پاکستان ، افغانستان دہشت گردی کا بحران

پاکستان ، افغانستان دہشت گردی کا بحران
تحریر : قادر خان یوسف زئی
ریاستِ پاکستان کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہوا جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے نے بے گناہ نمازیوں کے خون سے درودیوار سرخ کر دئیے۔ اس وحشت اور بربریت کے تسلسل میں سیکیورٹی فورسز پر باجوڑ اور بنوں دہشت گرد حملوں سے، ملک کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا، جس پر فیصلہ سازوں کو اس کڑوے گھونٹ پینے پر مجبور کیا جس کا حتمی نتیجہ 21اور 22فروری 2026ء کی درمیانی شب افغان سرزمین پر ہونے والے انٹیلی جنس بیسڈ فضائی حملوں کی صورت میں نکلا۔ ننگرہار اور پکتیکا کے سرحدی ملحقہ علاقوں میں فتنہ الخوارج ( کالعدم ٹی ٹی پی) اور اسلامک اسٹیٹ ( خراساں) کے سات کیمپوں کو نشانہ بنایا جانا محض ایک عسکری کارروائی یا ردعمل نہیں تھا، بلکہ یہ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو ایک دوٹوک پیغام تھا کہ اندرونی سلامتی پر اب کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ پیچیدہ صورتحال محض دو پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی یا روایتی تنازع کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین، عالمی سفارتی معاہدوں اور ریاستی ذمہ داریوں کے اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے جس سے کابل میں بیٹھے حکمران مسلسل پہلو تہی کر رہے ہیں۔ اگست 2021ء میں کابل پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے، افغان طالبان کی حکومت اگرچہ بین الاقوامی سطح پر باقاعدہ تسلیم شدہ نہیں ہے، لیکن ڈی فیکٹو ( عملاً ) حکومت اور ریاست کے منتظم ہونے کے ناطے وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بالخصوص قرارداد 1373کے مکمل طور پر پابند ہیں۔ یہ قرارداد واضح طور پر اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کو ہر سطح پر کچلا جائے اور کسی بھی قسم کے سیکیورٹی آپریشنز میں انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔ دوحہ معاہدے کی وہ بنیادی شقیں، جن میں افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف ہرگز استعمال نہ ہونے دینے کی تحریری ضمانت دی گئی تھی، آج اقوام متحدہ کی تواتر کے ساتھ آنے والی رپورٹس کی روشنی میں محض کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا ثابت ہو رہی ہیں۔ القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے ساتھ ان کے مسلسل اور گہرے روابط اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ معاہدوں کی پاسداری کس حد تک کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے ایک غیر تسلیم شدہ وجود ہونے کے باوجود، کابل انتظامیہ پر یہ بھاری ریاستی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کے خلاف ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو روکے اور ان عناصر کے خلاف ’’ ڈیو ڈیلیجنس‘‘ ( مناسب احتیاط اور کارروائی) کا مظاہرہ کرے جو ان کی سرزمین کو ایک محفوظ لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
زمینی حقائق اور مستند عالمی اعداد و شمار اس تشویشناک صورتحال کی مزید سنگینی اور گہرائی کو پوری طرح عیاں کرتے ہیں، جنہیں محض بیانات کی حد تک مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں 20سے زائد دہشت گرد تنظیمیں پوری آزادی اور وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان میں گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025کی چشم کشا رپورٹ کے مطابق دنیا کی سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی دہشت گرد تنظیم ’ ٹی ٹی پی‘ ( فتنہ الخوارج) سرفہرست ہے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں کی جاری کردہ حالیہ رپورٹس ان دعوئوں کی مزید اور حتمی تصدیق کرتی ہیں کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کو نہ صرف نظریاتی بلکہ بھرپور مالی اور لاجسٹک معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں خودکش بمباروں کی تیاری کے لیے قائم کردہ باقاعدہ تربیتی کیمپ اور فتنہ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود کو ماہانہ 50500ڈالر کی خطیر مالی معاونت کی فراہمی وہ ناقابل تردید حقائق ہیں جو پاکستان میں مساجد میں ہونے والے خونی دھماکوں، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں اور معصوم شہریوں کے قتل عام کا براہ راست اور بنیادی سبب بن رہے ہیں۔کابل کی اس مجرمانہ چشم پوشی اور دہشت گرد عناصر کی کھلم کھلا سرپرستی کے اثرات محض پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے تباہ کن نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ القاعدہ کی جانب سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں آٹھ نئے کیمپوں کا قیام اور داعش خراسان ( آئی ایس آئی۔ ایس کے) کی جانب سے اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے عالمی سطح پر بالخصوص مغربی ممالک میں حملوں کی ترغیب دینا، اس خطے کو ایک بار پھر بارود کے اس ڈھیر پر بٹھا رہا ہے جس کی چنگاریاں بہت جلد وسطی ایشیا اور اس سے آگے تک پہنچ سکتی ہیں۔ افغان طالبان رجیم کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے کھوکھلے دعووں کے بالکل برعکس، ان کی سرزمین پر پروان چڑھتا ہوا یہ سازگار اور محفوظ ماحول، بھتہ خوری، مذہبی انتہا پسندی اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے جس خونی کلچر کو فروغ دے رہا ہے، وہ نہ صرف حسنِ ہمسائیگی کے مسلمہ اصولوں کے سراسر منافی ہے بلکہ ان اسلامی اقدار کی بھی کھلی نفی ہے جن کا وہ خود کو واحد علمبردار قرار دیتے ہیں۔
اس انتہائی سنگین اور حساس صورتحال میں جب شواہد چیخ چیخ کر خطرے کی نشاندہی کر رہے ہوں اور ہمسایہ ملک کی سرزمین مسلسل موت بانٹ رہی ہو، تو ریاستِ پاکستان کے پاس اپنے عوام اور اپنی جغرافیائی حدود کے دفاع کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51کسی بھی خود مختار ملک کو یہ مسلمہ حق فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے یا متوقع ( امکانِ غالب) مسلح اور دہشت گرد حملوں کے پیش نظر اپنے دفاع کے لیے پیشگی یا جوابی کارروائی کرے۔ پاکستان کا یہ حالیہ عسکری اقدام اسی قانونی حقِ خود ارادیت اور ریاستی دفاع کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد اپنے شہریوں کو سرحد پار سے آنے والی موت سے بچانا ہے۔ اگر کابل انتظامیہ کو اس کی اس مجرمانہ غفلت، ہٹ دھرمی یا ملی بھگت پر عالمی سطح پر جوابدہ نہ ٹھہرایا گیا تو اس عفریت کے تدارک کے لیے پاکستان اور عالمی برادری کو فوری طور پر ایک جامع اور کثیرالجہتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اس حکمت عملی میں اتحادی اور دوست ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کے سلسلے کو مزید موثر اور وسیع کرنا، افغان طالبان کے ان حکومتی اور غیر حکومتی عناصر پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا سختی سے نفاذ یقینی بنانا جو دہشت گردوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں، اور سرحدی انتظامات و قلعہ بندی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مضبوط اور ناقابلِ عبور بنانا شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر عالمی فورمز پر کابل پر یہ دوٹوک سفارتی دبائو بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرے۔





