سپیشل رپورٹ

غزہ پر ظالمانہ جنگ کے 5 ماہ، نتائج کیا نکلے؟

غزہ پٹی کے خلاف ظالمانہ جنگ کو 5 مہینے مکمل ہو گئے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس غیر مساوی اور ظالمانہ جنگ کے مختلف نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کی ظالمانہ جنگ کا ایک نتیجہ داخلی طور پر غزہ کے لئے نسل کشی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اس دوران 30,534 افراد شہید اور زخمیوں کی تعداد 71,920 تک پہنچ گئی۔ غزہ کا انفراسٹرکچر بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ بھک مری اور قحط کی وجہ سے غزہ میں بچے جانوروں تک کا کھانہ کھانے پر مجبور ہوئے۔

ادھر مقبوضہ علاقوں غاصب صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جنگی کابینہ اندرونی انتشار، اختلاف اور کشیدگی کا شکار ہے۔

مقبوضہ علاقوں میں مظاہروں میں اضافہ ہوا اور مظاہرین نے نیتن یاہو کی کابینہ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقبوضہ علاقوں سے نقل مکانی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

صیہونی قیدیوں کی رہائی میں صیہونی حکومت کی ناکامی کو مدنظر رکھتے ہوئے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد سے غاصب حکومت کی خفیہ ایجنسی مزید کمزور ہوئی ہے اور اس کی ناکامیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

علاقائی سطح پر غزہ کی جنگ نے ثابت کردیا کہ عرب ممالک کی نظروں میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت نہیں ہے۔

غزہ میں صیہونی حکومت کے نسل کشی کے اقدام کے باوجود عرب ممالک نے غزہ کے عوام کے خلاف صیہونی جرائم کو روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ کام نہیں کیا ہے جبکہ یمن نے، جو حال ہی میں 8 سال کی مسلط کردہ غیر مساوی سعودی جنگ سے باہر نکلا ہے، مقبوضہ علاقوں کے لیے جانے والے بحری جہازوں پر حملے کیے اور ان جہازوں کو مقبوضہ فلسطین کی طرف بڑھنے سے روک دیا۔ اس اقدام سے صیہونی حکومت کی اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سب کے باوجود صیہونی حکومت کے جرائم کے خلاف غزہ کے عوام کی مزاحمت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد الہندی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت مزاحمت کو تباہ کرنے میں ناکام رہی ہے اور غزہ سے اپنے قیدیوں کو واپس بھی نہیں لا سکی۔ 5 ماہ گزرنے کے باوجود صیہونی حکومت غزہ کی جنگ میں اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں کرسکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button