سونے کی چڑیا یا لاوارث شہر کراچی ؟

سونے کی چڑیا یا لاوارث شہر کراچی ؟
قادر خان یوسف زئی
کراچی، جو کبھی روشنیوں، امنگوں اور روزگار کا استعارہ تھا، آج ایک ایسی سیاسی اور انتظامی کشمکش کا شکار ہے جس نے اس کے باسیوں کو گہرے احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستان کی معاشی شہ رگ اور سب سے بڑا کثیر الثقافتی شہر ہونے کے باوجود، اس کا نوحہ اربابِ اختیار کی بے حسی اور سیاسی مصلحتوں کے شور میں دب کر رہ گیا ہے۔ ایک جانب وہ عوام ہیں جو ٹوٹی ہوئی سڑکوں، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، تباہ حال ٹرانسپورٹ کے نظام اور امن و امان کی مخدوش صورتحال سے روزمرہ کی بنیاد پر نبرد آزما ہیں، تو دوسری جانب سیاسی شطرنج کی وہ بساط ہے جہاں اس شہر کی ملکیت اور انتظام کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔ اسی تناظر میں سندھ اسمبلی کے فلور پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی جانے والی حالیہ قرارداد نے ایک بار پھر صوبے کی وحدت، کراچی کی حیثیت اور اس کے عوام کے حقوق کے حوالے سے ایک طویل، پیچیدہ اور جذباتی بحث کو جنم دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے اور اسے صوبے سے الگ کرنے یا کسی نئی انتظامی اکائی میں تبدیل کرنے کی کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سیاسیات کے طالب علم اور سنجیدہ مبصرین اس قرارداد کو محض ایک جذباتی یا روایتی بیان نہیں سمجھتے، بلکہ یہ دراصل ان مسلسل اور تواتر کے ساتھ اٹھنے والی آوازوں کا براہِ راست ردعمل ہے جو وفاقی سطح پر اور بالخصوص ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سنائی دے رہی ہیں۔ وفاقی وزراء اور کراچی سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی رہنماں کی جانب سے بارہا یہ مطالبہ دہرایا گیا ہے کہ چونکہ سندھ حکومت اس میگا سٹی کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے، اس لیے اسے وفاق کے کنٹرول میں دیا جائے یا اسے ایک الگ صوبے کا درجہ دیا جائے۔ یہ بیانات پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے لیے ایک صریح چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں، جس کا جواب انہوں نے اسمبلی کے فلور سے اپنی عددی اکثریت اور جذباتی بیانیے کی بنیاد پر دیا ہے۔
اس سیاسی رسہ کشی کے پس منظر میں اگر ہم حقائق کا غیر جانبدارانہ اور معروضی جائزہ لیں تو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ابھر کر سامنے آتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ایک طویل عرصے سے سندھ پر بلا شرکتِ غیرے حکمران ہے، اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دیہی سندھ میں اس کا ووٹ بینک انتہائی مضبوط ہے، مگر کراچی کے حوالے سے اس کی کارکردگی پر ہمیشہ بجا طور پر سوالیہ نشانات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی، بلدیاتی اداروں کی بے اختیاری، اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم وہ تلخ حقائق ہیں جو وفاقی وزراء اور ناقدین کو صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ جب ایک عام شہری اور ٹیکس دہندہ یہ دیکھتا ہے کہ ملک کی معیشت کا پہیہ چلانے اور سب سے زیادہ قومی اور صوبائی محاصل اکٹھا کرنے والا شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، تو اس کے اندر پیدا ہونے والا احساسِ زیاں اور غصہ بالکل فطری اور زمینی ہے۔ وفاقی حکومت کے نمائندے اسی عوامی غصے کو سیاسی زبان دیتے ہوئے سندھ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف صوبائی حکومت کا اپنا ایک بیانیہ ہے جو وفاق کی جانب سے وسائل کی عدم فراہمی، این ایف سی ایوارڈ پر تحفظات اور مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو مبینہ طور پر کم دکھانے کی شکایات پر مبنی ہے۔
