فکری جائیداد کی حفاظت

فکری جائیداد کی حفاظت
تحریر: رفیع صحرائی
دنیا کی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ قوموں کی ترقی کا اصل سرمایہ نہ سونا ہے، نہ چاندی اور نہ ہی محض قدرتی وسائل ہیں بلکہ اصل محرک وہ ’’ خیال‘‘ ہے جو انسانی ذہن میں جنم لیتا ہے اور پھر محنت، تحقیق اور جدت کے سانچے میں ڈھل کر دنیا کو نئی سمت عطا کرتا ہے۔ گویا دنیا میں ترقی کی رفتار کا راز اگر کسی ایک عنصر میں تلاش کیا جائے تو وہ ’’ خیال‘‘ ہے۔ یہی خیال جب تحقیق، محنت اور اور تخلیقی صلاحیت کے ساتھ جڑتا ہے تو ایجادات، فنون اور نئی راہیں جنم لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 26اپریل کو منایا جانے والا جائیدادِ فکری کا عالمی دن محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک فکری لمحہ احتساب ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم خیالات کی اس دولت کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں یعنی سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس "خیال” کی قدر کرتے ہیں؟
یہ دن World Intellectual Property Organizationکے زیرِ اہتمام عالمی سطح پر 2000ء سے منایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد انسانی تخلیقات، چاہے وہ ادب ہو، موسیقی، سافٹ ویئر، سائنسی ایجادات یا تجارتی برانڈز ہوں، کو تحفظ دینا اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ بظاہر یہ ایک غیر محسوس اثاثہ ہے مگر حقیقت میں یہی وہ قوت ہے جو معیشتوں کو استحکام، صنعتوں کو جدت اور معاشروں کو فکری بالیدگی عطا کرتی ہے۔ یہ وہ اثاثہ ہے جسے دیکھا نہیں جا سکتا مگر اس کی قدر کسی بھی مادی دولت سے کم نہیں ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جائیدادِ فکری کا شعور ابھی تک ناپید نہیں تو کم از کم انتہائی کمزور ضرور ہے۔ یہاں نقل کو ہنر سمجھ لیا گیا ہے، دوسروں کی تخلیق کو اپنی کامیابی کا زینہ بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی، اور جعلی مصنوعات کی بھرمار کو ایک معمول کا کاروبار سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ محض قانون شکنی نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی المیہ ہے کیونکہ جب ایک تخلیق کار کا خیال چرایا جاتا ہے تو دراصل اس کی محنت، وقت اور ذہنی کاوش کی تذلیل کی جاتی ہے۔
برصغیر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص دوسرے کی فکری جائیداد یا اختراع پر ڈاکہ ڈالنا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ بھارت اور پاکستان دونوں نے ایک دوسرے کی پوری پوری فلموں کا ڈائیلاگز سمیت چربہ کیا ہے۔ پاکستانی فلمی گیت اور دُھنیں بھارت نے دیدہ دلیری سے چرائی ہیں۔ ہمارے ہاں اصل سے پہلے نقل مارکیٹ میں آ جاتی ہے۔ مشہور برانڈز کے کاسمیٹکس، پرفیومز، کپڑا اور مشروبات کی سرِعام نقل تیار کی جاتی ہے مگر کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ یہی صورتِ حال ادب کے میدان میں ہے۔ خیال کے علاوہ شعراء کرام دوسروں کے مصرعے اور پورے شعر تک سرکہ کر لیتے ہیں۔
یہ انفرادی بددیانتی اجتماعی نقصان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جب کسی لکھاری، موجد یا فنکار کو اس کے کام کا صلہ نہیں ملتا تو ایسی صورت میں اس کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً معاشرہ تخلیقی قوت سے محروم ہونے لگتا ہے اور جمود اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے ترقی یافتہ دنیا بخوبی سمجھ چکی ہے۔ وہاں جائیدادِ فکری کے تحفظ کو ریاستی پالیسی کا مرکزی ستون بنایا گیا ہے، جہاں ایک چھوٹے سے خیال کو بھی قانونی حصار فراہم کیا جاتا ہے تاکہ تخلیق کا سفر جاری رہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ معاملہ محض قانونی نہیں بلکہ وجودی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے نوجوان ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور جدت سے مالا مال ہیں۔ آئی ٹی، ادب، فنونِ لطیفہ اور سائنس کے میدانوں میں بے شمار روشن دماغ موجود ہیں، مگر انہیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ تحفظ اور اعتماد ہے۔ اگر ہم نے ان کے خیالات کو محفوظ نہ کیا تو یہ صلاحیتیں یا تو زوال کا شکار ہو جائیں گی یا پھر سرحدوں کے پار بہتر مواقع کی تلاش میں ہجرت کر جائیں گی۔
ڈیجیٹل دور نے جہاں علم تک رسائی کو آسان بنایا ہے وہیں جائیدادِ فکری کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کر دئیے ہیں۔ اب ایک کلک کے ذریعے کسی کی تخلیق کو نقل کرنا نہایت آسان ہو چکا ہے۔ یہی آسانی درحقیقت سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہے، جو ہمیں اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کا ازسرِ نو تعین کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔
اس دن کو منانے کا اصل تقاضا تقاریر اور بیانات نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو یہ شعور دینا ہوگا کہ نقل کامیابی نہیں بلکہ تخلیق ہی اصل کامیابی ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے مستقل آگاہی پیدا کرے جبکہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ نہ صرف موثر قوانین وضع کرے بلکہ ان پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔
ہمیں کبھی حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ خیالات سے زندہ رہتی ہیں۔ جائیدادِ فکری کا عالمی دن دراصل ہمارے لیے ایک آئینہ ہے۔ اگر ہم نے اس آئینے میں اپنی کمزوریوں کو پہچان کر اصلاح نہ کی تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانا ہمارا مقدر بن جائے گا۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ’’ خیال‘‘ کو محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک قیمتی امانت سمجھیں کیونکہ محفوظ خیالات ہی مضبوط قوموں کی بنیاد رکھتے ہیں۔




