تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات خراب تر، دوبارہ جنگ کے امکانات

امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس اور ایرانی قیادت کے سخت بیانات کے بعد خطے میں ایک بار پھر جنگ کے سائے منڈلانے لگے ہیں، جہاں سفارتی تعطل کے ساتھ ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

 

امریکی اخبار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف شدید اور تیز حملوں کی نئی لہر کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد یا تو تعطل کا شکار مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے یا جنگ کے مکمل خاتمے سے قبل ایران کو ایک فیصلہ کن ضرب لگانا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں ایران کے اہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ ایک منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز کے کسی حصے پر کنٹرول حاصل کر کے اسے عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھنے کی کوشش بھی زیر غور ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی حکام آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس حوالے سے بریفنگ دیں گے، جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جس میں اسے ’آبنائے ٹرمپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

 

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دراصل فوجی کارروائیوں کا تسلسل ہے جو جنگ بندی کے باوجود جاری ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران نے صبر اور مفاہمت کا مظاہرہ کیا، تاہم بحری ناکہ بندی کے نام پر کیے جانے والے اقدامات ایک خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت کے مترادف ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا نے ایران کے تحمل کو دیکھا ہے لیکن یہ جابرانہ رویہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button