یہاں یہ امر بھی انتہائی قابلِ غور ہے کہ نئے صوبے کا مطالبہ کس حد تک ایک حقیقی انتظامی ضرورت ہے اور کس حد تک محض ایک سیاسی نعرہ جسے بوقتِ ضرورت استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ قانون اور آئینِ پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو آئین کا آرٹیکل 239نئے صوبوں کے قیام یا صوبائی حدود میں ردوبدل کا واضح طریقہ کار وضع کرتا ہے، جس کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری قانونی طور پر لازمی ہے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے، تاریخی پس منظر اور سندھ اسمبلی کی موجودہ ہیتِ ترکیبی کو دیکھتے ہوئے، کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا کوئی بھی آئینی راستہ بظاہر مسدود نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی الگ صوبے یا وفاقی کنٹرول کی بات کی جاتی ہے، تو اسے سندھ کی تقسیم سے تعبیر کر کے ایک ایسا شدید جذباتی ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے جس میں شہر کے اصل اور سنگین مسائل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔
زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ صرف جغرافیائی لکیریں کھینچنے یا نہ کھینچنے کا ہرگز نہیں ہے، بلکہ آئین کے آرٹیکل 140۔ اے کی اس کی اصل روح کے مطابق عملداری کا ہے۔ جب تک مقامی اور بلدیاتی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں مالیاتی اور انتظامی اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے، تب تک کراچی جیسے بے ہنگم طریقے سے پھیلتے ہوئے شہر کے مسائل حل ہونے کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ یہ کیسی جمہوریت اور کیسی طرزِ حکمرانی ہے جہاں کروڑوں کی آبادی والے شہر کا منتخب میئر اپنے شہر کا کچرا اٹھانے، سڑکیں بنانے، پانی کی فراہمی یا ٹرانسپورٹ کا نظام چلانے کے لیے صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے رحم و کرم پر ہو؟ بلدیاتی اداروں کو مفلوج رکھ کر اور تمام تر اہم اختیارات کو ایک مرکز یعنی وزیر اعلیٰ ہاس تک محدود کر کے دراصل بنیادی جمہوریت کی ہی نفی کی جا رہی ہے۔ جب تک ریاست کا نظام اور وسائل کی تقسیم عوام کی دہلیز تک نہیں پہنچے گی، حکمرانی کا یہ بحران یونہی برقرار رہے گا اور اس کی کوکھ سے نئے تنازعات جنم لیتے رہیں گے۔
اس وقت کراچی کے عوام جس شدید احساسِ محرومی کا شکار ہیں، اسے محض سیاسی مخالفین کی سازش یا منفی پروپیگنڈا قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ محرومی ان گلی کوچوں میں بکھری پڑی ہے جہاں سیوریج کا نظام درہم برہم ہے، یہ اس ٹریفک جام اور ٹوٹی سڑکوں پر نظر آتی ہے جہاں شہری روزانہ گھنٹوں ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں، اور یہ اسٹریٹ کرائمز کی ان لرزہ خیز وارداتوں میں چیختی ہے جن میں آئے روز درجنوں محنت کش شہری اپنی زندگی اور جمع پونجی سے محروم کر دئیے جاتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اس لفظی جنگ اور مستقل الزام تراشیوں کے بیچ عام شہری بری طرح پس رہا ہے اور اس کا ریاست کے سماجی معاہدے پر سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھوکھلی سیاست، پوائنٹ اسکورنگ اور بیان بازی کے خول سے باہر نکل کر کراچی کو اس کا جائز اور آئینی حق دیا جائے۔ اگر صوبے کی وحدت کو برقرار رکھنا ہے، جو کہ بلا شبہ ایک مستحسن اور تاریخی حقیقت ہے، تو پھر سندھ حکومت کو اپنی طرزِ حکمرانی اور ترجیحات کو یکسر بدلنا ہوگا۔ اسے کراچی کو محض وسائل پیدا کرنے والی مشین کے بجائے، اس ملک کے ماتھے کا جھومر سمجھ کر اس کی تعمیر و ترقی پر حقیقی وسائل خرچ کرنا ہوں گے۔





