
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ایران کے لیے مبینہ جاسوسی میں ملوث سابق امریکی فضائیہ افسر مونیکا وِٹ کی گرفتاری یا معلومات فراہم کرنے پر 2 لاکھ ڈالرز انعام کا اعلان کر دیا۔
مونیکا وِٹ پر 2019ء میں امریکی خفیہ معلومات ایران کو فراہم کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی، ایف بی آئی کے مطابق وہ 2013ء میں امریکا چھوڑنے کے بعد سے لاپتہ ہیں، ایران فرار ہو گئی تھیں۔
ایف بی آئی واشنگٹن فیلڈ آفس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سائبر ڈویژن کے سربراہ ڈینیئل ویرزبکی نے کہا ہے کہ ایران کی موجودہ صورتِ حال میں یقیناً کوئی نہ کوئی ایسا شخص موجود ہے جو مونیکا وِٹ کے ٹھکانے سے متعلق معلومات رکھتا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ معلومات فراہم کر کے مونیکا وِٹ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں مدد کریں۔
واضح رہے کہ مونیکا وِٹ نے 1997ء میں امریکی فضائیہ میں شمولیت اختیار کی اور 2008ء تک خدمات انجام دیں، بعد ازاں وہ 2010ء تک امریکی محکمۂ دفاع کے ساتھ بطور کنٹریکٹر وابستہ رہیں۔
رپورٹس کے مطابق وہ ایران میں ایک ایسی کانفرنس میں شریک ہوئی تھیں جس کا مقصد امریکی اخلاقی اقدار پر تنقید کرنا تھا۔
ایف بی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ مونیکا وِٹ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہیں، جو 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران کے عالمی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔







