مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور امن کا سوال

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور امن کا سوال
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی جنگ کی لپیٹ میں ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی سیاست، معیشت اور سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں۔ امریکا و اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے عالمی منظر نامے کو نہایت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حالیہ بیانات اور واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تنازع صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ سیاسی بیانیوں، سفارتی حکمت عملی اور طاقت کے اظہار کا بھی ایک بڑا میدان بن چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات، ایرانی حکومت کا ردعمل اور میدانِ جنگ میں جاری حملے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ صورت حال ابھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا نے ایران کی طاقت کو وقت سے پہلے ہی ختم کردیا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ایران کے پانچ ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور ایران کی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ ٹرمپ کا یہ موقف دراصل امریکی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے یا یہ محض ایک سیاسی بیان ہے جو داخلی اور خارجی مقاصد کے لیے دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران ایک ہفتے کے اندر امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملہ کر دیتا۔ اس بیان سے امریکا اپنے حملوں کو دفاعی اقدام کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی سیاست میں یہ ایک پرانا حربہ ہے کہ پیشگی حملے کو ممکنہ خطرے کے خاتمے کے طور پر بیان کیا جائے۔ امریکا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آجاتے تو صورت حال انتہائی خطرناک ہوسکتی تھی۔ یہی دلیل گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کے خلاف پابندیوں اور دبائو کی بنیاد بنتی رہی ہے۔ دوسری جانب ایران نے اس جنگ کے بارے میں ایک مختلف بیانیہ پیش کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی، لیکن ہم اسے ختم ضرور کریں گے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اس پر حملہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ثالثی یا مذاکرات ہونے ہیں تو ان کا مقصد صرف جنگ بندی نہیں ہونا چاہیے بلکہ حملوں کے مکمل خاتمے اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی روک تھام کی ضمانت بھی ضروری ہے۔ ایران کا یہ موقف اس کی سفارتی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ عالمی برادری کے سامنے خود کو ایک متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے اس موقف کو خطے کی حالیہ صورتحال بھی کسی حد تک تقویت دیتی ہے۔ تہران پر ہونے والی شدید بمباری اور شہری ہلاکتوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی ہے۔ رسالت اسکوائر کے قریب بمباری میں درجنوں افراد کی ہلاکت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امن کے حامی حلقے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایران نے ان حملوں کا جواب بھی بھرپور انداز میں دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران نے اپنے مختلف میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے فوجی اڈوں، انٹیلی جنس مراکز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس اب بھی طاقتور میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتیں ختم نہیں ہوئیں۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ ابھی ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں دونوں فریق اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس تنازع کا ایک اہم پہلو خلیج میں توانائی کے وسائل اور عالمی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات بھی ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر فوری محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس راستے کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں جبکہ ایران اسے اپنی دفاعی حکمت عملی کے ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس جنگ کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے بلکہ خلیجی ممالک بھی اس کے دائرے میں آتے جارہے ہیں۔ بحرین، کویت اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں کی جانب میزائل داغے جانے کے دعووں نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو یہ پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے ۔ دلچسپ بات کہ اس جنگ کے دوران بیانات اور دعووں میں بھی واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف امریکا کا دعویٰ ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت قریباً ختم ہوچکی ہے جبکہ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اب بھی طاقتور ہتھیاروں اور میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں جن میں بعض کو بعد میں خود امریکی حکام نے مسترد کر دیا۔ یہ صورت حال اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ جنگ صرف میدان میں ہی نہیں بلکہ معلومات اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ جیتنے کے دعوے کرنا آسان ہے لیکن پائیدار امن قائم کرنا انتہائی مشکل عمل ہوتا ہے۔ اگر اس تنازع کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے استعمال نے اکثر مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ عالمی برادری فوری اور مثر سفارتی کردار ادا کرے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔ جنگ بندی کے ساتھ ایک ایسا سیاسی حل تلاش کرنا ضروری ہے جو خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکے۔ آخرکار یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ کسی بھی جنگ میں اصل نقصان انسانیت کا ہوتا ہے۔ چاہے وہ تہران کے شہری ہوں، یا کسی اور ملک کے عوام، جنگ کے اثرات سب کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے طاقت کے اظہار کے بجائے امن اور مکالمے کی راہ اختیار کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جو خطے اور دنیا کو ایک نئی تباہی سے بچا سکتا ہے۔
فضائی کرایوں میں بڑا اضافہ
پاکستان میں جیٹ فیول کی قیمت میں نمایاں اضافے کے بعد ملکی اور بین الاقوامی فضائی سفر مہنگا ہونا ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس کے اثرات عام مسافروں سے لے کر معیشت کے مختلف شعبوں تک محسوس کیے جارہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جیٹ فیول کی قیمت میں 154روپے فی لٹر اضافہ کیے جانے کے بعد اس کی قیمت 342روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایئرلائنز نے فوری طور پر اپنے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ڈومیسٹک پروازوں پر فی ٹکٹ 2800سے 5ہزار روپے جبکہ بین الاقوامی پروازوں پر 10ہزار سے 28ہزار روپے تک اضافے نے فضائی سفر کو مزید مہنگا بنادیا ہے۔ فضائی کمپنیوں کا موقف ہے کہ جیٹ فیول ان کے آپریشنل اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے، اس لیے اس میں اچانک اور بڑا اضافہ براہ راست ٹکٹ قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ عام مسافروں پر پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے، وہاں سفر کے اخراجات میں مزید اضافہ لوگوں کے لیے مشکلات بڑھنے کا باعث بن رہا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو کاروباری، تعلیمی یا خاندانی وجوہ کی بنا پر اکثر سفر کرتے ہیں، ان کے لیے فضائی سفر بتدریج ایک مہنگی سہولت بنتا جارہا ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کے کرایوں میں ہونے والا اضافہ بھی تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان سے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیائی ممالک کے لیے کرایوں میں 15ہزار روپے تک اضافہ جبکہ ٹورنٹو اور مانچسٹر جیسی طویل فاصلے کی پروازوں کے کرایوں میں 28ہزار روپے تک اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس کا اثر نمایاں ہوگا۔ ٹورنٹو اور مانچسٹر کی اکانومی کلاس کا یک طرفہ کرایہ ڈھائی لاکھ روپے سے تجاوز کر جانا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ بیرون ملک سفر عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال صرف مسافروں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات سیاحت، کاروبار اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آمدورفت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ مہنگے کرایوں کی وجہ سے مسافروں کی تعداد میں کمی آسکتی ہے، جس سے ایئر لائنز کے کاروبار اور ملکی سیاحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ایندھن کی قیمتوں کے تعین اور فضائی شعبے کی پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور کریں تاکہ مسافروں پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جاسکے۔ متوازن پالیسی ہی اس شعبے کو مستحکم اور عوام کے لیے قابل رسائی بنا سکتی ہے۔





