Ali HassanColumn

عدالتی نظام، عوام اور اطمینان .. علی حسن

علی حسن

 

ہفتہ کے روز ہونے والی انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے حاضرین میں سے ایک صاحب نے جو ذمہ دار پوزیشن پر رہے ہیں، سوال پوچھا تھا کہ کیا پاکستان کے عدالتی نظام سے مطمئن ہیں ؟ جسٹس فائز نے جو سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں، کہا کہ وہ خود جواب دینے کی بجائے حاضرین کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں ۔ ’’اگر جواب ہاں ہے تو ہاتھ اٹھائیں ‘‘۔ جج اور وکلاء اور طالب علموں سے بھرے ہال میں ایک شخص نے بھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔ جس پر جسٹس فائز نے کہا کہ امید ہے انصاف کرنے والوں کو جواب مل گیا ہوگا۔ قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’’ سوات میں بچوں کے قاتلوں سے مذاکرات کیوں کئے گئے اور کس نے اجازت دی ۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ججوں، بیوروکریٹس اور فوجی افسران کو کاریں دینا بند کردیں اور وہ پیسہ سائیکل کے راستوں،پیدل چلنے کے راستوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا جائے، فیملی پلاننگ کو سسٹم سے نکالنے سے آج ہماری آبادی بنگلہ دیش سے بھی زیادہ ہوگئی ہے، عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ہمیں دنیا کی جانب دیکھنے کی بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے، غریب تو اپنا حصہ ڈال رہا ہے وہ پیدل چلتا ہے یا سائیکل پر سفر کرتا ہے۔ سیلاب متاثرین کی مدد ہم سب پر فرض ہے، بنیادی حقوق میں سب سے اہم زندگی اور تعلیم کی فراہمی ہے، لیکن ہمارے ملک میں ان دونوں حقوق پر ہمیشہ ہی حملہ ہوتا رہا ہے ، کئی تعلیمی اداروں کو اڑاہی دیا گیا۔قران پاک میں قلم اور علم کی بات کی گئی ہے، غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل بھی یہاں مسئلہ ہے، ہمارا ایمان عورتوں کی عزت کا درس دیتا ہے۔ قران میں بھی عورت کے احترام کا حکم دیا ہے ۔ آئین کے تحت عدلیہ کو بڑی مقدس ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایک جج کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مسلمان شہری کی حیثیت سے بات کروں گا، نبی پاکﷺ کی تعلیمات پر عمل نہ کرنا مسائل کی وجہ ہے۔ جسٹس صاحب نے ایک سانس میں بہت ساری باتیں اور تجاویز پیش کر دیں۔
پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا معاملہ گمبھیرہوتا جا رہا ہے جس پر تمام ذمہ دار حلقوں کو سنجیدگی سے غور کر نے کی فوری ضرورت ہے۔کسی بھی معاشرے کی اہم ترین بنیاد انصاف کی فراہمی ہوتی ہے۔ اگر انصاف فوری نہ ملے، انصاف ہوتا نظر نہ آئے تو معاشرہ کے خصوصاً غریب عوام اسی طرح اپاہج ہوجاتا ہے جیسا پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں امیر کیلئے فوری انصاف کے تمام دروازے کھلے رہتے ہیںجب کہ غریب شخص دروازے میں داخل ہونے کا موقع ہی تلاش کرتا رہ جاتاہے۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا عدالت، کیا پولیس، کیا انتظامیہ وغیرہ۔ کیا انصاف فراہم کرنا صرف عدلیہ
کی ذمہ داری ہے یا وکلاء کا بھی اس سلسلے میں کوئی کردار بنتا ہے؟ اندرون سندھ تو بڑے زمینداروں نے جرگہ کا نظام نافذ کیا ہوا ہے اور اس پر عمل کراتے ہوئے ایک ایک وقت میں قتل جیسے جرم کے فیصلہ بھی صادر کرائے جس کے نتیجے میں طویل عرصے سے جاری قبائلی دشمنیاں بھی ختم ہوئیں۔ حالانکہ سکھر ہائی کورٹ نے کئی سال قبل جرگے منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور فیصلہ میں یہ تک کہا گیا تھا کہ جرگوں میں قتل کے معاملات کے فیصلہ نہیں کئے جائیں گے لیکن اس کے باوجود جرگے منعقد ہوئے۔ جرگے منعقد کرنے والوں کا استدلال یہی رہا ہے کہ عدالتوں سے انصاف ملنے میں بہت تاخیر ہوتی ہے جس کے دوران دشمنیوں میں قتل و غارت گری جاری رہتی ہے۔ جرگوں کے انعقاد کی بنیادی وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے۔شاہنواز امیر نامی شخص کے ہاتھوں قتل ہونے والی اس کی بیوی سارہ کے والد انعام رحیم کا کہنا ہے کہ تین سے چار سماعت میں کارروائی کو سمیٹ کر ملزم کو تختہ دار پر لٹکایا جائے، کیس میں تاخیر کی گئی تو یہ سراسر نا انصافی ہوگی جیسا کہ نور مقدم کا کیس ہمارے سامنے ہے ۔ اگر کیس میں تاخیر کی گئی تو یہ سراسر ناانصافی ہوگی ۔ گزشتہ سال 20 جولائی کو اسلام آباد میں ہی ظاہر جعفر نے سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کو سخت تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔اسلام آباد کی ایک عدالت نے رواں سال فروری میں نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی جبکہ جرم میں ملوث 2 ملازمین کودس دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ہمارے لوگ سعودی عرب، قطر، عرب امارات، برطانیہ، امریکہ، چین، جنوبی کوریا، وغیرہ کے عدالتی نظام پر اطمینان کا اظہار اس لیے کرتے ہیں کہ وہاں فوری سماعت کے بعد فوری فیصلے کر دیئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں سائل جوتیاں ہی گھستے رہتے ہیں۔ ایسی نظام میں موجود سقم ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
وکلاء کے معاوضہ بھی عدالتوں سے ہٹ کر فیصلے کرانے یا کرنے کی وجہ بتائی جاتی ہے۔ وکلاء کے معاوضوں کے بارے میں تو وکلاء کی تنظیمیں ہی فیصلہ کر سکتی ہیں۔ وکلاء کی خدمات کے معاوضے کا آغاز جہاں سے ہوتا ہے، غریب شخص تو اس کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا ہے۔اسی لیے غریب کبھی عدالت کے دروازوں یا پھر آسمان کی طرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔ غریبوں کو وکلاء کی سہولت فراہم کرنا بھی عدالتوں کی ذمہ داری قرار دی جاتی ہے، لیکن اس پر عمل ندارد ہے ۔ اسی لیے اس سوال ’’ کیا وہ عدالتی نظام سے مطمئن ہیں‘‘کا جواب حاضرین سے بھرے ہوئے ہال میں سے کسی نے نہیں دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں صحیح عکاسی کی کہ’’ خوشحال پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ عدلیہ تک ملک کے تمام طبقات کی مساوی رسائی ہو‘‘۔ چیف جسٹس کہتے ہیں کہ تمام طبقات کو مساوی رسائی حاصل ہو۔ مساوی رسائی تو ہمیشہ ایک خواب ہی رہے گا۔ جب غریب کے پاس وسائل ہی نہیں ہوں گے کہ وکیل صاحب کی فیس ادا کر سکے تو اسے کیوں کر مساوی رسائی حاصل ہو سکے گی۔ چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنی تقریر میں کہا کہ آئین کے احترام ہی سے ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔ خواتین کو ایگزیکٹیو، مقننہ اور عدلیہ کی فیصلہ سازی میں شامل کرنا ضروری ہے،مشترکہ کوششوں سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جا سکتی ہے،خوشحال پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ عدلیہ تک ملک کے تمام طبقات کی مساوی رسائی ہو۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تنازعات کے حل کے متبادل نظام کیلئے قانون سازی ضروری ہے، عوام کو عدالتوں میں آنے کی بجائے ثالثی کے نظام سے رجوع کرنے کی آگاہی دی جانی چاہیے،عدالتوں میں غیر ضروری مقدمات کی وجہ سے مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے جج صاحبان یہ سمجھتے ہیں کہ ثالثی کا نظام موجود ہو تو عدالتوں پر مقدمات کا غیر ضروری بوجھ نہیں پڑے گا تو پھر ملک کی سب سے بڑی عدالت کو ثالثی نظام کے بارے میں حکومت کو ہدایت دینا چاہیے کہ اس نظام کو ہی متعارف کرائے تاکہ متاثرین کو فوری انصاف فراہم ہو سکے اور وہ عدالتوں اور مملکت سے بد ظن نہ ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button