تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیات

ایران نے اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے بعد کے عرصے کو ایک بڑی جنگ کی تیاری کیلئے استعمال کیا: امریکی اخبار

امریکی اخبار کے مطابق جون کے وسط میں اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے بعد ایران کے سخت گیر رہنماؤں نے گزشتہ دو ماہ ایک بڑی جنگ کی تیاری میں صرف کیے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق اس تیاری کے سلسلے میں پاسداران انقلاب کو ملک کی باقاعدہ فوج کا مزید کنٹرول دیا گیا اور اہم عہدوں پر عراق جنگ کے تجربہ کار اور ماضی کے داخلی کریک ڈاؤنز میں شامل فوجی افسران کو تعینات کیا گیا۔

ساتھ ہی داخلی انسدادِ انٹیلی جنس آپریشنز کو وسعت دی گئی ہے اور میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار میں تیزی لائی گئی، ساتھ ہی ایرانی قیادت نے تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت مضبوط کرنے کے لیے بحری جہازوں پر حملے کیے اور جنگ کے دائرے کو بحیرہ احمر تک پھیلا دیا۔

امریکی حکام کے مطابق عرب انٹیلی جنس حکام کو ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی سخت گیر قیادت جنگ کو وسعت دینے اور امریکا کے لیے مشکلات بڑھانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔

اس صورتحال نے کویت جیسے خلیجی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ ایرانی رہنما تیزی سے دشمن کی سرزمین پر جارحانہ کارروائیوں کی بات کر رہے ہیں اور ان کا سب سے بڑا مقصد دشمن کو شدید نقصان پہنچانا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایران نے گزشتہ سال 12 روزہ جنگ اور موجودہ تنازعے میں جن حملوں کا سامنا کیا ہے وہ دوبارہ نہ ہوں۔

ایرانی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے دفاعی تجزیہ کار محمد حسن سنگتراش کے مطابق ’ایران میں یہ نظریہ عام ہے کہ اصل جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک جو کچھ دیکھا گیا ہے وہ محدود اور مرحلہ وار کشیدگی ہے جس کا مقصد کسی بڑے حملے سے قبل دشمن کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی حکام کو تشویش ہے کہ ایران توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے اپنے انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور میزائل اڈوں تک رسائی بحال کر رہا ہے، ایران نے امریکی اڈوں کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اور اس کے پاس بحری جہازوں اور خلیج میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو خطرے میں ڈالنے کے لیے خاطر خواہ فائر پاور موجود ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق در حقیقیت ایران دوہری پالیسی پر عمل پیرا تھا جہاں ایک طرف اس کے سفارتکار امریکا کے ساتھ امن معاہدے کی کوشش کر رہے تھے وہیں دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی اداروں کو ایک بڑے تصادم کے لیے تیار کرنے کے اقدامات کر رہے تھے جس کا آغاز ممکنہ طور پر تہران خود کر سکتا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ عرب انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد کے عرصےکا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاسداران انقلاب نے خطے میں اپنے اتحادیوں کے پاس عراق، یمن اور لبنان میں مشیر بھیجے تاکہ ضرورت پڑنے پر حملوں کو تیز کرنے کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔

پاسداران انقلاب نے بحیرہ احمر پر نظر رکھنے والے مقامات پر میزائلوں، بحری ہتھیاروں اور ڈرون لانچرز کی تنصیب کی نگرانی کی اور حکام کے مطابق انہوں نے یمنی عسکریت پسندوں کو انٹیلی جنس معلومات اور سعودی بندرگاہوں اور توانائی کی تنصیبات سمیت اہداف کی فہرستیں فراہم کیں اور سعودی جوابی کارروائی سے بچنے کے لیے مشورے بھی دیے۔

امریکی اخبار نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاسداران انقلاب نے خلیجی ریاستوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے ایران میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو وہ بھی ان کی توانائی کی تنصیبات کو تباہ کر دیں گے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے عرب ہم منصبوں کو انفرادی اہداف کی تفصیلی فہرستیں تک بھیج دی ہیں۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بھی جولائی میں تسنیم نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ہم نے جنگ بندی کے دور کا پورا فائدہ اٹھایا، ہم نے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا، میزائلوں کی پیداوار کو تیز کیا اور میزائلوں کی درستگی کو بہتر بنایا۔

اخبار کے مطابق اعلیٰ ایرانی مذاکرات کاروں کے قریبی ذرائع نے بھی خبردار کیا ہے کہ موجودہ امن مذاکرات ایک بڑے تنازعے سے قبل محض ایک عارضی وقفہ ہو سکتے ہیں اور ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے اسٹریٹجک مشیر مہدی محمدی نے اس موجودہ تعطل کو ‘طوفان سے پہلے کی خاموشی’ قرار دیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button