Column

شرح سود میں اضافہ

شرح سود میں اضافہ
موجودہ عالمی معاشی صورتحال اس وقت ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تنائو نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھائو، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بے یقینی صورت حال نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ پاکستان بھی ان عالمی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا اور درآمدی اخراجات، خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ملکی معیشت پر دبائو ڈالا ہے۔ اس تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ ایک اہم اور سوچا سمجھا فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے تحت شرح سود کو 10.50فیصد سے بڑھا کر 11.50فیصد کرنا بظاہر ایک سخت قدم ضرور محسوس ہوتا ہے، لیکن معاشی حقائق کو دیکھا جائے تو یہ اقدام افراطِ زر کو کنٹرول کرنے اور روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کی ایک حکمت عملی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں جاری جنگی صورتحال کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت پر پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کے دبائو میں اضافہ ایک فطری امر ہے۔ معاشی ماہرین بھی اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں مانیٹری پالیسی کو سخت رکھنا ناگزیر تھا تاکہ درآمدی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جاسکے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ خوراک، بجلی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء پر بھی پڑتا ہے، جس سے مجموعی مہنگائی کی شرح متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اسٹیٹ بینک کا فیصلہ معیشت کو ایک مستحکم راستے پر رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دوسری جانب اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC)کے حالیہ اجلاس میں جو فیصلے کیے گئے ہیں، وہ بھی مجموعی طور پر ایک فعال اور ذمے دارانہ معاشی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اجلاس میں پی آئی اے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے قریباً 5ارب 98کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جو قومی اداروں کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اسی طرح پنشن، تنخواہوں اور میڈیکل ادائیگیوں کے لیے فنڈز کی فراہمی اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اپنے ملازمین اور اداروں کی ضروریات کو ترجیح دے رہی ہے۔ ای سی سی کے اجلاس میں مختلف دیگر اہم فیصلے بھی کیے گئے جن میں آٹو پارٹس اور گاڑیوں کی عارضی درآمد کی اجازت اور جبری مشقت سے تیار شدہ اشیاء کی درآمد پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ فیصلے نہ صرف ملکی صنعت کو تحفظ دینے کی کوشش ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے تجارتی وقار کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں سرکاری افسران کے لیے فنڈز کی منظوری اور نیب کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے فنڈز کی فراہمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت ادارہ جاتی اصلاحات اور جدیدیت کی طرف سنجیدہ ہے۔ خاص طور پر قومی ہاکی ٹیم کے لیے انعامی رقم کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے، جو ایک مثبت رجحان ہے۔ ایسے فیصلے نوجوانوں میں امید اور اعتماد پیدا کرتے ہیں اور قومی سطح پر مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال پر ای سی سی کو دی جانے والی بریفنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی ضروری اشیاء جیسے ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ یہ ایک خوش آئند اشارہ ہے کہ حکومتی اقدامات اور مارکیٹ کی پالیسیوں کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اگرچہ کچھ اشیاء جیسے انڈے، چکن، دالیں اور دودھ کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، لیکن مجموعی طور پر حساس قیمتوں کے اشاریے میں استحکام کا رجحان معیشت کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے معیشت کو مکمل طور پر مستحکم رکھنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، عالمی توانائی بحران اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام نے پوری دنیا کی اقتصادی پالیسیوں کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی پالیسیوں کو عالمی حالات کے مطابق ڈھالیں تاکہ معیشت کو نقصان سے بچایا جاسکے۔ حالیہ اقدامات، چاہے وہ مانیٹری پالیسی ہو یا ای سی سی کے فیصلے، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ عوام کو قلیل مدت میں کچھ مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، لیکن یہ اقدامات طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں درست فیصلے، بروقت پالیسی سازی اور عالمی حالات کی بہتر سمجھ بوجھ ہی معیشت کو استحکام دے سکتی ہے۔ حکومت کے حالیہ اقدامات اس بات کی امید دلاتے ہیں کہ ملک بتدریج معاشی بہتری کی جانب گامزن ہے اور اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو آنے والے وقتوں میں اس کے مثبت نتائج ضرور سامنے آئیں گے۔
خوراک کا بحران
اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کرنا جہاں فوری غذائی اقدامات ناگزیر ہیں، ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2025ء کے دوران تقریباً 1کروڑ 10لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو بحران اور ہنگامی حالات کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی چیلنجز کی عکاس ہے بلکہ ایک وسیع تر سماجی و ماحولیاتی بحران کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہ میں موسمیاتی تبدیلی، شدید بارشیں، سیلاب اور زرعی پیداوار میں کمی شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں آنے والی قدرتی آفات نے نہ صرف فصلوں کو نقصان پہنچایا بلکہ دیہی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی روزی روٹی متاثر ہوئی ہی۔ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا جیسے علاقے سب سے زیادہ متاثرہ قرار دئیے گئے ہیں، جہاں بنیادی سہولتوں کی کمی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت، صاف پانی، صفائی کے ناقص نظام اور بیماریوں کے پھیلا نے بھی غذائی بحران کو گہرا کیا ہے۔ غذائیت کی کمی کے باعث بچوں اور کمزور طبقات پر اس کے دیرپا اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جو ملک کے انسانی ترقی کے اشاریوں کے لیے خطرناک ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں سے مکمل ڈیٹا کی عدم دستیابی پالیسی سازی میں مشکلات پیدا کر رہی ہے، جو صورتحال کی درست شدت کو سمجھنے میں رکاوٹ ہے۔ مزید برآں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور 2026ء میں اس کے مزید بڑھنے کے خدشات بھی غذائی بحران کو شدید بنا سکتے ہیں۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ عام شہری کی پہنچ سے بنیادی خوراک کو دور کر رہا ہے، جس سے غذائی عدم تحفظ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور عالمی ادارے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ زرعی اصلاحات، آفات سے نمٹنے کی بہتر منصوبہ بندی اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button