مشکلات سے مت گھبرائیں

ذرا سوچئے
مشکلات سے مت گھبرائیں
امتیاز احمد شاد
ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ایک ایسا الہامی پیغام ہے جو نہ صرف فردِ واحد بلکہ پوری قوم کے لیے امید، حوصلہ اور استقامت کا سرچشمہ ہے۔ قرآن مجید کی سورہ الشرح کی آیات 5۔6میں اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ اس حقیقت کو بیان کیا ہے تاکہ انسان کے دل میں یہ یقین راسخ ہو جائے کہ مشکلات عارضی ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ ہی آسانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ یہ پیغام خصوصاً آج کے دور میں پاکستانی قوم کے لیے نہایت اہم ہے، جو مختلف معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجز سے گزر رہی ہے۔ جب حالات سخت ہوں، وسائل محدود ہوں اور مستقبل غیر یقینی نظر آئے، تب یہی آیت انسان کو سہارا دیتی ہے کہ اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنے قیام کے وقت سے ہی مشکلات کا سامنا کرتا آیا ہے۔ تقسیم ہند کے دوران لاکھوں لوگوں کی ہجرت، وسائل کی کمی، انتظامی مسائل اور بعد ازاں جنگیں، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران، یہ سب ایسے چیلنج تھے جنہوں نے قوم کو بارہا آزمائش میں ڈالا۔ لیکن ان تمام حالات کے باوجود، پاکستانی قوم نے ہمیشہ ثابت کیا کہ وہ ایک مضبوط اور باہمت قوم ہے۔ ہر بحران کے بعد ایک نئی امید نے جنم لیا، ہر مشکل کے بعد ایک نئی راہ نکلی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس قرآنی آیت کی عملی تفسیر بن جاتی ہے۔
آج کے دور میں پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کمزوریاں، اور سیاسی کشمکش شامل ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے؛ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور متوسط طبقہ شدید دبا کا شکار ہے۔ بے روزگاری نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جس کے باعث نہ صرف معاشی پریشانی بڑھ رہی ہے بلکہ ذہنی دبا اور مایوسی بھی جنم لے رہی ہے۔ ایسے حالات میں ’’ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘ کا پیغام ایک روشنی کی کرن بن کر سامنے آتا ہے، جو یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ حالات ہمیشہ نہیں رہیں گے۔
پاکستانی قوم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتی۔ قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلے اور دیگر بحرانوں کے دوران قوم نے جس یکجہتی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں، اپنے وسائل بانٹتے ہیں اور اجتماعی طور پر مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم کے اندر ابھی بھی وہ جذبہ موجود ہے جو اسے ہر بحران سے نکال سکتا ہے۔ انسانی ہمدردی، اتحاد اور باہمی تعاون کی صورت میں یہی وہ آسانی ہے جو مشکل کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
سیاسی عدم استحکام بھی پاکستان کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ حکومتوں کی تبدیلی، اداروں کے درمیان کشیدگی اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس آیت کے پیغام کو سمجھیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ حالات بھی عارضی ہیں۔ اگر قیادت مخلص ہو، عوام باشعور ہوں اور ادارے مضبوط ہوں تو یہ مشکلات بھی آسانی میں بدل سکتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھتی ہیں اور مستقبل کے لیے بہتر حکمت عملی اپناتی ہیں۔
تعلیم کا شعبہ بھی پاکستان میں ایک اہم چیلنج ہے۔ لاکھوں بچے آج بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں، جس کے باعث ملک کی ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ لیکن اس مشکل کے ساتھ بھی آسانی موجود ہے۔نوجوان نسل میں سیکھنے کی لگن، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، اور آن لائن تعلیم کے مواقع۔ اگر ان وسائل کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو تعلیم کا شعبہ نہ صرف بہتر ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن بھی کر سکتا ہے۔
اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی کئی مسائل ہیں، جیسے ہسپتالوں کی کمی، طبی سہولیات کا فقدان اور ماہر ڈاکٹروں کی قلت۔ لیکن کرونا وبا کے دوران ہم نے دیکھا کہ کس طرح پاکستانی قوم نے محدود وسائل کے باوجود اس بحران کا مقابلہ کیا۔ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر خدمت انجام دی۔ قربانی، جذبہ اور خدمت کے روپ میں یہ بھی اس بات کی مثال ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی موجود ہوتی ہے۔
معاشی بحران پاکستان کے لیے ایک مسلسل چیلنج رہا ہے۔ قرضوں کا بوجھ، کرنسی کی قدر میں کمی اور درآمدات پر انحصار نی معیشت کو کمزور کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مواقع بھی موجود ہیں، جیسے زراعت، صنعت اور آئی ٹی سیکٹر میں ترقی کی گنجائش۔ اگر ان شعبوں پر توجہ دی جائے، نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے اور برآمدات کو فروغ دیا جائے تو یہی مشکلات معاشی استحکام میں بدل سکتی ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ واضح پیغام صرف صبر کی تلقین نہیں کرتا بلکہ عمل کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکلات سے گھبرا کر بیٹھ جانے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی کرنا ہو گا۔ مایوسی کو ترک کر کے امید کو اپنانا ہوگا، اختلافات کو بھلا کر اتحاد پیدا کرنا ہوگا اور محنت کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ جب ایک قوم اجتماعی طور پر مثبت سوچ اپناتی ہے تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتی ہے۔
نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ اگرچہ وہ بے روزگاری اور مواقع کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے اندر بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر انہیں درست سمت دی جائے، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی طاقت اور صلاحیت کی صورت میں یہ بھی اس آیت کا عملی مظہر ہے کہ مشکل کی ساتھ آسانی موجود ہوتی ہے۔
بطورمومن ہمارا ایمان ہے کہ ’’ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘ صرف ایک تسلی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے ہمیں اپنے رویوں اور اعمال میں شامل کرنا ہوگا۔ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ وہ اس پیغام کو اپنے دلوں میں جگہ دے، مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر امید کی روشنی کو اپنائے اور اجتماعی کوششوں سے اپنے مسائل کا حل تلاش کرے۔ مشکلات چاہے جتنی بھی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر ایمان مضبوط ہو، ارادہ پختہ ہو اور عمل مسلسل ہو تو آسانی ضرور نصیب ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔





