Column

غذائی عدم تحفظ، ایک مہلک بحران

غذائی عدم تحفظ، ایک مہلک بحران

رفیع صحرائی
پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود آج جس سنگین مسئلے سے دوچار ہے وہ صرف معاشی بدحالی یا مہنگائی تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ’’ غذائی عدم تحفظ‘‘ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ عالمی رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں خوراک تک رسائی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، صحت اور مستقبل کا سوال ہے۔ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی روزانہ کی بنیاد پر مناسب غذا سے محروم ہے۔ قریباً 90ملین پاکستانی یعنی کل آبادی کا قریباً ایک تہائی افراد ایسے ہیں جو غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ لاکھوں افراد ایسے بھی ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔
پاکستان وہ ملک ہے جہاں گندم، چاول، سبزیاں اور پھل پیدا ہوتے ہیں مگر ان کی منصفانہ تقسیم اور عوام تک رسائی ایک خواب بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟
اس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور معاشی ڈھانچہ ہے۔ جب اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جائیں اور آمدنی میں اضافہ نہ ہو تو عام آدمی کے لیے خوراک کا حصول ایک مشکل ترین مرحلہ بن جاتا ہے۔ مہنگائی نے نہ صرف متوسط طبقے کو متاثر کیا ہے بلکہ نچلے طبقے کو غربت کی دلدل میں مزید دھکیل دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب غربت کا مطلب محدود وسائل تھا، مگر آج غربت کا مطلب بھوک اور فاقہ کشی بنتا جا رہا ہی۔
دوسری طرف، غذائی عدم تحفظ کی ایک بڑی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ہے۔ ہماری معاشی پالیسی صرف ایک نکتے کے گرد گھومتی ہے کہ عوام کی جیب سے پیسا کیسے نکلوانا ہے اور اس سے اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے کو کس طرح نوازنا ہے۔ ہمارے ہاں خوراک کی کمی نہیں بلکہ اس کی تقسیم کا نظام ناقص ہے۔ بڑے شہروں میں خوراک کا ضیاع عام ہے جبکہ دیہی علاقوں میں لوگ بنیادی غذائی ضروریات سے محروم ہیں۔ یہ تضاد نہ صرف ہماری معاشی پالیسیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ سماجی انصاف کے فقدان کو بھی عیاں کرتا ہے۔ ہماری معاشی پالیسی عوام سے روزگار اور عزتِ نفس چھین کر انہیں بے روزگار اور بھکاری بنانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے والے خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ قوم کو رمضان شریف میں مفت آٹے اور راشن کی لائنوں میں لگا دیا جاتا ہے جبکہ نئی سرکاری نوکریوں کے دروازے بند کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود سرکاری ملازمین سے نوکریاں چھین کر انہیں بھکاریوں کی قطاروں میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف ارب پتی عوامی نمائندوں کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
مزید برآں، موسمیاتی تبدیلیاں بھی خوراک کے بحران کو بڑھا رہی ہیں۔ غیر متوقع بارشیں، خشک سالی اور سیلاب زرعی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم جدید زرعی ٹیکنالوجی اور پائیدار پالیسیوں سے محروم ہیں، جو اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ زرعی پالیسی کے ناقص ہونے کا یہ حال ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال گندم کی کاشت کم رقبے پر کی گئی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کی سطح پر کچھ اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر وہ ناکافی ہیں۔ وقتی سبسڈیز یا امدادی پیکیجز مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی اپنائی جائے جس میں زرعی اصلاحات، قیمتوں کا کنٹرول اور خوراک کی منصفانہ تقسیم شامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے تاکہ خوراک کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
یاد رکھیے! غذائی عدم تحفظ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، نجی ادارے اور عوام سب مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں تاکہ ہر پاکستانی کو اس کا بنیادی حق یعنی مناسب غذا فراہم کیا جا سکے۔
مناسب غذا کی فراہمی کا موجودہ بحران خاموش ضرور ہے مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور تباہ کن ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں، ورنہ بھوک کی یہ آگ معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button