ColumnImtiaz Aasi

ایف آئی اے، زیر التوا مقدمات، افسران کے اثاثوں کی چھان بین ضروری

ایف آئی اے، زیر التوا مقدمات، افسران کے اثاثوں کی چھان بین ضروری
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان نظر سے گزرا، ایف آئی اے کی کارکردگی تسلی بخش ہوتی تو نیب کا ادارہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کا قیام 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں عمل میں لایا گیا جس کا مقصد چاروں صوبوں میں ہونے والی کرپشن کا انسداد تھا۔ بدقسمتی سے یہ ادارہ اپنے قیام سے اب تک کرپشن کے خلاف موثر اقدامات کرنے سے قاصر رہا۔ ہم وزیر داخلہ کے اس بیان کی تائید کرتے ہیں ایف آئی اے کرپشن کے خاتمے میں کمی کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ ایف آئی اے میں نہ جانے کون کون سے ونگ کام کر رہے ہیں لیکن یہ ادارہ اپنے اصل مقاصد پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ چند سال پہلے کی بات ہے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر تعینات ایک سب انسپکٹر اس قدر اثر و رسوخ کا مالک تھا اسے کوئی تبدیل کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ حسن اتفاق جدہ کے حج ٹرمینل پر میری اس افسر سے ملاقات ہو گئی میرے ایک دوست انہیں حج ٹرمینل پر لینے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں وہ سب انسپکٹر کانسٹیبل سے ترقی کرتے سب انسپکٹر کے عہدے پر پہنچا تھا۔ اس قدر اثر و رسوخ کا مالک تھا کوئی اسے تبدیل کرنے کا سوچ نہیں سکتا تھا۔ چند سال پہلے ایف آئی اے کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کو مبینہ کرپشن میں سزا ہوئی تو سینٹرل جیل راولپنڈی کے ہسپتال میں اس کا قیام تھا۔ ابھی چند روز گزرے تھے صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 45کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کی سزا معاف کر دی۔ سوال ہے جس ملک کا صدر کرپشن میں ملوث سرکاری ملازمین کی سزائیں معاف کر دے کیا اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے؟۔ گزشتہ روز ایک اردو معاصر کی خبر نظر سے گزری تو مجھے ہنسی آگئی ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے گزشتہ پانچ سالوں میں درج ہونے والے مقدمات اور ان میں سے زیرالتواء مقدمات کی چاروں صوبوں سے تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ اگر پانچ سالوں میں درج ہونے والے مقدمات کے چالان عدالتوں میں نہیں بھیجے گئے تو پھر بات سمجھ میں آجاتی ہے ایسے مقدمات میں ملزمان کو سزائیں کون دلوائے گا۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہمیں ناامید نہیں ہونا چاہیے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کچھ تو ایسے مقدمات پر کارروائی کریں گے لیکن اس کے ساتھ ہماری ڈائریکٹر جنرل سے گزارش ہے وہ ایف آئی اے کے افسران کے اثاثوں کی چھان بین ضرور کرائیں تاکہ انہیں اپنے محکمہ میں کام کرنے والے ان امراء افسران بارے علم ہو سکے جنہوں نے ایف آئی اے میں رہتے ہوئے بڑی بڑی جائیدادیں اندرون اور بیرون ملک بنائیں۔ عام طور پر ہم سیاست دانوں کے اثاثوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ہمیں سرکاری افسران کے اثاثوں کو بھی کھوج لگانا چاہیے تاکہ ملک کے عوام کو مبینہ کرپٹ افسران بارے بھی آگاہی ہو سکے۔ ملک میں کتنے لوگ حج عمرہ اور ٹریولنگ کا غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں ایف آئی اے ان میں سے بہت سو کو گرفتار بھی کرتی ہے ان میں سے کتنے ملزم سزا یاب ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جن دنوں راولپنڈی ریجن میں ڈاکٹر شعیب سڈل ڈی آئی جی تھے، وہ پولیس افسران سے ان کے پاس مقدمات کی تفصیلات طلب کرکے باز پرس کرتے تھے، آیا آپ نے کتنے ملزمان کو سزائیں دلوائی ہیں۔ ڈاکٹر شعیب سڈل ایسے افسران جن کے مقدمات چالان نہیں ہوتے تھے انہیں بڑی بڑی سزائیں دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ بعض موقعوں پر وہ پولیس افسران کو ملازمت سے برطرف کر دیا کرتے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے جناب ڈاکٹر عثمان انور سے جو ایک نہایت خوش اخلاق اور اچھے اعلیٰ پولیس افسر ہیں ، سے اگرچہ میری بالمشافہ ملاقات تو نہیں، مگر جن دنوں میں سزائے موت کا قیدی تھا جب میری بی کلاس کا معاملہ آیا تو ڈاکٹر صاحب محکمہ داخلہ پنجاب میں تھے۔ میرے ایک مہربان بیورو کریٹ نے سندھ سے انہیں میری بی کلاس کے لئے فون کیا تو وہ بہت اچھے طریقے سے پیش آئے اور انہیں درخواست بھیجنے کو کہا۔ ان کا کہنا تھا اگرچہ بی کلاس سیکرٹری داخلہ نے کرنی ہے مگر وہ سیکرٹری صاحب سے کرا لیں گے۔ گو میری بی کلاس تو ڈاکٹر جمال یوسف ایڈیشنل سیکرٹری صاحب نے کی، کیونکہ وہی قیدیوں کے معاملات کو ڈیل کرتے تھے، لیکن مجھے ڈاکٹر عثمان انور صاحب کی اعلیٰ ظرفی پر رشک آتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کا زیر التوا مقدمات کی تفصیلات طلب کرنا احسن اقدام ہے کم از کم انہیں سفارشی مقدمات بارے علم تو ہو سکے گا۔ صوبوں میں تعینات ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر انہیں مقدمات کو زیر التوا ر رکھنے کی وجوہات سے آگاہ کریں گے جس سے انہیں سفارشیوں کے بارے آگاہی ہو سکے گی۔ مملکت میں کرپشن کے خاتمے کے لئے ہر آنے والی حکومت نے ادارے بنائے، مگر کوئی بھی حکومت کرپشن میں ملوث ملزمان کو سزائیں دلوانے میں ناکام رہی ہے، جس کی بڑی وجہ صاحب اقتدار بذات خود مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ہوتے ہیں، لہذا ایف آئی اے سے باز پرس کون کرتا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں ایک سب انسپکٹر عہدے کے ملازم کو امیگریشن سے کوئی تبدیل نہیں کر سکا تو بڑے بڑے افسران کو کون پوچھے گا؟۔ مقدمات کے چالان عدالتوں میں بھی چلے جائیں تو یار لوگ فرد جرم نہیں لگنے دیتے۔ جس ملک میں صدر مملکت کرپشن میں سزا یاب ہونے والوں کی سزائیں معاف کر دیں اور سیاست دان اپنے خلاف مبینہ کرپشن کے مقدمات کو ختم کرانے کے لئے قوانین میں ترامیم کر لیں، کیا ایسے ملک سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے؟۔ سیاست دانوں نے غریب عوام کو بیوقوف بنایا ہوا ہے، بڑے بڑے سیاست دانوں اور اعلیٰ افسران نے اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں ایف آئی اے نے کتنے لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے؟۔ ہم ڈاکٹر عثمان انور صاحب سے پر امید ہیں وہ کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کرنے میں تاخیر نہیں کریں گے، جن جن ایف آئی اے افسران نے اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کرنے میں تاخیر نہیں کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button