معاشی سست روی کا سایہ: کیا پاکستان سٹیگفلیشن کی طرف بڑھ رہا ہے؟

معاشی سست روی کا سایہ: کیا پاکستان سٹیگفلیشن کی طرف بڑھ رہا ہے؟
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان کی معیشت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ہر گزرتا دن نئے سوالات اور خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ بظاہر یہ محض اعداد و شمار کا کھیل محسوس ہوتا ہے، مہنگائی کی شرح، شرحِ نمو، زرمبادلہ کے ذخائر، مگر حقیقت میں یہ سب کچھ براہِ راست عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ آج پاکستان کا شہری جس دبا، بے یقینی اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، وہ کسی ایک پالیسی یا ایک سال کی غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جمع ہونے والے مسائل کا عکس ہے۔ انہی مسائل کے تناظر میں اب ایک نئی اصطلاح زیرِ بحث ہے: سٹیگفلیشن۔
سٹیگفلیشن محض ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ ایک پیچیدہ بحران کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے ایسی کیفیت جہاں معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جائے، مگر اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی بھی کم ہونے کے بجائے بلند سطح پر برقرار رہے۔ یہ ایک غیر معمولی اور مشکل صورتحال ہے کیونکہ عام حالات میں جب معیشت سست پڑتی ہے تو مہنگائی میں کمی آتی ہے، اور جب معیشت تیزی سے بڑھتی ہے تو مہنگائی بڑھنے لگتی ہے۔ مگر سٹیگفلیشن ان دونوں اصولوں کو ایک ساتھ چیلنج کرتی ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو معاشی اشاریے سامنے آ رہے ہیں، وہ اسی خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی مسلسل عوام کی قوتِ خرید کو کھا رہی ہے، دوسری طرف صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری کی رفتار میں وہ تیزی نہیں جو ایک صحت مند معیشت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں، جو اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
اگر ہم مہنگائی کے پہلو کو دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بجلی اور گیس کے بلوں میں غیر معمولی بڑھوتری، اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھائو نے گھریلو بجٹ کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک متوسط طبقے کا فرد جو چند سال پہلے تک اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے زندگی گزار سکتا تھا، آج بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہی۔
مہنگائی کا ایک بڑا سبب توانائی کے شعبے میں مسائل ہیں۔ پاکستان میں توانائی نہ صرف مہنگی ہے بلکہ اس کی فراہمی بھی غیر یقینی ہے۔ جب صنعتوں کو سستی اور مسلسل توانائی دستیاب نہ ہو تو ان کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں، جس کا بوجھ صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے نرخوں میں بار بار اضافہ بھی مہنگائی کو ہوا دیتا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ چونکہ پاکستان ایک درآمدی معیشت ہے، اس لیے جب روپے کی قدر کم ہوتی ہے تو درآمدی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔ تیل، گیس، خوردنی تیل، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں عالمی منڈی سے جڑی ہوتی ہیں، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مقامی مہنگائی میں ظاہر ہوتا ہے۔
عالمی معاشی حالات بھی پاکستان کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ جغرافیائی کشیدگیاں، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال، اور سپلائی چین کے مسائل نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہوں، ان کے لیے ایسے عالمی جھٹکے مزید نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
دوسری جانب اگر معاشی ترقی کی رفتار کو دیکھا جائے تو وہاں بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ صنعتی شعبہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا، زراعت کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، اور خدمات کا شعبہ بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ سرمایہ کاری میں کمی ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
سیاسی عدم استحکام بھی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ جب پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو اور حکومتیں بار بار تبدیل ہوں تو معاشی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔ سرمایہ کار اعتماد کھو دیتے ہیں اور طویل مدتی منصوبوں میں سرمایہ لگانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معیشت جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سٹیگفلیشن سے بچا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ اس کے لیے جامع اور مربوط پالیسیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف مہنگائی کو کنٹرول کریں بلکہ معاشی ترقی کو بھی فروغ دیں۔
سب سے پہلے توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کے بغیر صنعتی ترقی ممکن نہیں۔ اس کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں بدعنوانی اور نقصانات کو بھی کم کرنا ہوگا۔
برآمدات میں اضافہ ایک اور اہم قدم ہے۔ پاکستان کو اپنی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی بنانا ہوگا۔ اس کے لیے صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا، معیار کو بہتر بنانا، اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا ضروری ہے۔ جب برآمدات بڑھیں گی تو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا، جس سے معیشت کو استحکام ملے گا۔
ٹیکس نظام میں بہتری بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نیٹ بہت محدود ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہی۔ اگر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور ٹیکس چوری کو روکا جائے تو حکومتی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے، جسے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط بھی ضروری ہے۔ غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا اور وسائل کا موثر استعمال یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ قرضوں پر انحصار کم کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ زیادہ قرض معیشت پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔
سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا بھی اہم ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں کم آمدنی والے طبقات کو سہارا دینا ضروری ہے تاکہ وہ بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ یہ نہ صرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے بلکہ معاشرتی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
تعلیم اور ہنر کی ترقی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ایک ہنر مند افرادی قوت نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بناتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی ملک کی نمائندگی کرتی ہے۔ نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم اور تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر ہم سٹیگفلیشن کے ممکنہ اثرات کو دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران بھی بن سکتا ہے۔ غربت میں اضافہ، بے روزگاری میں اضافہ، اور معاشرتی بے چینی ایسے مسائل ہیں جو اس کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک امتحان کا وقت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں درست فیصلے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اگر پالیسی ساز دانشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں تو اس بحران کو ایک موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معیشت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی عمل ہے۔ کاروباری طبقہ، سرمایہ کار، اور عام شہری سب اس کا حصہ ہیں۔ اگر سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مثبت کردار ادا کریں تو مشکلات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
یہ وقت مایوسی کا نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ سوچ اور عملی اقدامات کا ہے۔ چیلنجز ضرور ہیں، مگر امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر ہم نے بروقت اور درست فیصلے کیے تو پاکستان نہ صرف اس بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور پائیدار معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سٹیگفلیشن کا خطرہ ایک وارننگ ہے، ایک ایسا اشارہ جو ہمیں بتا رہا ہے کہ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ فیصلے کرنے ہوں گے، اصلاحات لانی ہوں گی، اور ایک واضح سمت کا تعین کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو معاشی استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔





