Column

مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

تحریر : رفیع صحرائی
قومیت کے دو تصور ہیں۔ ایک مغربی تصور جس کے تحت ایک ملک کے رہنے والے لوگ ایک قوم ہیں۔ مثلاً امریکی قوم، فرانسیسی وغیرہ۔ اسلام کا تصور قومیت سرحدوں کا محتاج نہیں۔ اس تصور کے تحت پوری دنیا کے مسلمان ایک قوم ہیں۔ ہم پاکستانی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو قومیت کے دونوں تصورات میں سے کسی ایک پر بھی پورا نہیں اترتے۔ اگر اسلامی تصورِ قومیت کے تحت دیکھا جائے تو پوری دنیا میں مصیبت زدہ مسلمانوں کے حق میں قراردادِ مذمت سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر پاتے۔ ہم تو اپنے کشمیری بھائیوں پر مظالم کو دیکھ کر بھی اپنی قومی غیرت کو نہیں جگا پائے، اس لئے کہ ہم ایک قوم ہیں ہی نہیں۔ بطور پاکستانی ہم مختلف مذہبی، سیاسی، صوبائی ، لسانی اور دیگر بہت سے گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے کابل میں چبھنے والے کانٹے کو ہندوستان کے جوان و بزرگ کے لئئے بے چینی کا سبب بنا دیا تھا۔ اب ایک ہی ملک میں رہنے والے ہم لوگ اخوت و قومیت سے محروم ہیں۔ ہر کوئی انفرادی سوچ لے کر دوسروں کو لوٹنے کے چکر میں ہے۔ اخلاقی اقدار کی پاسداری قصہ پارینہ بن چکی۔ اب تو ہر کوئی دیہاڑی لگانے کے چکر میں ہے۔ قومی احساس کو نشہ کھلا پلا کر ہم نے گہری نیند سلا دیا ہے۔ ہماری اقدار دیگر قوموں نے اپنا کر عروج پا لیا، ہم نے بطور قوم اپنی اصل سے دوری اختیار کر کے پستی ورسوائی کو اپنا مقدر بنا لیا۔ ایک واقعہ پڑھ لیجئے تاکہ آپ کو پتا چلے کہ کس طرح اعلیٰ اقدار کو اپنا کر قومیں عروج پاتی ہیں۔ یہ واقعہ ڈاکٹر ظفر اقبال صاحب کے شکریئے کے ساتھ پیش ہے۔
’’ بہت عرصہ پہلے ایک دوست پڑھائی کے سلسلے میں آسٹریلیا گئے۔ تو انہوں نے مجھے آسٹریلیا کی ایک بات بتائی۔ بات بہت خوبصورت ہے۔
وہ بتا رہے تھے کہ انہیں آسٹریلیا میں پڑھائی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت تھی۔ وہ بتاتے ہیں، کچھ دنوں کی کوشش کے بعد مجھے ایک پٹرول پمپ پر جاب مل گئی۔ مجھے بتایا گیا کہ شروع کے دنوں میں ایک انگریز لڑکے کے ساتھ ٹریننگ کروں گا۔
دوران ٹریننگ انگریز لڑکے نے بتایا کہ یہاں پر سیل ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے پٹرول کے ریٹ کم اور زیادہ ہوتے رہتے ہیں اگر فون آئے تو آپ بے شک سن لینا۔ اگلے ہی دن فون آگیا کہ پٹرول کے ریٹ 15سینٹ بڑھا دئیے جائیں۔ میں نے باہر دیکھا تو پٹرول ڈلوانے والوں کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی میں نے انگریز لڑکے سے کہا کہ جلدی کرو 15سینٹ ریٹ بڑھا دو۔ تو میں یہ سن کر حیران رہ گیا۔ انگریز لڑکے نے بتایا کہ ہم اس وقت تک ریٹ نہیں بڑھائیں گے جب تک یہ گاہکوں کی لائن ختم نہیں ہو جاتی اور باہر جو ریٹ کا سائن لگا ہوا ہے وہاں پر ہم ریٹ کو بڑھا نہیں دیتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ ہمارے پٹرول پمپ پر آئے تھے تو اس وقت تو ریٹ کم تھا۔ میں نے کہا اس سے تو ہمیں نقصان ہوگا اس نے کہا بے شک نقصان ہو ہم ہمیشہ گاہک کا فائدہ سوچتے ہیں۔
پھر اس طرح ایک دن فون آیا کہ پیٹرول کے ریٹ فوری طور پر 20سینٹ کم کر دئیے جائیں۔ میں نے باہر دیکھا تو اس دفعہ بھی پٹرول ڈلوانے والوں کی لمبی لائن موجود تھی۔ تو میں نے اپنے ساتھی انگریز لڑکے سے کہا کہ 20سینٹ کم کرنے کا فون آیا ہے۔ تو اس نے کہا کہ اب ہم لوگوں کے جانے کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ فوری ریٹ کم کریں گے تاکہ یہ جو لوگ لائن میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی اس کا فائدہ اٹھائیں۔
جب ہم دونوں کچھ دیر کے لیے فری ہوئے اس نے بتایا کہ پٹرول کا ریٹ کم ہو یا زیادہ ہو، دونوں صورتوں میں ہم گاہک کا خیال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ یہ گاہک ہی ہیں جو ہماری روزی لے کر آتے ہیں‘‘۔
ایک ہمارے ہاں رواج ہے کہ بھنک بھی پڑ جائے کہ پٹرول کا ریٹ بڑھنے والا ہے تو پٹرول کی سیل بند کر دیتے ہیں۔ پٹرول پمپوں پر ’’ پٹرول ختم ہے‘‘ کا بورڈ آویزاں کر دیا جاتا ہے۔ چاہے جتنی ایمرجنسی ہو، آپ کسی مریض کو انتہائی سیریس حالت میں ہسپتال ہی کیوں نہ لے کر جا رہے ہوں، پٹرول کا حصول آپ کے لئے آبِ حیات کی تلاش بن جائے گا۔ چند روپوں کی خاطر انسانیت کو ذبح کر دیا جاتا ہے۔ کوئی لاکھ ترلے منتیں کرے، دولت کی ہوس کانوں سے بہرا کر دیتی ہے۔
اور اگر پٹرول ریٹ کبھی غلطی سے کم ہو جائے تو اکثر پٹرول پمپ مالکان کا موقف ہوتا ہے کہ یہ مہنگا خریدا ہوا پٹرول ہے۔ ہم قیمت میں کمی نہیں کر سکتے، گاہکوں کو رعایت اسی وقت دے سکیں گے جب نxی قیمت والا پٹرول آئے گا۔
قوموں کا عروج و زوال ان کی محنت اور اجتماعیت کی موجودگی یا عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ ان کی اقدار کا بھی مرہونِ منت ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اخلاقی اقدار کے معاملے میں ہم دن بدن پستی کی طرف محوِسفر ہیں۔ اجتماعیت اور قومیت کا جذبہ سرد پڑ چکا ہے۔ ہم ہر معاملے میں اپنے ذاتی نفع و نقصان کا سوچتے ہیں۔ ہمیں ایک قوم کہنا بھی قوم کی توہین ہے۔ ہم ایک بکھرا ہوا ہجوم ہیں۔ اسی لئے زوال کی طرف تیزی سے گامزن ہیں اور بدقسمتی سے ہماری گاڑی کے بریک بھی فیل ہیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم کرے، ہمیں ایک زندہ قوم کی طرح سوچنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
حالی نے کیا خوب فرمایا ہے:
فرشتوں سے افضل ہے انسان بننا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button