کراچی اورکوتاہ اندیش رویے

کراچی اورکوتاہ اندیش رویے
روشن لعل
وفاق کے نمائندے تصور کیے جانے والے گورنر سندھ ، کامران خان ٹیسوری نے اپنی سرپرستی میں ، ’’ کراچی کا مستقبل ‘‘ کے عنوان سے گورنر ہائوس میں ایک تقریب منعقد کی۔ اس تقریب کے دوران کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے حوالے سے ایم کیو ایم کے رہنمائوں اور دیگر لوگوں نے جو کچھ کہا، وہ نہ صرف برسرعام ہوا بلکہ اس پر تبصرے بھی کیے جارہے ہیں۔ سندھ کے قدیم باسیوں نے اپنے وطن کے ایک حصہ کو الگ کرنے جیسی باتوں پر وہی رد عمل ظاہر کیا جس کا مظاہرہ وہ اس قسم کے باتوں پر پہلے بھی کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔ سندھ کے قدیم باسیوں کا مطلب صرف پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھی نہیں بلکہ وہ تمام قوم پرست سندھی بھی ہیں جو اس وجہ سے ایم کیو ایم سے زیادہ پیپلز پارٹی کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ وہ اس پارٹی کو صوبہ سندھ کے مفادات کا تحفظ کرنے والی پارٹی کی بجائے ایک وفاق پرست جماعت سمجھتے ہیں۔ قوم پرست سندھیوں کی طرح وہ سیاسی پیر اور وڈیرے بھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے مطالبہ کے مخالف ہیں جو مبینہ طور پر ایسے حلقوں کی آشیر باد سے اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی برتری ختم کرنے کے متمنی ہیں جس طرح دیگر صوبوں میں کی جاچکی ہے۔
سندھ کے قوم پرست ، وڈیرے اور پیر، ایم کیو ایم کی طرف سے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی مخالفت تو کر رہے ہیں لیکن ان کی مخالفت میں وہ غصہ اور شدت نظر نہیں آئی جس کا اظہار پیپلز پارٹی کے لوگ کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم پر اپنے تسلط کے آخری دور میں، اس کے بانی الطاف حسین نے سال2014میں حیدر آباد کے اندر منائی گئی اپنی سالگرہ کے موقع پر ٹیلیفونک خطاب کے دوران یہ کہا تھا کہ وہ اردو بولنے والوں کی اکثریت کے علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کا قیام چاہتے ہیں۔ سندھ کی تقسیم کے الطاف حسین کے مطالبے کا جواب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھی زبان کے ایک قدیم نعرے ’’ مرسوں مرسوں ، سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کی شکل میں دیاتھا۔ اس وقت بلاول بھٹو زرداری کا پانچ لفظوں پر مشتمل رد عمل اس قدر موثر ثابت ہواکہ اس کی باز گشت کراچی سے لیکر خیبر تک سنائی دی۔ الطاف حسین کے بیان کے بعد سندھ کی تقسیم کی مخالفت صرف پیپلز پارٹی نے ہی نہیں بلکہ دیگر صوبوں میں اکثریت رکھنے والی وفاق پرست جماعتوں نے بھی کی تھی۔ ان کے علاوہ سندھی قوم پرست اور پیپلز پارٹی کے شدید مخالف ایاز پلیجو اور جلال محمود شاہ جیسے سیاستدان بھی بلاول کی آواز کی پیروی کرتے نظر آئے تھے۔ ہر طرف سے شروع ہونے والی شدید تنقید کے بعد الطاف حسین نے کراچی میں کیے گئے اپنے خطاب کے دوران سندھ کی تقسیم کے مطالبے کی وضاحت کچھ یوں کی کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ سندھی بولنے والوں کے لیے سندھ ون اور اردو بولنے والوں کے لیے سندھ ٹو چاہتے ہیں۔ الطاف حسین کے اس وضاحتی بیان سے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرنے والوں کی تشفی ہونے کی بجائے، غصے میں مزید اضافہ ہوا تھا اور انہوں نے سندھ ون اور سندھ ٹو کے فارمولے کو بھی سختی سے مسترد کر دیاتھا۔
الطاف حسین کا تسلط ختم ہونے کے بعد جب ایم کیو ایم کے حصے بخرے ہونا شروع ہوئے تو سال 2018کے انتخابات سے قبل اس کے لیڈروں نے انتخابی مہم شروع کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر سرد خانوں سے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا نعرہ نکالا اور اس کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ اس وقت تک کیونکہ سال 2018کے عام انتخابات کا ماحول بن چکا تھا اس لیے دیگر صوبوں میں اکثریت رکھنے والی وہ جماعتیں جن کا سندھ میں قابل ذکر ووٹ بینک نہیں ہے ، انہوں نے بھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ۔ ان کے ایسا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ سندھ میں موجود ان کے نمائندوں کو سندھ کی تقسیم کا مطالبہ قبول نہیں تھا۔
