Column

اللّٰہ کی شکر گزاری کو شعار بنا لیں

رفیع صحرائی
بندہ بندگی سے پہچانا جاتا ہے۔ زندگی کا مقصد کھانا پینا اور مر جانا نہیں ہے۔ جس اللّٰہ نے پیدا کیا ہے اس کی عبادت بھی ہم پر فرض کی گئی ہے مگر افسوس کہ ہم اسے معبود تو مانتے ہیں مگر عبادت سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔
ہمارے ہاں ایک عجیب ٹرینڈ چل نکلا ہے کہ ہمیں یہ تعلیم دی جا رہی ہے ’’ حقوق اللّٰہ تو اللّٰہ تعالیٰ معاف کر دے گا مگر حقوق العباد اللّٰہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا، حقوق العباد صرف وہی بندے معاف کریں گے جن کے حقوق غصب یا سلب کیے ہوں گے‘‘۔ بات تو سچ ہے مگر کیا یہ پرچار کر کے ہم حقوق اللّٰہ کی اہمیت کو کم نہیں کر رہے؟۔ سوچنے کی بات ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان فرق قائم کرنے والا عمل نماز ہے مگر ہم اس اہم عبادت سے اجتناب یا پہلو تہی کی یہ کہہ کر ترغیب دیتے ہیں کہ حقوق اللّٰہ تو معاف ہو جائیں گے، حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے۔ ہمارا یہ رویہ سراسر غلط اور جہالت پر مبنی ہے۔ اگر حقوق العباد ہی کو اہمیت دینی ہے تو پھر یہ کام تو غیر مسلم بھی انجام دے رہے ہیں اور شاید ہم سے بہتر انجام دے رہے ہیں۔ صرف حقوق العباد کی اہمیت کے پروپیگنڈے کے پیچھے وہی لوگ ہیں جو فخریہ اظہار کرتے ہیں کہ ان کا مذہب انسانیت ہے۔ ہمارا دین اسلام ہے جو ایک جامع اور اکمل و کامل دین ہے۔ یہ دین عبادات و اخلاقیات کا مجموعہ ہے اور انسانیت اخلاقیات کا ایک پہلو ہے۔ یعنی ہمارے نادان دوست سمندر کو چھوڑ کر قطرے کو اہمیت دینے کی بات کرتے ہیں۔
یاد رکھیں! اپنے تشخص کی حفاظت پہلا کام ہے۔ پہلے ہم مسلمان بنیں باقی سب کچھ بعد میں آئے گا۔
اللّٰہ تعالیٰ نے بن مانگے ہی ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ اپنے جسم پر ہی نظر دوڑا لیں۔ آنکھیں، دل، ہاتھ، پائوں، جگر، گردے، حواسِ خمسہ سمیت کتنا کچھ مفت میں مل گیا ہے۔ نابینا سے آنکھوں کی قدر پوچھیں، جسم کا کوئی بھی عضو بے کار ہو جائے تو ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ دنیاوی نعمتیں جو ہمیں عطا کی گئی ہیں ان کا کوئی شمار ہی نہیں ہے مگر۔۔۔۔۔۔ کیا ہم نے کبھی ان نعمتوں کے بدلے میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے؟ کیا اس مالک کے سامنے ان نعمتوں کی عطائیگی پر سربسجود ہوئے ہیں؟ ایسا بہت کم ہوا ہے۔ من حیث القوم ہم اللّٰہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بننے کی بجائے ہر وقت اللّٰہ کریم سے شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔ ہم اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ دوسروں کو جو ہم سے زیادہ نعمتیں ملی ہیں وہ ہمیں کیوں نہیں ملیں۔ ہم نے کبھی ان کی طرف نہیں دیکھا جنہیں ہم سے کم عطا کیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ زیادہ کی ہوس نے ہمیں ناشکرا بنا دیا ہے۔ ہم نے خدا کو یاد کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم ناشکرے لوگ ہمیشہ صرف مصیبت میں ہی خدا کو یاد کرتے ہیں، جب بات ہمارے بس سے باہر ہو جائے تو ہمیں خدا یاد آتا ہے۔ سکون، خوشی اور خوش حالی میں ہم یادِ خدا سے غافل رہتے ہیں۔
ایک انجینئر بلڈنگ کی دسویں منزل پر کام کر رہا تھا ایک مزدور بلڈنگ کے نیچے اپنے کام میں مصروف تھا انجینئر کو مزدور سے کام تھا۔ بہت دفعہ آواز دی، لیکن اس نے نہیں سنی.
انجینئر نے جیب سے 10ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا تاکہ مزدور اوپر کی طرف متوجہ ہو جائے۔ لیکن مزدور نے نوٹ اٹھا کر جیب میں ڈالا اور اوپر دیکھے بغیر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
دوسری دفعہ انجینئر نے 50ڈالر کا نوٹ نکالا اور نیچے پھینکا کہ شاید اب کی بار مزدور اوپر کی طرف متوجہ ہو جائے مزدور نے پھر سے اوپر دیکھے بغیر نوٹ جیب میں ڈال لیا۔
اب تیسری دفعہ انجینئر نے ایک چھوٹی سی کنکری اٹھائی اور اسے نیچے پھینک دیا۔ کنکر کا مزدور کے سر پر لگنا تھا اس نے فورا اوپر کی طرف نگاہ کی۔ انجینئر نے اسے اپنے کام کے بارے بتایا۔
یہ در حقیقت ہماری زندگی کی کہانی ہے۔ ہمارا مہربان اللہ ہمیشہ ہم پر نعمتوں کی بارش کرتا ہے کہ شاید ہم سر اٹھا کر اس کا شکریہ ادا کریں اس کی باتیں سنیں لیکن ہم اس طرح اس کی بات نہیں سنتے لیکن جونہی کوئی چھوٹی سی مشکل، پریشانی یا مصیبت ہماری زندگی میں آتی ہے ہم فورا اس ذات کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ ہمیں صرف مشکلات میں اللہ یاد آتا ہے۔۔۔
پس ہمیں چاہیے کہ ہر وقت، جب بھی پروردگار کی طرف سے کوئی نعمت ہم تک پہنچے فورا اس کا شکریہ ادا کریں۔ شکریہ ادا کرنے اور اللہ کی بات سننے کے لیے سر پر کنکری لگنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button