Column

امن کی جانب بڑھتے قدم

اداریہ۔۔۔

امن کی جانب بڑھتے قدم

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے، جہاں جنگ، امن اور سفارت کاری ایک ہی وقت میں متحرک نظر آتے ہیں۔ حالیہ پیش رفت کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ یہ اعلان ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل‘‘ پر سامنے آیا، جس میں انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے امن کے لیے وقتی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کی اس پیش رفت کو ایک مثبت اشارہ قرار دیا جارہا ہے، تاہم خطے کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عارضی جنگ بندیاں اکثر دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہوپاتیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازعات کی جڑیں گہری ہیں، اس لیے اس جنگ بندی کو ایک ابتدائی قدم کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، مکمل حل کے طور پر نہیں۔ اسی دوران امریکی صدر کے ایران سے متعلق بیانات نے عالمی سفارت کاری میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہے اور ممکن ہے کہ اگلی ملاقات ہفتے کے آخر میں ہو۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرے گا بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثر ڈالے گا، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی میں کمی کی صورت میں۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا جس پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام پر سخت موقف برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کشمکش میں سفارت کاری ایک نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ دلچسپ امر کہ اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر نے پاکستان کی قیادت، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’’ زبردست آدمی‘‘ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ اس کردار کی تفصیلات واضح نہیں، لیکن یہ بات اہم ہے کہ پاکستان ایک بار پھر خطے میں ثالثی اور سفارت کاری کے میدان میں فعال نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت ہمیشہ سے اسے ایک قدرتی رابطہ کار بناتی رہی ہے۔ ایران، چین، خلیجی ممالک اور مغرب کے درمیان توازن قائم رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ موجودہ صورت حال میں اگر پاکستان واقعی کسی سفارتی پل کا کردار ادا کررہا ہے تو یہ اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے، بشرطیکہ یہ کردار مستقل، متوازن اور عالمی اصولوں کے مطابق ہو۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا نیک شگون ہے۔ یہ دنیا کے توانائی کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل منڈی کو فوری متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے اس خطے میں کوئی بھی عسکری یا سیاسی کشیدگی صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے یہ دعوے کہ اگر ایران سے معاہدہ ہوگیا تو تیل کی قیمتیں اور مہنگائی کم ہوجائے گی، ایک معاشی حقیقت کی عکاسی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بین الاقوامی معاہدے صرف بیانات سے نہیں بلکہ طویل مذاکرات، باہمی اعتماد اور عملی اقدامات سے وجود میں آتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ مگر امید افزا دور کی نشاندہی کرتی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو یا آبنائے ہرمز کا کھلنا، اس پر ٹرمپ کا اظہار تشکر اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات، ہر پیش رفت ایک نئے امکان کا دروازہ کھولتی ہے۔ تاہم یہ امکانات اس وقت تک حقیقی امن میں تبدیل نہیں ہوسکتے جب تک تمام فریق سنجیدگی، تسلسل اور اعتماد کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے نہ بڑھائیں۔ پاکستان کے لیے یہ وقت نہایت اہم ہے کہ وہ اپنی سفارتی پوزیشن کو ذمے داری کے ساتھ استعمال کرے اور خطے میں امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ بھی مزید مضبوط ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا ہے۔ ایسے میں دانش مندانہ سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو خطے کو مستقل امن کی طرف لے جاسکتی ہے۔

 

 

 

 

شذرہ۔۔

بحریہ کا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

پاک بحریہ کی جانب سے شمالی بحیرہ عرب میں مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تجربہ نہ صرف عسکری اعتبار سے ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ اس بات کا واضح ثبوت بھی ہے کہ پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی میں خودانحصاری کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاک بحریہ کے جہاز سے فائر کیے گئے اس برق رفتار میزائل نے طویل فاصلے پر موجود ہدف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ جدید گائیڈنس سسٹم سے لیس یہ میزائل دشمن کے دفاعی نظام کو ناکام بنانے اور پیچیدہ حالات میں بھی ہدف کو کامیابی سے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کامیاب تجربے نے پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اس موقع پر نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سمیت اس منصوبے سے وابستہ سائنسدانوں اور انجینئرز کی موجودگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ یہ کامیابی محض عسکری نہیں بلکہ سائنسی و تکنیکی محنت کا نتیجہ ہے۔ صدرِ پاکستان، وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے اس کامیابی پر مبارکباد بھی اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بحیرہ عرب جیسے اہم سمندری راستے میں دفاعی صلاحیتوں کا مضبوط ہونا پاکستان کے لیے اسٹرٹیجک لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ یہ نہ صرف ملکی سمندری حدود کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے بلکہ علاقائی طاقتوں کے توازن میں بھی ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آتا ہے۔ مزید برآں، مقامی سطح پر اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کی تیاری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان دفاعی شعبے میں بیرونی انحصار کم کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرے گا بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید ترقی کے دروازے بھی کھولے گا۔ تاہم اس پیش رفت کے ساتھ یہ ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کو خطے میں امن و استحکام کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ کشیدگی میں اضافے کے لیے۔ مضبوط دفاع ہمیشہ امن کا ضامن ہوتا ہے، بشرطیکہ اسے دانش مندی اور حکمت کے ساتھ بروئے کار لایا جائے۔ مجموعی طور پر یہ میزائل تجربہ پاکستان کی دفاعی خود انحصاری، تکنیکی مہارت اور بحری طاقت میں ایک نمایاں اضافہ ہے، جو مستقبل میں مزید ترقی کی راہیں ہموار کرے گا۔

جواب دیں

Back to top button