قومی ٹیم کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست

قومی ٹیم کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست
میری بات
روہیل اکبر
بنگلا دیش کے خلاف سیریز کے پہلے ون ڈے میں پاکستان ٹیم کی عبرت ناک شکست نے ٹیم کے کاریگروں کا بھرم کھول دیا جنکی وجہ سے پوری ٹیم صرف 114رنز پر ڈھیر ہوگئی ڈھاکہ کے شیر بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا نے والے 3میچز کی سیریز کے پہلے میچ کا ٹاس مہمان ٹیم کے کپتان مہدی حسن مرزا نے جیت کر پہلے پاکستانی ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ قومی ٹیم کی جانب سے صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت کے پہلی وکٹ کی شراکت میں 41 رنز بن پائے صاحبزادہ فرحان کے آئوٹ ہوتے ہی بیٹنگ لائن لڑ کھڑا گئی اور70کے مجموعی اسکور پر 6کھلاڑی آئوٹ ہوگئے، صاحبزادہ فرحان 27رنز، معاذ صداقت 18، شامل حسین 4، محمد رضوان 10، سلمان علی آغا 5رنز اور عبدالصمد صفر پر پولین لوٹ گئے ان کے بعد آنے والے بلے باز بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور پوری ٹیم 31ویں اوور میں صرف 114رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ آل رائونڈر فہیم اشرف 37رنز بنا کر سب سے کامیاب بلے باز رہے جبکہ شاہین آفریدی 7اور محمد وسیم صفر پر آئوٹ ہوئے۔ یاد رہے کہ صاحبزادہ فرحان، معاذ صداقت، شامل حسین اور عبدالصمد اپنے کیریئر کا پہلا ون ڈے میچ کھیل رہے ہیں، صاحبزادہ فرحان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء میں بھی ٹاپ اسکورر رہ چکے ہیں بنگلا دیش کی جانب سے ناہید حسین نے شاندار بائولنگ کی اور 7اوورز میں 25رنز دے کر 5کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ بنگلادیش نے 144کا ہدف 16ویں اوور میں 2وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا، تنزید حسن 67رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے، نجم الحسن شانٹو نے 27رنز بنائے، شاہین آفریدی اور محمد وسیم نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ بنگلہ دیش ٹیم کے کھلاڑیوں میں مہدی حسن مرزا ( کپتان)، سیف حسن، تنزید حسن، توحید ہردوئے، نجم الحسن شانتو، لٹن داس ( وکٹ کیپر)، عفیف حسین، رشاد حسین، تسکین احمد، ناہید رانا اور مستفیض الرحمٰن شامل ہیں جبکہ پاکستان ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی ( کپتان)، صاحبزادہ فرحان، معاذ صداقت، شامل حسین، محمد رضوان ( وکٹ کیپر)، سلمان آغا، حسین طلعت، عبدالصمد، فہیم اشرف، محمد وسیم، ابرار احمد شامل ہیں، جنہوں نے بنگلہ دیش سے بری طرح شکست کھائی۔
بنگلہ دیش ایک ایسا ملک ہے جو کبھی پاکستان کے مقابلے میں کرکٹ میں کمزور سمجھا جاتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی ٹیم کو منظم کیا، ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط بنایا اور نوجوان کھلاڑیوں کو آگے لانے پر توجہ دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج وہی بنگلہ دیش پاکستان جیسی ٹیم کو شکست دے کر دنیا کو حیران کر رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی ٹیم میں عدم تسلسل، ناقص حکمت عملی اور ٹیم سلیکشن کے مسائل مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ کبھی بیٹنگ لائن لڑکھڑا جاتی ہے تو کبھی بائولنگ میں وہ کاٹ نظر نہیں آتی جو کبھی پاکستان کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ ٹیم میں بار بار تبدیلیاں، کپتانی کے معاملات اور بورڈ کی پالیسیوں نے بھی ٹیم کے استحکام کو متاثر کیا ہے یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر وہ ٹیم جو ماضی میں عالمی کرکٹ پر حکمرانی کرتی رہی آج اس قدر غیر یقینی صورتحال کا شکار کیوں ہے؟۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان نے دنیا کرکٹ کو عظیم لیجنڈز دئیے جنہوں نے پاکستان کو عالمی کرکٹ میں عزت اور وقار دلایا مگر آج وہی ٹیم بنیادی غلطیوں کا شکار نظر آتی ہے۔ اس شکست کو صرف ایک میچ کی ہار سمجھ کر نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا یہ دراصل ہمارے کرکٹ سسٹم کے لیے ایک وارننگ ہے اگر ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط نہ کیا گیا، میرٹ کو یقینی نہ بنایا گیا اور نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع نہ دئیے گئے تو مستقبل میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ اس شکست سے سبق سیکھیں اور قومی ٹیم کو دوبارہ اس مقام تک پہنچائیں جہاں وہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتی تھی کیونکہ کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ قوم کے وقار کا مسئلہ بھی ہے کرکٹ برصغیر کا سب سے مقبول کھیل ہے اور پاکستان میں تو اسے ایک خاص درجہ حاصل ہے، جب بھی پاکستان کرکٹ ٹیم میدان میں اترتی ہے تو پوری قوم کی نظریں اس پر جمی ہوتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں ایک حقیقت واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ کبھی پاکستان کے مقابلے میں کمزور سمجھی جانے والی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم آج ایک مضبوط حریف بن چکی ہے، بنگلہ دیش کی کرکٹ کی بنیاد اس دور میں پڑی جب وہ پاکستان کا حصہ تھا۔
1971ء میں علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش نے آہستہ آہستہ اپنی کرکٹ کو منظم کیا۔ 1997ء میں آئی سی سی ٹرافی جیتنے کے بعد بنگلہ دیش نے عالمی کرکٹ میں قدم رکھا اور پھر سال 2000میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اسے ٹیسٹ اسٹیٹس دے دیا، یہ لمحہ بنگلہ دیشی کرکٹ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے دوسری جانب پاکستان کی کرکٹ ایک شاندار ماضی رکھتی ہے پاکستان نے دنیا کو ایسے عظیم کھلاڑی دئیے جنہوں نے عالمی کرکٹ پر راج کیا۔ عمران خان کی قیادت میں 1992ء کا ورلڈ کپ جیتنا پاکستان کے لیے ایک سنہری باب تھا اسی طرح وسیم اکرم، وقار یونس، عبدالقادر اور شعیب اختر جیسے بائولرز نے دنیا بھر کے بلے بازوں کو پریشان کیے رکھا، اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلے جانے والے میچوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو مجموعی طور پر پاکستان کو برتری حاصل رہی ہے۔ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوءنٹی تینوں فارمیٹس میں پاکستان نے زیادہ فتوحات حاصل کیں تاہم گزشتہ چند برس میں صورتحال تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ بنگلہ دیش نے نہ صرف اپنی سرزمین پر پاکستان کو شکست دی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کی ہے بنگلہ دیش کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کا مضبوط ڈومیسٹک سسٹم اور نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد ہے جنہوں نے اپنی کارکردگی سے ٹیم کو نئی شناخت دی یہ حقیقت پاکستان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے اگر ہم ماضی کی کامیابیوں پر ہی فخر کرتے رہے اور اپنے کرکٹ نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق نہ ڈھالا تو وہ دن دور نہیں جب دوسری ابھرتی ہوئی ٹیمیں بھی ہمیں پیچھے چھوڑ دیں گی۔
پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ میرٹ کو یقینی بنایا جائے ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط کیا جائے اور نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد دیا جائے کہ بغیر سفارش کے میرٹ پر بھی کھلاڑی رکھے جاتے ہیں کیونکہ کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ قومی وقار کا مسئلہ بھی ہے اگر پاکستان نے بروقت اصلاحات کر لیں تو وہ دن دوبارہ آ سکتا ہے جب قومی ٹیم عالمی کرکٹ میں اپنی پرانی شان و شوکت کے ساتھ نظر آئے گی ورنہ ہاکی کی طرح تاریخ ہمیں یاد دلاتی رہے گی کہ جو قومیں سیکھنا چھوڑ دیتی ہیں، وہ مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں رہی بات پاکستانی قوم کی جو ہمیشہ اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور شکست کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑتی۔





