Column

مصنوعات کی مہنگائی: ایک سماجی المیہ

مصنوعات کی مہنگائی: ایک سماجی المیہ
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی بھنور میں پھنسا ہوا ہے جہاں مہنگائی محض ایک عددی اشاریہ نہیں رہی بلکہ یہ عام آدمی کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرنے والی تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف عوام کی قوتِ خرید کو کھا رہا ہے بلکہ معاشرتی بے چینی، بداعتمادی اور بے یقینی کو بھی جنم دے رہا ہے۔ اشیائے خورونوش سے لے کر بچوں کے دودھ، ادویات اور گھریلو استعمال کی دیگر بنیادی چیزوں تک، ہر شے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں صرف عالمی یا حکومتی عوامل ہی شامل نہیں بلکہ مقامی سطح پر ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور مصنوعی قلت جیسے عوامل بھی اس آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ جب تاجر اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر ناجائز منافع کے حصول میں لگ جاتے ہیں تو اس کا براہِ راست بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔
عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ مہنگائی کا تعلق طلب و رسد سے ہوتا ہے۔ اگر کسی چیز کی طلب زیادہ مگر رسد کم ہو گی تو وہ چیز مہنگی ہو جائے گی لیکن یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں کا تعین اکثر طلب و رسد کے قدرتی اصولوں کے بجائے مفاد پرست عناصر کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ رمضان المبارک یا دیگر مواقع پر قیمتوں میں اچانک اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں کاروبار کو خدمت کے بجائے صرف منافع کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف قیمتوں کو کنٹرول کرے بلکہ مارکیٹ کے نظام کو شفاف اور منصفانہ بنائے۔
یہاں کچھ دلچسپ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا حکومت ایسا کر پائے گی؟ کر سکتی ہے؟ یا کرنا چاہتی ہے؟ ان تینوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ جب حکومت خود اسی فارمولے پر عمل پیرا ہو اور مصنوعی مہنگائی کر کے تاجروں کی طرح عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوانے پر یقین رکھتی ہو تو عام تاجروں کو مہنگائی کرنے سے کیسے روک سکتی ہے؟ آپ پٹرول کو لے لیجیے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ جائیں تو ہمارے ہاں فوراً اس کا اطلاق ہو جاتا ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو جائیں تو عوام کو فوری ریلیف دینے کی بجائے لیوی کی شرح بڑھا کر عوام کو فائدے سے محروم رکھا جاتا ہے۔ یہی حال بجلی کی قیمتوں کا ہے۔ صارف اپنے ہی خریدے ہوئے بجلی کے میٹر کا کرایہ بھی دیتا ہے اور ایک درجن کے قریب عجیب و غریب ٹیکسز بھی بھرتا ہے، یہی نہیں سرکار جب چاہتی ہے دو ماہ پہلے استعمال کی گئی بجلی کی قیمت بڑھا کر صارفین کی
جیبوں کا بوجھ ہلکا کر دیتی ہے۔ کیا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں سرکار اس طرح کی کارروائیاں کرتی ہے؟ یہ بھی کیسا عجیب تضاد ہے کہ سرکار خود سُود پر قرض لیتی ہے۔ اس کے زیرِ نگرانی چلنے والے بینکوں میں سود کا کاروبار ہوتا ہے لیکن عوام میں سے کوئی یہ پریکٹس کرے تو اس پر پرچہ کٹ جاتا ہے۔
بدقسمتی سے پرائس کنٹرول کے نظام میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے نرخ نامے جاری کیے جاتے ہیں، چھاپے مارے جاتے ہیں اور جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں مگر یہ اقدامات وقتی اور محدود اثر رکھتے ہیں۔ اصل مسئلہ عملدرآمد کا ہے۔ جب تک قوانین پر سختی سے اور بلا امتیاز عمل نہیں ہوگا تب تک مہنگائی کے اس طوفان کو روکنا ممکن نہیں۔ سرکار گراں فروشی پر جرمانے اس مقصد سے کرتی ہے کہ سرکاری خزانہ بھرنا ہے۔ گراں فروش اپنا نقصان پورا کرنے کے لیے مزید مہنگائی کر دیتا ہے۔ اس سارے عمل کا نقصان براہِ راست صارفین کو ہوتا ہے۔
اس بحران کا ایک اور پہلو عوامی رویوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہم خود بھی اکثر بغیر ضرورت اشیاء ذخیرہ کرتے ہیں، سستی چیز دیکھ کر زیادہ خریداری کر لیتے ہیں اور یوں طلب میں مصنوعی اضافہ کر دیتے ہیں۔ اس رویے سے نہ صرف قیمتیں بڑھتی ہیں بلکہ حقیقی ضرورت مند افراد مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اعتدال کو اپنائیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کا مستقل حل صرف وقتی اقدامات میں نہیں بلکہ طویل المدتی پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ، سپلائی چین کی بہتری، درآمدی انحصار میں کمی اور مقامی صنعتوں کا فروغ ایسے اقدامات ہیں جو قیمتوں کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شفاف نگرانی کا نظام، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے موثر پلیٹ فارم بھی ناگزیر ہیں۔ یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اخلاقی اقدار کو دوبارہ زندہ کریں۔ تجارت کو صرف نفع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک امانت سمجھا جائے۔ ہمارے دین اور ثقافت میں دیانت داری، انصاف اور اعتدال کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ اگر تاجر، صارف اور حکومتی ادارے اپنی اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کریں تو مہنگائی جیسے مسائل پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ مہنگائی کا مسئلہ صرف حکومت یا کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی چیلنج ہے۔ اس کا حل بھی اجتماعی شعور، سنجیدہ اقدامات اور مستقل مزاجی میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم نے بروقت اور درست فیصلے نہ کیے تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر نیت درست ہو، پالیسی واضح ہو اور عملدرآمد موثر ہو تو بہتری کی امید ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button