دلکشی کے پردے میں چھپا زہر

دلکشی کے پردے میں چھپا زہر
تحریر : رفیع صحرائی
ہر سال 31مئی کو دنیا بھر میں ’’ عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد صرف ایک رسمی تقریب یا چند سیمینارز کا انعقاد نہیں بلکہ انسانیت کو ایک ایسے خاموش قاتل سے آگاہ کرنا ہے جو لاکھوں زندگیاں نگل رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO)نے 1987ء میں اس دن کے انعقاد کا آغاز کیا تاکہ دنیا بھر کے لوگوں کو تمباکو نوشی کے مہلک اثرات سے آگاہ کیا جا سکے اور حکومتوں کو اس ناسور کے خاتمے کے لیے موثر حکمتِ عملی اپنانے پر آمادہ کیا جا سکے۔
رواں برس 2026ء کا عالمی سلوگن
Countering Tobacco and Nicotine Addiction ۔ Unmask the Appeal
یعنی ’’ دلکشی کا نقاب اتارو۔ تمباکو اور نکوٹین کی لت کا مقابلہ کرو‘‘ درحقیقت ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ تمباکو کمپنیاں نوجوان نسل کو اپنی مصنوعات کی طرف راغب کرنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کر رہی ہیں۔ رنگ برنگی پیکنگ، خوشبودار فلیورز، جدید طرز کے ویپ اور اشتہارات کے ذریعے نوجوانوں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی فیشن، آزادی یا شخصیت کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
تمباکو نوشی محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک ایسی لت ہے جو انسان کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ گلے، منہ اور پھیپھڑوں کے سرطان، دمہ، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور سانس کی متعدد جان لیوا بیماریاں اسی زہر کا نتیجہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال قریباً 80لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جبکہ ان میں 12لاکھ ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو خود سگریٹ نہیں پیتے مگر دوسروں کے دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔
یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ ’’ غیر فعال تمباکو نوشی‘‘ یعنی دوسرے کے سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونے والے بچوں کی بڑی تعداد کان کے انفیکشن، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور سماعت کی کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق تمباکو کے دھوئیں میں سات ہزار سے زائد کیمیکل پائے جاتے ہیں جن میں ستر سے زیادہ سرطان پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ صرف پھیپھڑوں کو نہیں بلکہ دل کی شریانوں کو بھی متاثر کرتے ہیں اور دل کے دورے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔
تمباکو کی صنعت دنیا کی بڑی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اندازوں کے مطابق 2021ء میں اس صنعت کی مالیت 850ارب ڈالر سے زائد تھی۔ بظاہر یہ ایک منافع بخش کاروبار دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمباکو سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ رقم اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر خرچ ہو جاتی ہے۔ غریب ممالک میں تو یہ صورتحال مزید سنگین ہے جہاں ایک طرف عوام مہنگے علاج کی سکت نہیں رکھتے اور دوسری طرف نوجوان نسل تیزی سے اس لت میں مبتلا ہو رہی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اطراف سگریٹ اور ویپ کی آسان دستیابی نوجوانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض والدین خود تمباکو نوشی کرتے ہوئے اپنے بچوں کے مستقبل کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔
دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے خلاف مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 2005ء میں عالمی سطح پر ’’ فریم ورک کنونشن برائے تمباکو کنٹرول‘‘ نافذ کیا گیا جس پر 182ممالک دستخط کر چکے ہیں۔ پاکستان نے بھی عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصاویر کی اشاعت، اشتہارات پر قدغن اور ٹیکس میں اضافے جیسے اقدامات کیے ہیں۔
تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آپ اسی بات پر غور کر لیں کہ آغاز میں سگریٹ کی ڈبی پر واضح طور پر لکھا جاتا تھا کہ ’’ خبردار! تمباکو نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے‘‘ ۔ بااثر سگریٹ مافیا نے ’’ نقصان دہ‘‘ کو ’’ مضر‘‘ سے تبدیل کروا دیا۔ اس طرح یہ تحریر یوں بن گئی ’’ خبردار! تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے‘‘۔ جان بوجھ کر ابہام پیدا کیا گیا۔ لوگوں کی اکثریت کو مضر کے معنی ہی معلوم نہیں ہیں۔ اکثر لوگ مضر کو ’’ مفید‘‘ پڑھ لیتے ہیں۔ یہی سگریٹ مافیا کا مقصد ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں بازاروں میں کم عمر بچوں کو کھلے عام سگریٹ فروخت کیے جاتے ہیں۔ غیر قانونی تمباکو تجارت بھی حکومتی کوششوں کو ناکام بنا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر دس میں سے ایک سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہوتا ہے، جو کسی ضابطے کے تابع نہیں ہوتا۔ گویا دس فیصد سگریٹ فروشی کسی حکومتی ضابطے میں ہی نہیں آتی۔ ایسی صورت میں روک تھام کی حکومتی کوششوں کو دھچکا لگتا ہے۔
تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی تحریک کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں انسدادِ تمباکو نوشی آگہی مہم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے والے دکان داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ویپ اور ای سگریٹ کے استعمال پر واضح اور سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔ مساجد، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مستقل شعور بیدار کیا جائے۔ تمباکو نوشی ترک کرنے والوں کے لیے سرکاری سطح پر مشاورتی اور طبی مراکز قائم کیے جائیں۔ کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے کر نوجوانوں کو صحت مند مصروفیات فراہم کی جائیں۔ سب سے بڑھ کر والدین کو اپنے کردار پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے گھروں میں دیکھتے ہیں۔ والدین کو سگریٹ نوشی سے مکمل اجتناب کرنا ہو گا۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ تمباکو نوشی آہستہ آہستہ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہے۔ سگریٹ نوشی کو دیگر تمام نشوں کی ماں کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نشے کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ لوگ اس زہر پر اپنی کمائی، صحت اور زندگی سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ ایک سگریٹ وقتی سکون کا دھوکہ تو دے سکتا ہے مگر دائمی بیماریوں کا دروازہ بھی کھول دیتا ہے۔
عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم نے آج اپنی نسلوں کو اس لت سے نہ بچایا تو آنے والے برسوں میں صحت کے بحران مزید سنگین ہو جائیں گے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت، والدین، اساتذہ، میڈیا اور معاشرہ سب مل کر اس خاموش قاتل کے خلاف عملی جنگ لڑیں تاکہ ایک صحت مند، توانا اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
رفیع صحرائی







