Column

ہمارے تعلیمی نظام کی خامیاں

طیب سہیل مغل

پاکستانی عوام سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے یہ بات کچھ حد تک تو ٹھیک ہے لیکن میرا موقف تھوڑا مختلف ہے میرے خیال میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کا تعلیم اور صحت کا نظام ہے ایک اچھی اور معیاری تعلیم سے ہم معاشرے کو تبدیل کر سکتے ہیں اس سے معاشرے میں ہم بہتری لا سکتے ہیں۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے کہ جن قوموں نے بھی ترقی کی ہے ان کا تعلیمی نظام باقی دنیا سے بہتر تھا۔ ہماری عوام کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ہمارا بنیادی مسئلہ تعلیمی نظام ہے نہ سڑکیں گلیاں اور دیگر مسائل بلکہ ہمیں تعلیم کو بہتر کرنا چاہیے۔ ابھی 2ماہ پہلے الیکشن ہوئے ہیں لیکن میں نے کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے انتخابی منشور میں تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے کوئی منصوبہ یہ کوئی ایسی بات نہیں دیکھی کہ جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ فلاں سیاسی پارٹی کا اس مسئلے کی طرف دھیان ہے۔ پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے کبھی سکول نہیں گئے نہ ہی حکومت کی طرف سے کبھی کوشش کی گئی ہے کہ کیسے ہم ان بچوں کو سکولوں کی طرف لا سکتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی نظام میں بہت ساری خامیاں ہیں جن میں سب سے بڑی حامی یہ ہے کہ پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں میں اتنا فرق پیدا کر دیا گیا ہے کہ ایک سرکاری سکول سے پڑھا ہوا طلب علم کبھی بھی پرائیویٹ سکول سے تعلیم یافتہ طالب علم کا مقابلہ نہیں کر سکتا پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ سرکاری سکولوں سے کئی درجے بہتر ہیں ان کا نصاب سرکاری سکولوں سے بہتر ہے اور ان کا پڑھانے کا انداز سرکاری سکولوں سے کئی گنا زیادہ بہتر ہے۔ پچھلے دنوں میرا سرکاری سکول میں جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے وہاں پہ دسویں کلاس کے طالب علموں سے نہایت ہی آسان اور بنیادی سوالات پوچھے جو کہ پرائیویٹ سکولوں کے پڑھے ہوئے طالب علموں کو تیسری یا چوتھی جماعت میں سکھائے جاتے ہیں لیکن افسوس سرکاری سکول کے بچوں کو جو سوالات تیسری یا چوتھی جماعت کے طالب علموں کو آنے چاہیے وہ دسویں کلاس کے طالب علموں کو بھی نہیں آتے تھے۔ سب سے پہلے ہمیں اس طبقاتی تعلیمی نظام کو ختم کرنا ہوگا تاکہ ہم پاکستان کی عوام کو ایک یکساں تعلیمی نظام دے سکیں ۔ اس نظام نے ہمارے تعلیمی نظام میں اتنا فرق پیدا کر دیا ہے کہ غریب کا بچہ ایک اچھی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتا اور آج کل کے حالات میں تو اچھی کیا ایک سرکاری یونیورسٹی میں جس کی فیس ایک پرائیویٹ یونیورسٹی سے بہت کم ہوتی ہے وہاں پر بھی کسی غریب کے بچے کے لیے تعلیم حاصل کرنا نہایت ہی مشکل ہو گیا ہے۔ ہم نے تعلیم کا حصول بہت مشکل بنا دیا ہے۔ دوسری سب سے بڑی پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہمارے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مغربی ثقافت کو فروغ دیا جاتا ہے پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے بہت سارے طالب علموں کو اردو پڑھنا اور لکھنا نہیں آتی جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس پر کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی ہمارا سارا دھیان صرف انگلش پڑھنے اور سیکھنے پر ہے ہم نے انگریزی زبان کو اپنے سروں پر سوار کر لیا ہے۔ اس انگریزی زبان کی وجہ سے ہم اپنی قومی زبان کو بھلاتے جارہے ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی حامی یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں اختلاف رائے کی بات نہیں کی جاتی اس کے برعکس ہماری یونیورسٹیوں میں استاد کو اپنی رائے اپنے طالب علموں پر تھوپنے کی عادت پڑ چکی ہے بہت سارے طالب علم صرف اس وجہ سے فیل ہوتے ہیں کہ ان کی رائے اپنے استاد سے مختلف ہوتی ہے پاکستان ایک جمہوری مملکت ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے، خصوصی طور پر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہمیں ایسا کلچر بنانا چاہیے کہ جس میں اختلافِ رائے کو اہمیت دیں ہر کسی کو اپنی رائے دینے کی آزادی ہو کیونکہ انہی طالب علموں نے آگے مختلف شعبوں میں جا کر پاکستان کی خدمت کرنی ہوتی ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک بہت بڑا پہلو ہمارے مذہبی مدرسے ہیں اسلام کو پھیلانے سے زیادہ اور اسلام کی خدمت کرنے سے زیادہ اپنے فرقے کے نظریات کو پھیلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ہر فرقہ اپنے فرقے کو چھوڑ کر باقی سب کو غلط سمجھتا ہے اور ہر مدرسے کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرقے کو فروغ دیں ہمارے مدارس میں اسلام کی بات کم اور اپنے فرقے کو پھیلانے کے بعد زیادہ کی جاتی ہے، تعلیمی نظام کی بہتری ہی پاکستان کو ترقی کی طرف لے کے جا سکتی ہے۔ حکومت کو اس شعبے کی طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ ایک پڑھا لکھا معاشرہ ہی ایک اچھی سوچ کو جنم دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button