
پاکستان کا خلا میں بسیرا
تحریر : سی ایم رضوان
یقین کریں چین جیسے عظیم، مخلص اور دیالو دوست کے تعاون اور اشتراک سے پاکستان ترقی، جدت اور عظمت کی وہ منازل طے کر رہا ہے جس کا تصور بھی کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر خوش نصیبی یہ کہ اس وقت ملک پر ایک سنجیدہ اور محب وطن رجیم حکومت کر رہی ہے جس سے ان منازل کا حصول زیادہ مفید اور یقینی ہو گیا ہے۔ چین کے تعاون سے ایک نئی اور خلائی ٹیکنالوجی میں جدید ترقی کی منزل پانے کے حوالے سے 23اپریل 2026ء کو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جب وزیرِ اعظم شہباز شریف سے انسانی خلائی مشن پر جانے والے دو پاکستانی خلا بازوں، خرم داد اور محمد ذیشان علی نے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی اہمیت کے حوالے سے یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس موقع پر چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ بھی شریک تھے۔ وزیرِ اعظم نے خلا بازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کا خلائی مشن پر تحقیق کے لئے جانا پاکستان کے لئے ایک اہم سنگ میل، پوری قوم کے لئے قابل فخر امر ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنے جا رہے ہیں۔ چینی توسط سے آپ کا یہ سفر دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ کرے گا۔ چینی سفیر سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ خلائی تحقیق میں پاکستان اور چین کے تعاون سے دونوں ممالک کی دوستی آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ستاروں پر کمند ڈالنے کے لئے تیار ہے۔ چینی سفیر نے بھی وزیرِ اعظم کی گفتگو کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے خلائی تحقیق میں تعاون کو خوش آئند قرار دیا۔ خلا بازوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ پاکستان کے لئے خلاء میں تحقیق کے فرائض سر انجام دینا ان کے لئے باعث عزت اور منفرد اعزاز ہے۔ چین کے خلائی اسٹیشن تیان گانگ کے لئے ان دو پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب پاکستان کی خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ خلائی سٹیشن پر پہنچنے کے بعد، ان کی تربیت اور ان کی کوششوں سے پاکستان کو خلائی ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابیاں اور فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ پاکستانی خلا باز خلائی سٹیشن پر بطور ’’ پے لوڈ اسپیشلسٹ‘‘ (Payload Specialist)مائیکرو گریوٹی ( کم کشش ثقل) کے ماحول میں اہم تجربات کریں گے۔ ان تجربات میں مٹیریل سائنس، فلوئڈ فزکس، لائف، بائیو سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی شامل ہوں گے، جن سے پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی کی بنیاد پڑے گی۔ نیز اس خلائی تحقیق کے نتائج کو پاکستان میں خوراک کی حفاظت اور صنعتی اختراع کے لئے استعمال کیا جا سکے گا جبکہ مائیکرو گریوٹی میں کیے گئے تجربات سے پائیدار ترقی کے نئے حل بھی مل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ خلائی اسٹیشن سے زمین کا مشاہدہ کر کے موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات کی پیشگوئیوں اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ مشن سپارکو کے لئے جدید ٹیکنالوجی، مہارت اور علم کے حصول کا باعث بنے گا۔ ساتھ ہی پاکستانی انجینئرز اور سائنسدانوں کو انسانی خلائی پرواز کے لئے براہِ راست تجربہ حاصل ہو گا۔ پاکستان کو چین کے خلائی پروگرام کے ذریعے خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی۔ اس مشن کی کامیابی ملک کے نوجوانوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM)کے شعبوں میں کام کرنے کے لئے بھی آمادہ و متاثر کرے گی۔ القصہ مجموعی طور پر، یہ مشن پاکستان کو دنیا کے ان چند منتخب ممالک کی صف میں شامل کر دے گا جو اس وقت انسانی خلائی پرواز میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو پاکستان کے ایک نمایاں انگریزی جریدے نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’’ پاکستان نے چین کے ساتھ تاریخی انسانی خلائی پرواز میں چھلانگ لگا دی‘‘۔ جبکہ بھارتی جریدے دی ہندو نے اسے ’’ ابھرتا ہوا چین پاکستان خلائی تعاون‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ چین اور پاکستان کے تعلقات خلائی میدان میں بھی منتقل ہو گئے ہیں، جس سے اسلام آباد کو ایک سٹریٹجک فائدہ بھی پہنچا ہے یوں پاکستان کی خلائی تاریخ کا ایک عظیم باب روشن ہونے جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان خلائی شعبے میں تعاون کے ایک معاہدے پر دستخطوں کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ جو معاہدہ پچھلے سال فروری میں کیا گیا تھا۔
پاکستانی خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کے مطابق پاکستان بھی خلائی پروازوں کے پروگرام میں فعال کردار ادا کرنے والے ملکوں میں شامل ہو گیا ہے اور خلاباز محنت اور لگن سے قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ پاکستان کی خلائی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ پروگرام ( جیسے سپارکو کے تحت حالیہ مشنز) میں ترقی ملک کے لءے عسکری اور معاشی دونوں لحاظ سے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ خلائی ٹیکنالوجی جدید جنگی حکمت عملی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس کے تحت ہائی ریزولوشن سیٹلائٹس کی مدد سے دشمن کی نقل و حرکت، فوجی اڈوں اور تنصیبات کی 24گھنٹے کی نگرانی ممکن ہو جاتی ہی۔ نیز اس ٹیکنالوجی سے سرحدوں کی حفاظت میں انسانی غلطی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ میزائل سسٹم ( بالخصوص کروز اور بیلسٹک میزائل) کو درست ہدف تک پہنچانے کے لئے بھی سیٹلائٹ ڈیٹا ناگزیر ہے۔ اپنی خلائی رسائی سے پاکستان اب غیر ملکی نیویگیشن سسٹم ( جیسی GPS) پر انحصار کم کر سکتا ہے جبکہ جنگ کی صورت میں زمینی مواصلاتی نظام متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن سیٹلائٹ کے ذریعے فوج کے مختلف یونٹس کے درمیان محفوظ اور فوری رابطہ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ دشمن کی جانب سے میزائل داغے جانے کی صورت میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بروقت اطلاع فراہم کر کے دفاعی نظام کو فعال کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ خلائی پروگرام صرف دفاع تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ٹیکنالوجی ملکی معیشت کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے زرعی زمین کی نمی، فصلوں کی صحت اور بیماریوں کا قبل از وقت اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے کھاد اور پانی کا صحیح استعمال ممکن ہوتا ہے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ زمین کے اندر پوشیدہ معدنیات، تیل اور گیس کے ذخائر کی نشان دہی بھی خلائی نقشہ سازی کے ذریعے زیادہ درستی اور کم لاگت کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ یعنی یہ ٹیکنالوجی کل پاکستان کی زمین میں پوشیدہ خزانوں کو اگلوانے میں بھی معاون ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب، زلزلوں اور سمندری طوفانوں کی پیش گوئی اور ان سے ہونے والے نقصان کا فوری تخمینہ لگانے میں سیٹلائٹ تصاویر بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہیں، جس سے ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے سیٹلائٹ ہونے سے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ اور ٹی وی کی سہولیات فراہم کرنا سستا ہو جاتا ہے اور غیر ملکی کمپنیوں کو دیئے جانے والے کروڑوں ڈالرز کی بچت ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بڑے شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام اور بہتر نقشہ سازی کے لئے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال معاشی استحکام کا باعث بنتا ہے۔ یعنی پاکستان کے لئے خلائی ٹیکنالوجی میں خود کفالت کا مطلب محض شاعرانہ حوالے سے ستاروں (باقی صفحہ 5 پر ملاحظہ فرمائیں)
