ColumnImtiaz Aasi

خواتین حجاج پر پابندی، بس کے لئے گھنٹوں انتظار

خواتین حجاج پر پابندی، بس کے لئے گھنٹوں انتظار

تحریر : امتیاز عاصی

سعودی عرب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عازمین حج کو عزیزیہ سے مسجد الحرام آنے کے لئے بس کے حصول کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے جب کہ رہائشی سیکٹر چار، پانچ اور سات میں واش رومز کی کمی کے علاوہ بیڈز کی کمی جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ وفاقی وزیر مذہبی امور نے امسال مثالی حج انتظامات کا دعویٰ کیا تھا لیکن ابھی چند ہزار عازمین حج سعودی عرب پہنچے ہیں کہ حجاج کو بسوں کے حصول میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ سعودی حکومت ہر سال حجاج کرام کی سہولت کے لئے حج انتظامات میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور کرتی ہے۔ چنانچہ امسال بھی بعض تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ خواتین حجاج کے لئے کانچ کی چوڑیاں پہن کر مطاف میں جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حجاج کے رش کی وجہ سے مطاف میں دھکم پیل ہونا یقینی بات ہی، لہذا اب خواتین کانچ کی چوڑیاں پہن کر مطاف میں نہیں جا سکیں گی۔ چوڑیاں ٹوٹ جانے کی صورت میں کانچ مطاف میں گرنے سے دیگر حجاج کے پائوں زخمی ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے، لہذا اسی خدشے کے پیش نظر مملکت سعودی عرب نے خواتین کے کانچ کی چوڑیاں پہن کر طواف کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حجاج کرام خواہ وہ سرکاری یا نجی گروپس میں جا رہے ہیں، وزارت مذہبی امور اور حج گروپ آرگنائزر انہیں مشاعر مقدسہ یعنی منیٰ عرفات اور مزدلفہ میں پینے کا پانی کا ایک کاٹن فی کس مہیا کرنے کے پابند ہوں گے۔ اگرچہ منی اور عرفات کے خیموں میں پینے کا ٹھنڈا پانی کا وافر مقدار میں انتظام ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود سعودی حکومت نے اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ چند سال پہلے سعودی حکومت نے قربانی کے لئے رقم جمع کرانے کو آپشنل رکھا تھا مگر امسال ہر حاجی خواہ وہ سرکاری یا نجی گروپ میں کیوں نہ جا رہا ہو اس سے قربانی کی رقم ایڈونس وصول کر لی گئی ہے۔ سعودی حکومت کے اس اقدام کے بعد حجاج کرام کو منیٰ کے مذبحہ خانے کی طرف جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں اگر کوئی حاجی مذبحہ خانے کی طرف جاتے پکڑا گیا

تو ایسی کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت عازمین حج ہینڈ کیری سامان اپنے ساتھ رکھ سکیں گے لیکن زیادہ سامان کی صورت میں جدہ کے حج ٹرمینل پر پہنچنے کے بعد ان کا سامان مکہ مکرمہ میں ان کی قیام گاہوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سعودی حکومت کی ہوگی۔ گویا اس لحاظ سے حجاج کرام کے لئے ایک اور سہولت مہیا کر دی گئی ہے، انہیں سامان اٹھانے کی مشکل سے نجات مل جائے گی۔ منی میں جمرات کے قریب کئی سال پہلے بھگڈر میں حجاج کرام وفات پا جاتے تھے، جس کے بعد اب کئی برس سے جمرات کے راستی کو ون وے کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ جس راستے سے ججاج جمرات کی رمی کرنے آتے ہیں اس راستے سے واپسی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سعودی حکومت کے اس اقدام سے جمرات کے قریب حادثات میں بہت کمی واقع ہو گئی ہے۔ امسال سعودی حکومت نے جمرات کے دونوں اطراف پنکھے نصب کر دیئے ہیں، تاکہ جمرات کی رمی کے دوران حجاج کو گرمی کی شدت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اگر ہم ماضی کی طرف جائیں تو نوے کے عشرے میں جمرات کے

قریب دھکم پیل سے حجاج کی بہت سی اموات واقع ہو جاتی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ سعودی حکومت عالم اسلام سے آنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کے لئے نئی نئی سہولتیں مہیا کر دی ہیں۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہو گی اگر کوئی حاجی شدید علالت کے باعث حج کرنے کی سکت نہیں رکھتا ہو ایسے حجاج کے لئے حج کا خصوصی انتظام ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں شدید بیماری کی صورت میں حجاج کو آکسیجن کے ٹینٹ میں رکھ کر مکہ مکرمہ سے براہ راست وقوف عرفہ کے لئے لے جایا جاتا ہے، تاکہ کوئی حاجی حج کی سعادت سے محروم نہ ہو سکے۔ مجھے یاد ہے شاہ فہد مرحوم کہا کرتے تھے اگر کوئی ایک عازم حج عرفات جانے سے رہ گیا تو روز قیامت فہد کو جواب دنیا ہوگا۔ شاہ فہد کی اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے سعودی حکومت حجاج کرام کے لئے کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا دعو یٰ ہے امسال مثالی حج انتظامات کئے گئے ہیں، جس پر قبل از وقت تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ حج انتظامات بارے حجاج کرام کے مشاعر مقدسہ پہنچنے کے بعد علم ہوتا ہے آیا حج انتظامات کس حد تک تسلی بخش ہیں۔ گو اس موضوع پر یہ ناچیز اپنے یو ٹیوب چینل پر وی لاگ بھی کر چکا ہے، بیرون ملکوں سے حج پر آنے والے عازمین حج انہی ملکوں سے ویکسین لگوا کر آتے ہیں، تاہم اس کے باوجود وزارت مذہبی امور ان سے سترہ ہزار روپے وصول کر لیتی ہے، جو تارکین وطن سے زیادتی کے مترادف ہے۔ وزارت مذہبی امور کو ایسے عازمین حج کی رقوم واپس کرنی چاہیے۔ توجہ طلب پہلو یہ بھی ہے ایسے عازمین حج اپنے لئے زرمبادلہ کا انتظام خود کرتے ہیں، لہذا بیرون ملکوں سے حج کے لئے آنے والے عازمین حج کو زیادہ سی زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے غیر ضرور ی طور پر رقوم کی وصولی کی جائے۔ ایک زمانے میں حجاج کرام اپنی قیام گاہوں کی مسجد الحرام سے دوری کی شکایات کرتے تھے، مگر جب سے تمام حجاج کو مکہ مکرمہ سے چند کلومیٹر دور عزیزیہ میں رہائش فراہم کی جا رہی ہے حجاج کی شکایات میں بہت حد تک کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس ناچیز کو 1990ء سے 2001ء تک مسلسل حج کی سعادت حاصل ہوئی، اس دوران اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت کے مواقع میسر آئے۔ 2016ء میں اس خطا کار کو آخری مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی، جو میں اپنے ایک عزیز مرحوم دوست محمد صدیق حیات کے ساتھ ادا کیا۔ حق تعالیٰ ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے۔ مرحوم خدا ترس اور حجاج کرام کی خدمت کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے تھے۔

جواب دیں

Back to top button