ColumnImtiaz Aasi

مدینہ منورہ کی تاریخی باتیں

مدینہ منورہ کی تاریخی باتیں
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
بخاری کی حدیث ہے رسالت مآبؐ نے فرمایا تمہیں اس حقیقت کا علم ہو جائے تو مدینہ منورہ تمہارے لئے خیرو برکت کی جگہ ہے۔ مکہ مکرمہ سے طریق ہجرت پر سفر کریں تو انسان سوچوں میں گم ہو جاتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے اس راستے کسی بڑی ہستی کا گزر ہوا ہے۔ مجھے جب کبھی حرمین شرفین جانے کی سعادت نصیب ہوئی عمرہ کی ادائیگی کے بعد دل کی دھڑکن کچھ اس طرح تیز ہو جاتی جلد سے جلد شہر نبی میں حاضری دوں۔ روایات میں آیا ہے ستر ستر ہزار فرشتے صبح و شام روضہ اقداس پر حاضری دیتے ہیں۔ قباء مسجد سے آگے نکلیں تو دور سے روضہ اقدس کے سبز گنبد نظر دکھائی دیتے ہیں دل میں ایک تڑپ رہتی ہے کسی طرح روضہ اقدس پر پہنچ کر سرور کائناتؐ کے مرقد پر حاضر ہو جائوں۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے روضہ اقدس پر سبز کپڑے کا غلاف خلفیہ ہارون رشید کی والدہ ملکہ خیزران نے چڑھایا تھا۔ معروف سعودی تاریخ دان یاسین خیاری جو مسجد نبویؐ کے امام بھی رہ چکے ہیں، پچاس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں، اپنی مشہور کتاب تاریخ المعام المدینہ ولمنورہ قدیما وحدیثا میں رقمطراز ہیں۔ روضہ اقدس میں جہاں نبی آخرالزمانؐ کی حیات مبارکہ کے دو ساتھی آرام فرما ہیں، ان کی قبور کچھ اس طرح سے ہیں۔ سرکار دو عالمؐ کے سینہ مبارک کی سمت سیدنا ابو بکر صدیقؓکا سر مبارک ہے اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے سینہ مبارک کی سمت سیدنا عمر فاروق ؓکاسر مبارک ہے۔ قدرت خداوندی دیکھئے دونوں اصحابؓ زندگی میں بھی بنیؐ کے ساتھ تھے اور آخرت میں بھی ساتھ آرام فرما ہیں۔ یاسین خیاری نے آٹھ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور کئی برس تک مسجد نبویؐ میں امامت کی سعادت بھی حاصل کی۔ باب سلام کے بائیں جانب سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کا گھر تھا جہاں آج کل عربی زبان میں ’’ ہذا خوخہ ابو بکر صدیقؓ ‘‘ تحریر ہے، یعنی یہ وہ جگہ ہے جہاں سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا گھر واقع تھا۔ سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے گھر کے قرب میں یاسین خیاری نے مدرسہ شہابیہ کی بنیاد رکھی تھی۔ مسجد نبویؐ کو توسیع دی گئی تو مدرسہ منہدم کر دیا گیا۔ باب سلام کی بائیں جانب جہاں آج کل وضو خانے ہیں، وہیں حضرت ایوب انصاری ؓ کا گھر تھا، جہاں رسالت مآبؐ نے ہجرت کے موقع پر قیام فرمایا تھا۔ مکرمکرمہ سے مدینہ منورہ داخل ہوں تو طریق امیر محسن کے دائیں جانب مسجد سبق تھی، جہاں مجھے کئی بار نماز پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ مسجد سبق کی تاریخ کچھ یوں ہے صحابہ کرام ؓ جنگی تیاریوں کے لئے اس جگہ سے گھوڑے احد پہاڑ تک دوڑایا کرتے تھے، چنانچہ اسی مناسب سے مسجد کا نام مسجد سبق رکھ دیا گیا۔ اب یہ مسجد وہاں نہیں ہے، سعودی توسیع منصوبے میں آگئی ہے۔ مسجد نبویؐ کے قرب میں چند تاریخی مساجد اب بھی ہیں، جنہیں دولت عثمانیہ کے عہد میں تاریخی درجہ دے دیا گیا تھا۔ سعودی حکومت ان مساجد کی باقاعدگی سے تزئین و آرائش کرتی ہے، زائرین کو وہاں جانے کی اجازت ہے۔ کئی برس پہلے مسجد نبویؐ کے مشرقی جانب ایک چھوٹا سا باغ تھا، جہاں ایک تھڑا بنا ہوا تھا، رسالت مآبؐ کی رحلت کے بعد اہل مدینہ منورہ نے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، اب یہ جگہ مسجد نبویؐ کی توسیع میں آچکی ہے۔ باب سلام کے بالمقابل مسجد غمامہ ہے، اسی جگہ سرکار دو عالمؐ نے بارش کے لئے ہاتھ اٹھائے تھے تو بادل آگئے تھے۔ یہ مسجد اب بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ چنانچہ اسی مناسب سے اس کا نام مسجد غمامہ رکھ دیا گیا تھا۔ شاہ فہد بن عبدالعزیز کے منصوبے کے مطابق مسجد نبویؐ کو رسالت مآبؐ کے دور میں مدینہ منورہ کی کل آبادی والی جگہ تک توسیع دے دی گئی ہے۔ مسجد نبویؐ کے چاروں اطراف جو سٹرک ہے بیضوی شکل کی ہے، جسے شارع ستین کہتے ہیں۔ شارع ستین کے دوسری طرف شاہراہ سلطانہ اور شاہراہ ابو بکر صدیق دو سڑکیں ہیں، جن کی درمیانی جگہ پر ایک چھوٹی پہاڑی ہوا کرتی تھی۔ جب کبھی دوسرے ملکوں سے وفود نبی آخرالزمانؐ سے ملاقات کے لئے آتے تھے تو بنی رحمتؐ ان وفود کو الوداع کہنے کے لئے اس چھوٹی پہاڑی تک تشریف لایا کرتے تھے، اسی لئے اس پہاڑی کا نام ثنیات الوداع رکھ دیا گیا تھا۔ اب یہ پہاڑی سڑکوں میں آگئی ہے۔ اس ناچیز کی خوش بختی ہے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مجھے تہجد ادا کرنے کی سعادت قدمین شریفین میں ہوتی رہی ہے۔ آج کل سعودی حکومت نے زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ریاض الجنہ میں نوافل ادا کرنے کے لئے وقت مقرر کر دیا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ زائرین وہاں نوافل ادا کر سکیں۔ مسجد نبویؐ کے مغربی جانب شارع ستین کے دوسری طرف مسجد اجابہ ہے، جہاں رسالت مآبؐ نے کسی موقع پر دعا فرمائی تھی، جو قبول ہو گئی تھی۔ اسی مناسب سے مسجد کا نام اجابہ رکھ دیا گیا۔ عربی زبان میں اجابہ کے معانی دعا کے قبولیت کے ہوتے ہیں۔ اگر احد پہاڑ کی بات کریں تو سرور کائناتؐ نے فرمایا احد جنت کے پہاڑوں میں سے ہے۔ اس خاکسار کو بنیؐ کے پیارے چچا حضرت امیر حمزہؓ کی جائے شہادت کی زیارت نصیب ہوئی۔ اگرچہ حضرت امیر حمزہ ؓکا مرقد ایک چار دیواری کے اندر واقع ہے، مگر آپؓ کی شہادت قریب ہی جگہ پر ہوئی تھی۔ رمضان المبارک آتے ہی یورپی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد مدینہ منورہ پہنچ جاتی ہے، جہاں وہ زائرین کے لئے سحر و افطار کا وسیع پیمانے پر بندوبست کرتے ہیں۔ قدرت خداوندی ہے ہر سال زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، روضہ اقدس کی کشش عالم اسلام سے مسلمانوں کو کھینچ لاتی ہے۔ یوں تو روضہ اقدس میں کئی تاریخی واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کا تذکرہ بڑی تفصیل سے یاسین خیاری نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ ان شاء اللہ پھر کبھی سہی۔

جواب دیں

Back to top button