پر کمند ڈالنا نہیں بلکہ ملکی و قومی سلامتی کو ناقابلِ تسخیر بنانا اور جدید ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی دفاعی اخراجات میں طویل مدتی بچت اور سویلین شعبوں میں شفافیت اور کارکردگی لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس منزل پر پہنچ کر ہم یقیناً خطہ میں مضبوط عسکری و معاشی طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں اور دنیا کے بڑے اور طاقتور ممالک کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ایک مربوط، جامع اور قابل عمل پروگرام کا اجراء ضروری ہے۔ خاص طور پر خلائی ٹیکنالوجی میں پاکستان کو امریکہ، روس اور چین جیسی عالمی طاقتوں کے ہم پلہ ہونے کے لئے ایک طویل المدتی اور کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ صرف راکٹ بنانے کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل سماجی اور معاشی انقلاب کا تقاضا کرتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے سب سے پہلے تعلیمی اور تحقیقی بنیادوں کی مضبوطی ضروری ہے۔ یعنی جب تک نچلی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ نہیں دیا جائے گا، ترقی ممکن نہیں۔ اس کے لئے سکولوں اور یونیورسٹیز میں ایرو اسپیس انجینئرنگ، فلکیات اور ڈیٹا سائنس پر خاص مضامین اور جدید خطوط پر مبنی مقالہ جات کی پڑھائی پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ ملک بھر میں ایسی لیبارٹریز کا قیام عمل میں لانا ہو گا جہاں سیٹلائٹ ڈیزائن اور پروپلشن سسٹم پر تجربات کیے جا سکیں۔
یاد رہے کہ اس حوالے سے امریکہ کی ترقی میں ’’ اسپیس ایکس‘‘ (SpaceX)جیسے نجی اداروں کا بڑا ہاتھ ہے۔ پاکستانی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ نجی کمپنیوں کو خلائی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لئے مراعات دے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لئے سپارکو کو نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ لاگت میں کمی اور جدت میں اضافہ ہو۔ علاوہ ازیں خلائی پروگرام کو صرف دفاعی مقاصد تک محدود رکھنے کی بجائے اسے ایک منافع بخش صنعت بنانا ہو گا۔ کمرشل لانچنگ بھی ضروری ہے۔ یعنی اگر پاکستان سستے لانچنگ پیڈز اور راکٹ تیار کر لے، تو وہ دنیا بھر کے چھوٹے سیٹلائٹس خلا میں بھیج کر کثیر زرِ مبادلہ کما سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زراعت، ٹیلی کمیونیکیشن کی ترقی اور جدت، اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اپنے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال بھی مفید تر ہے نیز چین کے ساتھ موجودہ اشتراک کو مزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے سیکھنا بھی ازبس ضروری ہے۔ اس ضمن میں یہ وقت اس لئے بھی اہم ہے کہ اس وقت روس، چین اور امریکہ تینوں بڑی طاقتیں پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے غیر مشروط تعاون کے لئے تیار ہیں۔ اس وقت عالمی معاہدوں کے ذریعے جدید خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنا۔ بین الاقوامی مشنز کا حصہ بننا تاکہ پاکستانی خلابازوں کو تجربہ حاصل ہو لیکن اس سب کے لئے ملک کا معاشی طور پر مستحکم ہونا، سیاسی استحکام ہونا اور پالیسیوں کا تسلسل بھی ضروری کیونکہ خلائی مشنز سالوں بلکہ دہائیوں پر محیط ہوتے ہیں لیکن ہمارے یہاں عارضی پن اور آئے روز اکھاڑ پچھاڑ کی پالیسی نے ہمیں آج تک بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہنے دیا ہے۔ اس معاملے میں استقلال کے لئے خلائی پروگرام کے لئے ایک مخصوص اور مستقل بجٹ ہونا چاہیے جو کہ حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو۔ ایک واضح ’’ اسپیس روڈ میپ‘‘ بنانا بھی ضروری ہے جس میں مختصر اور طویل المدتی اہداف ( مثلاً اپنا لانچ وہیکل تیار کرنا) متعین ہوں۔ پاکستان یقینی طور پر اس میدان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہی کیونکہ اس کے پاس باصلاحیت انجینئرز اور سائنسدانوں کی کمی نہیں، اگر کمی ہے تو صرف وسائل کی یا پھر درست سمت میں ان وسائل کی فراہمی کی اور ایک مضبوط سیاسی ارادے کی ورنہ آج بھی اگر پاکستان اپنی توجہ لانچ وہیکل ٹیکنالوجی (Rocketry)اور مائیکرو سیٹلائٹس پر مرکوز کر لے، تو وہ اس دوڑ میں اپنا مقام پیدا کر سکتا ہے اور چند دہائیوں میں ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے۔
سی ایم رضوان







