اس کی جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ امید، اعتماد اور مثبت سوچ انسان کے اندر توانائی پیدا کرتی ہے، جبکہ مایوسی، خوف اور منفی خیالات جسم اور ذہن دونوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ قربانی کے بعد سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہم دوسروں کے لیے خیرخواہی رکھتے ہیں، یا حسد اور نفرت کے جذبات ہمارے دل میں جگہ بنائے ہوئے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں، یا اندر ہی اندر جلتی رہتے ہیں؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہیں، یا ہر وقت شکایتوں کا دفتر کھولے رکھتے ہیں؟ یہی وہ سوالات ہیں جو حقیقی خود احتسابی کی بنیاد بنتے ہیں۔ مثبت سوچ انسان کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ دنیا کا ہر کامیاب انسان پہلے اپنے ذہن میں کامیابی کا تصور پیدا کرتا ہے، پھر اس کے حصول کے لیے محنت کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص مسلسل ناکامی کا سوچتا رہے تو وہ کامیابی کے مواقع بھی کھو دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے امید اور حسنِ ظن کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ عیدالاضحیٰ کے بعد کا وقت، دراصل نئے عزم اور نئی سوچ کے ساتھ زندگی کو آگے بڑھانے کا موقع ہے۔ اگر ہم واقعی قربانی کی روح کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ہمیں اپنے غصے کو قربان کرنا ہوگا، اپنی انا کو قربان کرنا ہوگا، اپنے تکبر کو قربان کرنا ہوگا اور ان تمام عادات کو قربان کرنا ہوگا جو ہمیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتی ہیں۔
انسان جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، سب سے پہلے اسے اپنے مقصد کا تعین کرنا چاہیے۔ اپنے خوابوں اور اہداف کو تحریر کرنا کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب مقصد واضح ہو جاتا ہے تو راستے بھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جو لوگ زندگی میں کوئی مقصد نہیں رکھتے، وہ اکثر حالات کے رحم و کرم پر رہتے ہیں، جبکہ مقصد رکھنے والے لوگ مشکلات کے باوجود اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔
ہماری سوچ کی اصلاح میں امید، خوف، خواہش اور خود کو متحرک رکھنے کا جذبہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امید انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، خوف اسے غلط راستوں سے بچاتا ہے، اچھی خواہشات اسے بہتر انسان بننے پر آمادہ کرتی ہیں اور خود کو متحرک رکھنے کا جذبہ اسے مسلسل عمل کی طرف لے جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان میں سب سے بڑی نعمت عقل اور شعور ہے۔ ہمارا دماغ وہ طاقت ہے جس کے ذریعے ہم اپنی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ ہم چاہیں تو اپنے ذہن کو منفی خیالات کا مسکن بنا لیں اور چاہیں تو اسے امید، محبت، خدمت اور کامیابی کا مرکز بنا دیں۔ یہ فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔
زندگی میں کوئی انسان ایسا نہیں جو کچھ نہ کرتا ہو۔ ہر شخص کسی نہ کسی شکل میں مسلسل سوچ رہا ہوتا ہے اور عمل کر رہا ہوتا ہے۔ جب سوچنا اور عمل کرنا ناگزیر ہے تو پھر کیوں نہ مثبت سوچ کو اختیار کیا جائے؟ کیوں نہ ایسے خیالات کو پروان چڑھایا جائے جو ہمیں بہتر انسان بنائیں اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں؟
معاشرے کی تعمیر بھی مثبت سوچ سے ہوتی ہے۔ جو قومیں امید، محنت اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں، وہ ترقی کی منازل طے کرتی ہیں، جبکہ مایوسی، انتشار اور بدگمانی میں مبتلا قومیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ ہمارے ملک کو بھی آج مثبت سوچ، دیانت داری، اخلاص اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کی شدید ضرورت ہے۔
عید الاضحیٰ ہمیں ایثار کا درس دیتی ہے۔ قربانی کا گوشت تقسیم کرنا صرف ایک رسم نہیں، بلکہ یہ پیغام ہے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی میں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف ہمارا معاشرہ بہتر ہوگا، بلکہ ہماری اپنی زندگی بھی خوشیوں سے بھر جائے گی۔
چھوٹی چھوٹی نیکیاں کبھی معمولی نہیں ہوتیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک اچھا لفظ، کسی ضرورت مند کی مدد، کسی دکھی دل کو تسلی دینا، والدین کی خدمت کرنا اور کسی کو معاف کر دینا، ایسے اعمال ہیں جو بظاہر چھوٹے نظر آتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی بڑی قدر و قیمت ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے اعمال انسان کے کردار کو عظیم بناتے ہیں۔
اسی طرح چھوٹے چھوٹے مثبت فیصلے مستقبل میں بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ ایک صفحہ روزانہ پڑھنے والا شخص سال بھر میں کئی کتابیں مکمل کر لیتا ہے۔ روزانہ ایک نیکی کرنے والا شخص سال کے اختتام تک نیکیوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیتا ہے۔ مسلسل بہتری کا یہی سفر انسان کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی کے بعد ہم اپنی زندگی کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ ہم دیکھیں کہ ہماری کمزوریاں کیا ہیں، ہماری غلطیاں کیا ہیں اور ہمیں کن شعبوں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سچے دل سے خود احتسابی کریں اور اپنی سوچ کو مثبت بنائیں تو ہماری زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی آ سکتی ہے۔
بالآخر یہی کہا جا سکتا ہے کہ عید الاضحیٰ گزر جانے کے بعد بھی قربانی کا پیغام زندہ رہنا چاہیے۔ قربانی چند دنوں کی عبادت نہیں، بلکہ پوری زندگی کا سبق ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنا، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، مثبت سوچ اختیار کرنا اور مسلسل اپنی اصلاح کی کوشش کرنا ہی کامیاب زندگی کا راز ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں تو نہ صرف ہماری اپنی زندگی سنور سکتی ہے، بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور خیرخواہی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔







