تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

یاسین ملک کا بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کردیا

بھارتی قید میں موجود کشمیری رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کردیا۔

یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرا دیا جس میں یاسین ملک کے 24 اگست کے تحریری بیانات کو شہادت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

یاسین ملک نے حلف نامے میں کہا ہےکہ بھارتی حکومت مجھے 36 سال بعد ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے پھانسی دینے کی سازش کرچکی ہے، بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، عدالت سزائے موت بھی عائد کرے تو کشمیر کے لیے قبول ہے، عدالتی سزا قبول کرنے کا مطلب عائد جرم قبول کرنا نہیں ہے۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کی دوٹوک تردید کی، انہیں سرلا بھٹ کی لاش کے ساتھ پڑے مبینہ جے کے ایل ایف نوٹ کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سرلا بھٹ کے قتل سے 11 روز قبل شدید زخمی ہونے کے باعث قتل کی منصوبہ بندی یا ہدایات دینا ممکن نہیں تھا، بھارتی ایجنسیوں نے پاکستان سے تعلقات بڑھانے کو کہا اور بعد میں اسی کو میرے خلاف بطور ثبوت پیش کیا گیا، واجپائی حکومت کے دور میں اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا نے پاک بھارت تعلقات میں مثبت کردار ادا کرنے کو کہا۔

یاسین ملک کے مطابق 2019 اور 2024 کے انتخابات میں پاکستان مخالف پالیسی کے طور پر میرا نام، تصویر اور عدالتی کارروائیوں کو سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کیا گیا۔

حلف نامے میں طویل قید، تنہائی،والدہ، اہلیہ اور بیٹی سے برسوں کی جدائی کا ذکر

یاسین ملک نے مشعال ملک کو طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ نے بہادری کےساتھ میرا ساتھ دیا، میں آپ کو اپنی رفاقت سے آزاد کرتا ہوں

یاسین ملک نے بیٹی کو دادی سے بات چیت کرتے رہنے کی تلقین کی اور کہا کہ دادی کا غم آپ نے ہلکا کرنا ہے، اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے رکھ دی، باقی فیصلہ اللہ پر چھوڑتا ہوں

جواب دیں

Back to top button