
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ جنگ کا نہیں بلکہ امن کا معاہدہ ہے، پاکستان اس معاہدے کے تحت خطے میں امن کا خواہاں ہے اور یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، اس دوران ایسے لمحات بھی آئے جب صورت حال کشیدہ ہوگئی لیکن پاکستان نے ہمت نہیں ہاری۔
پیر کو قطر میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور فیلڈ مارشل نے عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے مشترکہ تعاون ضروری ہے جب کہ پاکستان طویل عرصے سے عالمی امن مشنز میں بھی اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ چند سال خطے کے لیے انتہائی پریشان کن رہے تاہم یہ صورت حال صرف خطے تک محدود نہیں تھی بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بنی۔ پاکستان نے کشیدگی ختم کرنے اور امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی ذاتی کاوشوں اور بین الاقوامی تعلقات کے باعث مذاکرات کا راستہ ہموار ہوا، میں نے خود دیکھا کہ بات چیت کا یہ مرحلہ کتنا مشکل تھا اور اس دوران ایسے لمحات بھی آئے جب صورت حال کشیدہ ہوگئی لیکن پاکستان نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے تجربے کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امن صرف ایک ملاقات یا اجلاس سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے صبر و تحمل کے ساتھ مسلسل کوششیں کرنا پڑتی ہیں، پاکستان ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہا ہے کہ جنگ کے مقابلے میں مذاکرات بہتر راستہ ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ جنگ کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے ہے اور یہ علاقائی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے قطر کی سفارتی کوششوں کو بھی قابل قدر قرار دیا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے خود دہشت گردی کے باعث بھاری نقصانات اٹھائے ہیں، اس لیے دہشت گردی جیسے مشترکہ دشمن سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی چیلنج ہے، جس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے تجربات سے 3 اہم چیزیں سیکھیں ہیں۔ پہلا یہ کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کرنے چاہئیں، دوسرا یہ کہ اعتماد کسی بھی بات چیت کا سب سے اہم جزو ہے جب کہ تیسرا یہ کہ امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کی جانب سے مخلصانہ کوششیں ضروری ہیں