آج ایک مرتبہ پھر، جب ایم کیو ایم کے پرانے لوگ، اپنی جماعت میں نسبتاً نئے وارد ہونے والے وفاق کے نمائندے کامران ٹیسوری کی سرپرستی میں کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا نعرہ لگا رہے ہیں تو صورتحال سال 2014اور سال 2018سے مختلف نظر آرہی ہے۔ آج پیپلز پارٹی تو اپنی روایت کے مطابق کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے نعرے کی مخالفت میں پیش پیش ہے لیکن دیگر صوبوں کے وفاق پرست اس نعرے کی مذمت کرنے کی بجائے اس کی خاموش حمایت کرتے محسوس ہو رہے ہیں۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوچکا ہے کہ دیگر صوبوں میں اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعتیں اس مرتبہ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی درپردہ حمایت کر رہی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کے اس رویے کو دیکھتے ہوئے اندرون سندھ کے ووٹروں کی وہ اکثریت جو پہلے ہی سیاسی طور پر ان کے قریب نہیں ہے وہ مزید دور ہو جائے گی۔ اگر دیگر صوبوں کی لیڈر شپ ، سندھ کے ووٹروں کے جذبات کی قدر کرنے سے گریزاں ہے تو کیا یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے سیاسی مفادات کو اب کراچی کے سندھ کے ساتھ جڑے رہنے یا الگ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایم کیو ایم کے لوگوں کی پرانی روش ہے کہ وہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا نعرہ طویل عرصہ تک کسی سرد خانے میں رکھنے کے بعد اچانک باہر لے آتے ہیں۔ ان لوگوں کے اس طرح کے رویے کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ ان کا مقصد کراچی کے عوام کے مسائل کا حل نہیں بلکہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کرنا ہے تو اس سوچ کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس مرتبہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا نعرہ لگانے کے لیے گل پلازہ کی آگ کو جواز بنایا گیا ہے۔ گل پلازہ میں آگ لگنے کے دوران جس قسم کی موقع پرستی پر مبنی سیاست کی گئی اس سے متاثرہ لوگوں کے دکھوں کے مداوا کے لیے کوششیں کرنے کا تاثر ابھرنے کی بجائے ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا تصور زیادہ نمایاں ہوا۔فی الوقت لگ یہ رہا ہے کہ گل پلازہ کی آگ کے متاثرین کے دکھوں اور غموں کو فراموش کر کے تمام تر توجہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے جیسے نعرے پر مرکوز کردی گئی ہے۔ ایم کیو ایم کے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبہ پر تبصرے کرنے والوں کی اکثریت زیادہ سے زیادہ یہ دور کی کوڑی لارہی ہے کہ سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کرنے والی ایم کیو ایم اور اس مطالبہ کی مخالفت کرنے والی پیپلز پارٹی ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں ۔ اس قسم کے تبصرے کرنے والے مبصروں کے خیالات کو ذہنی عیاشی کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ ان مبصروں کو محض فتوے دینے کی بجائے، معاملے کا یہ پہلو دیکھنا چاہیے کہ اگر کراچی کو سندھ سے الگ کیا گیا تو اس کا کراچی کے شہریوں پر کیا ممکنہ اثر پڑے گا۔ افسوس کہ نہ تو ایم کیو ایم کے لوگوں نے اس پہلو پر غور کرتے ہوئے کبھی کوئی ہوم ورک کیا اور نہ اس پر غور کرنا مبصروں کی ترجیح ہے ۔ ایم کیو ایم اور مبصروں کے ایسے رویوں کو، کوتاہ اندیشی کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھا جاسکتا۔





