بلّھے شاہ پسنجر ٹرین کی بحالی

بلّھے شاہ پسنجر ٹرین کی بحالی
رفیع صحرائی
پاکستان ریلوے نے پندرہ سال بعد قصور پاکپتن سیکشن پر چلنے والی بلّھے شاہ پسنجر ٹرین کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جب سے بلھے شاہ پسنجر ٹرین کی بحالی کی خبر اور شیڈول سامنے آیا ہے قصور پاک پتن سیکشن کے درمیان آنے والے تمام شہروں اور دیہات کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ ٹرین مئی 2011ء میں معطل ہوئی تھی۔ پورے 15سال بعد ٹرین کا دوبارہ اجراء نہایت خوش آئند ہے۔
پتا چلا ہے کہ قصور سے فیڈرل منسٹر ملک رشید احمد خان اور اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی خصوصی کاوشیں ٹرین بحالی میں شامل ہیں۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ ایم پی اے چودھری احسن رضا خان، ایم پی اے چودھری افتخار حسین چھچھر اور وفاقی وزیر میاں محمد معین خان وٹو نے بھی اس سلسلے میں بہت کوششیں کی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو ضلع قصور اور ضلع اوکاڑا کے منتخب عوامی نمائندگان نے اپنا حقِ نمائندگی بطریقِ احسن ادا کیا ہے جس پر وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
لاہور اور پاکپتن کے درمیان کسی دَور میں پانچ اپ اور پانچ ڈائون کل ملا کر دس گاڑیاں چل کرتی تھیں۔ پھر 2008ء میں پیپلز پارٹی کو حکومت ملی تو ریلوے کی وزارت اتحادی جماعت اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور کو مل گئی۔ اس زمانے میں پاکستان ریلوے کو مالی بحران، خسارے اور انتظامی مسائل کا سامنا رہا جس پر میڈیا اور پارلیمنٹ میں کافی بحث ہوتی رہی۔ اسی دور میں لاہور پاکپتن سیکشن پر چلنے والی دس میں سے آٹھ ٹرینیں بند کر دی گئیں۔ بلّھے شاہ پسنجر ٹرین بھی ان میں سے ایک تھی۔
اب اس ٹرین کی بحالی کا احسن فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر ٹرین کے ٹائم ٹیبل یا شیڈول پر نظر ڈالی جائے تو اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ یہ ٹرین روزانہ دوپہر 12بجے پاکپتن سے روانہ ہو کر سہ پہر ساڑھے تین بجے قصور پہنچا کرے گی جبکہ وہاں سے واپس پاک پتن کے لیے دن 4بج کر 15منٹ پر روانہ ہو کر شام سات بج کر 50منٹ پر پاک پتن پہنچ جایا کرے گی۔ پاک پتن میں یہ ٹرین سولہ گھنٹے بالکل فارغ کھڑی رہا کرے گی۔
پاک پتن سے دن بارہ بجے ٹرین کی روانگی اتنی زیادہ مفید ثابت نہیں ہو گی جتنی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ زیادہ تر سفر کے لیے صبح سویرے نکلتے ہیں۔ اگر یہ ٹرین پہلے کی طرح پاک پتن سے لاہور، لاہور سے پاک پتن، پھر پاک پتن سے قصور اور قصور سے پاک پتن شٹل پھیرا لگائے تو نہ صرف روزانہ اس سیکشن کے ہزاروں مسافروں کو فائدہ ہو گا بلکہ ریلوے کی آمدنی میں بھی یہ ٹرین اچھا خاصا اضافہ کرے گی۔
اگر یہ ٹرین صبح 4بجے پاک پتن سے روانہ ہو کر صبح 9بجے لاہور پہنچے تو اس میں جتنے بھی کمپارٹمنٹ لگائے جائیں وہ سب بھر جایا کریں گے۔ مرکزی شہر ہونے کی وجہ سے روزانہ اس سیکشن پر لوگ بہت بڑی تعداد میں لاہور جاتے ہیں۔ لاہور سے انجن کی تبدیلی کے بعد 10بجے یہ ٹرین روانہ ہو کر دن 3بجے پاک پتن پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد 45۔3پر پاک پتن سے روانہ ہو کر 15۔7بجے شام کو قصور اور قصور سے رات 8بجے روانہ ہو کر رات 30۔11بجے پاک پتن پہنچے تو اس ایک ٹرین کا فائدہ دو ٹرینوں جتنا ہو گا۔ ٹرین کو دیئے گئے شیڈول کے مطابق سولہ گھنٹے بیکار کھڑا رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس سیکشن پر حویلی لکھا، بصیرپور، منڈی احمد آباد، کنگن پور، عثمان والا اور کھڈیاں خاص جیسے بڑے شہر واقع ہیں جہاں سے روزانہ سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت بڑی ہے۔ لوگوں کی اکثریت روڈ ٹرانسپورٹ پر ریل کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ سفر کا یہ ذریعہ محفوظ، سستا اور آرام دہ ہے۔
اس معاملے کا ایک تکنیکی پہلو بھی ہے۔ اگر ٹرین صرف قصور اور پاکپتن کے درمیان چلے گی تو ٹرین اور اس کا عملہ مرکز لاہور سے بالکل ہی کٹ جائے گا۔ ٹرین کے انجن کے لیے لاہور سے تیل کی سپلائی میں بھی مسئلہ بن جائے گا۔ ٹرین کا عملہ زیادہ تر لاہور میں مستقل قیام پذیر ہوتا ہے۔ ڈیوٹی کی تبدیلی کے وقت روزانہ عملے کو بائی روڈ لاہور سے قصور آنا جانا پڑے گا جبکہ پاک پتن میں سولہ گھنٹے تک بغیر کسی کام کے ٹرین کا عملہ آن ڈیوٹی رہا کرے گا۔
اس سیکشن پر ریلوے کا پورا انفرا اسٹرکچر موجود ہے۔ ہر ریلوے اسٹیشن پر عملہ بھی تعینات ہے۔ اگر بلھے شاہ پسنجر ٹرین میری تجویز کے مطابق لاہور تا پاکپتن چلائی جائے اور درمیان میں پاکپتن تا قصور یہ ٹرین ایک شٹل سروس مہیا کرے تو محکمہ ریلوے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا لیکن اس کی افادیت اور ریلوے کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اگر لاہور پاکپتن سیکشن کے منتخب عوامی نمائندے مل جُل کر کوشش کریں تو یہ کام ناممکن نہیں ہے۔
آخر میں مسافروں سے بھی گزارش ہے کہ 2011ء میں اس ٹرین کی بندش میں دیگر عوامل کے علاوہ کچھ ہماری غیر ذمہ داری کا بھی ہاتھ تھا۔ لوگ بغیر ٹکٹ سفر کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ایس ٹی ایز ( اسپیشل ٹکٹ ایگزامینرز) یعنی ٹی ٹی صاحبان، پولیس والے یا گارڈ کو کم پیسے دے کر سفر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس عمل سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچتا تھا۔ ہمارے نمائندگان کے ذریعے اگر یہ سہولت حاصل ہونے جا رہی ہے تو خدارا اس کی قدر کیجیے گا۔ خود بھی ٹکٹ خریدیئے گا اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیجیے گا۔




