موسمیاتی تبدیلی۔ پاکستان اگلا شکار؟

حرف جاوید
موسمیاتی تبدیلی۔ پاکستان اگلا شکار؟
تحریر: جاوید اقبال
دنیا اس وقت جن بڑے چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا ہمہ گیر بحران بن چکی ہے جو خاموشی سے مگر مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ اب محض سائنسی بحث یا ماہرینِ ماحولیات تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں کی عوام اس عالمی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ نہایت کم ہے۔ یہی تضاد اس مسئلے کو مزید سنگین بناتا ہے کہ جن ممالک کا کردار کم ہے، وہی اس کے نتائج زیادہ بھگت رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے موسمی نظام میں نمایاں اور تشویشناک تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ وہ علاقے جو کبھی نسبتاً معتدل سمجھے جاتے تھے، اب شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ ہیٹ ویوز نہ صرف زیادہ شدت اختیار کر چکی ہیں بلکہ ان کا دورانیہ بھی طویل ہو گیا ہے، جس کے باعث انسانی صحت، معیشت اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ نے اس صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہر آنے والی ہے، جس کے دوران درجہ حرارت 45سے 55ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح 9بجے سے دوپہر 3بجے تک بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ یہ محض ایک موسمی پیشگوئی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ وارننگ ہے ایک ایسا انتباہ جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک دور کا خطرہ نہیں رہی بلکہ ہمارے روزمرہ معمولات کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔
شدید گرمی کا سب سے زیادہ اثر محنت کش طبقے پر پڑتا ہے، جو کھلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ہیٹ ویوز کے نتیجے میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتالوں پر دبائو بڑھ جاتا ہے اور بعض اوقات قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت نہ صرف فوری اقدامات کرے بلکہ طویل مدتی حکمتِ عملی بھی ترتیب دے۔
دوسری جانب بارشوں کا نظام بھی شدید عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔ ماضی میں مون سون کی بارشیں ایک خاص ترتیب کے تحت ہوتی تھیں، مگر اب یہ نظام بگڑ چکا ہے۔ کہیں طویل خشک سالی دیکھنے کو ملتی ہے تو کہیں غیر معمولی بارشیں تباہی مچا دیتی ہیں۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب اس کی ایک واضح مثال ہیں، جنہوں نے ملک کے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں اور ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
یہ سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں تھے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ تھے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت اور تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔پاکستان میں گلیشیئرز کی بڑی تعداد موجود ہے، جو ہمارے دریائوں کے لیے پانی کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ مگر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث یہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ گلیشیئرز کا پگھلنا ایک دوہرا خطرہ پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف یہ اچانک سیلاب کا سبب بنتا ہے، جبکہ دوسری طرف طویل مدت میں پانی کی شدید قلت کا پیش خیمہ ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو پانی کے ایک بڑے بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے موسم کو غیر متوقع اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ کبھی اچانک ژالہ باری، کبھی طوفانی ہوائیں اور کبھی غیر معمولی سردی یا گرمی یہ سب اس بات کی نشانیاں ہیں کہ قدرتی نظام میں بگاڑ آ چکا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر زراعت پر پڑ رہا ہے، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کسان اب موسمی پیٹرن پر بھروسہ نہیں کر سکتے، جس کے باعث فصلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پانی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے جبکہ آبی ذخائر سکڑتے جا رہے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مستقبل میں ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اکثر اقدامات نمائشی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ وقتی اعلانات، سیمینارز اور تصویری مہمات تو نظر آتی ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہے۔ موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسئلے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو محض ایک ماحولیاتی چیلنج کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے قومی سلامتی کے مسئلے کی طور پر تسلیم کرے۔ شہری منصوبہ بندی کو بہتر بنانا، نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، شجرکاری مہمات کو موثر بنانا اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور اس پر سختی سے عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی اثرات کو سنجیدگی سے مدنظر رکھا جائے۔ بے ہنگم شہری پھیلا، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی آلودگی اس بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اگر ہم نے اپنے ترقیاتی ماڈل کو تبدیل نہ کیا تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
این جی اوز کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ یہ ادارے عوام میں شعور بیدار کرنے اور عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض فنڈنگ یا منصوبوں تک محدود نہ رکھیں۔ انہیں حقیقی معنوں میں میدانِ عمل میں اترنا ہوگا۔ متاثرہ علاقوں میں عملی کام، مقامی کمیونٹیز کی تربیت اور پائیدار حل کی فراہمی ایسے اقدامات ہیں جو ان اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر کرنے چاہئیں۔
عالمی سطح پر بھی اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا رہا ہے، مگر ترقی یافتہ ممالک کو اپنی ذمہ داری کا احساس خود کرنا ہوگا۔ وہ ممالک جو سب سے زیادہ کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، انہیں ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنی چاہیے۔ پاکستان کو بھی عالمی فورمز پر اپنا موقف موثر انداز میں پیش کرنا ہوگا اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہوگی۔ تاہم، صرف حکومت یا عالمی برادری پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ پانی کا ضیاع روکنا، توانائی کا محتاط استعمال، درخت لگانا اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ایسے اقدامات ہیں جو ہر شہری کر سکتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ تعلیم کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینا چاہیے تاکہ نئی نسل اس مسئلے کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور اس کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر نہایت خطرناک چیلنج بن چکی ہے۔ اگر ہم نے بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو اس کے اثرات نہ صرف ہماری معیشت بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی شدید متاثر کریں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم نمائشی اقدامات سے آگے بڑھیں اور حقیقی، ٹھوس اور دیرپا حل کی طرف قدم بڑھائیں۔ اگر حکومت، این جی اوز، نجی شعبہ اور عوام سب مل کر اس مسئلے کا مقابلہ کریں تو ہم اس بحران کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، موسمیاتی تبدیلی کا یہ طوفان ہمیں مزید مشکلات کی طرف دھکیلتا رہے گا۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے یا تو ہم آج سنجیدگی اختیار کریں، یا کل ایک ایسے مستقبل کا سامنا کریں جہاں پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ ہو۔





