ColumnImtiaz Aasi

نئی حج کمپنیوں کی بازگشت اور ہوپ کے انتخابات

نئی حج کمپنیوں کی بازگشت اور ہوپ کے انتخابات

تحریر: امتیاز عاصی

حج ایسی عبادت زندگی میں ایک بار فرض کی گئی ہے جس کے لئے انسان پیسہ پیسہ جمع کرکے حق تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے اس کے گھر کا قصد کرتا ہے۔ کبھی سعودی عرب میں معلمین حجاج کی خدمت کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ معلمین کی جگہ اب حج کمپنیوں نے لے لی ہے۔ مشاعر مقدسہ میں خیموں کے لئے جگہ باقاعدہ آکشن ہوتی ہے جس سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا سعودی حکومت کے لئے حج و عمرہ آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ تعجب ہے کئی عشرے گزرنے کے بعد ہماری وزارت مذہبی امور کو حج امور میں شفافیت لانے کے لئے ایک نئے فریم ورک کا اعلان کرنا پڑا ہے ورنہ جب سے نجی گروپس میں حجاج کو لے جانے کو نظام متعارف کرایا گیا ہے مذہبی امور کے حکام کو اس نظام میں شفافیت کی فکر لاحق نہیں تھی۔ اس ناچیز کے خیال میں نجی گروپس کے نظام کے آغاز میں وزارت مذہبی امور سے بھول ہوئی یا پھر اس وقت کے مجاز حکام نے لوگوں کو ممنون کرنے کے لئے چھوٹے سے چھوٹا گروپ بنانے کی اجازت دے دی حالانکہ دیگر ملکوں سے حجاج بڑے بڑے گروپس کی شکل میں لائے جاتے ہیں۔ عازمین حج کو سعودی عرب لے جانے کا کام اتنا نفع بخش ہے کہ بعض نجی کمپنیوں کو حج کوٹہ کے لئے سپریم کورٹ تک جانا پڑا جس کے بعد عدالت عظمی نے کوٹہ کا تعین کیا۔ ایک وقفے کے بعد وزارت مذہبی امور نے رجسٹرڈ حج کمپنیوں کی ایک طویل انتظاری فہرست سے لوگوں کو ممنون obligeکرنے کے لئے ایک نئے فریم ورک کا اعلان کیا ہے جس میں سرمائے کی حد اتنی رکھی گئی ہے کہ چھوٹی کمپنیاں از خود مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گی۔ ہماری معلومات کے مطابق نو سو سے زائد حج کمپنیاں جو پہلے سے کام کر رہی ہیں ان پر نیا فریم ورک آئندہ سال لاگو ہو گا جب کہ ٹور آپریٹروں کی انتظاری فہرست اور نئے سفارشیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے جس فریم ورک کا اعلان کیا گیا ہے اسے Prospective Capability Matrixکا نام دیا گیا ہے۔ گزشتہ سالوں میں حج کمپنیوں کو اپنا اپنا پیکیج وزارت مذہبی امور سے منظور کرنا پڑتا تھا شائد اب تو پیکیج کی منظوری کو ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ پندرہ سے بیس لاکھ کا حج پیکیج بھی دیا جاتا ہے۔ حج کمپنیاں اب تو اتنا سرمایہ رکھتی ہیں پاکستان کے مختلف شہروں میں حج کمپنیوں کی تنظیم ہوپ نے عمارات خرید کر اپنے دفاتر قائم کر دیئے ہیں۔ گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں ہوپ کے سیکرٹریٹ کی نئی عمارات کا افتتاح کیا گیا ہے جو امر کا غماز ہے عازمین حج کو سعودی عرب لے جانے کا کام نہ صرف سعودی حکومت بلکہ پاکستان میں کام کرنے والی حج کمپنیوں کے لئے بھی بڑا نفع بخش بن چکا ہے۔ نئے فریم ورک میں نئی کمپنی کے لئے جو شرائط رکھی گئیں ہیں ان میں ایک عازم حج کے لئے سرمایہ کی حد دس لاکھ مقرر کی گئی ہے۔ دو سے تین ہزار عازمین حج کی کیٹگری کے لئے سرمایہ کی حد تین ارب اور ادا شدہ سرمایہ تیس کروڑ جب کہ مجاز سرمایہ ساٹھ کروڑ اور پندرہ کروڑ پرفارمنس گارنٹی رکھی گئی ہے۔ ایک ذرائع نے اس امر کی شکایت بھی کی ہے کہ ہوپ کی قیادت 2024ء میں65ہزار عازمین حج کے لئے حکومت کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا اسے حج گروپ آرگنائزروں سے خفیہ کیوں رکھا گیا تھا۔ چنانچہ معاہدے کو مخفی رکھنے کے باعث سعودی حکومت کی ٹائم لائن گزرنے کے بعد معاہدے کو سولہ مارچ کو پبلک کیا گیا۔ ان حلقوں کی شکایت ہے جب معاہدے پر دستخط 25دسمبر 2024 ء کو ہو گئے تھے تو اسے اتنی تاخیر سے پبلک کیوں کیا گیا جس سے بہت سے گروپ آرگنائزر عازمین حج کو سعودی عرب لے جانے سے محروم ہو گئے۔ ان حلقوں نے سال رواں میں حج کوٹہ میں کٹوتی کی بھی شکایت کی ہے۔ ان حلقوں کے مطابق اب ہوپ کے انتخابات بہت قریب ہیں ایسے حج گروپ آرگنائزر جنہیں سعودی حکومت سے رقم واپس نہیں ملی تھی ہوپ کے عہدے داران اب واپس کرکے اپنے اس عمل کو الیکشن کے لئے بطور لیور بروئے کار لا رہے ہیں۔ درحقیقت عہد حاضر میں عازمین حج کو فریضہ حج کے لئے لے جانا بہت بڑا کاروبار بن چکا ہے انہی وجوہ کی بنا نئی حج کمپنیوں کو وجود عمل میں لایا جا رہا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے امسال آئندہ سال کے لئے عازمین حج کی رجسٹریشن کرکے ایک احسن اور بروقت قدم اٹھایا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے تمام ملکوں کو سعودی وزارت حج و عمرہ کی ٹائم لائن پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تاسف ہے وزارت مذہبی امور ہر سال حج کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ تو لیتی ہے مگر آج تک جن جن کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے ان کی فہرست کو پبلک کرنے نے نہ جانے کیوں گریزاں ہے۔ سوال ہے کیا ہر سال حج ٹور آپریٹروں کے خلاف کسی قسم کی حجاج کی طرف سے شکایت موصول نہیں ہوتی۔ ایک خبر کے مطابق امسال حجاج کی بڑی تعداد نے حجاج کو فراہم کئے جانے والے کھانے کے علاوہ اور ہزاروں شکایات کیں جن کے بارے عوام کو بے خبر رکھا گیا ہے۔ آخر میں ایک بات جس پر وزارت مذہبی امور نے عرصہ دراز سے چپ سادھ رکھی ہے وہ مدینہ منورہ میں پاکستان ہائوس کی عمارت کی خریداری کا معاملہ ہے جس کے لئے سعودی حکومت کی طرف سے اجازت مل چکی ہے تاہم اس کے باوجود عمارت کی خریداری میں تاخیر سمجھ سے بالاتر ہے۔ وزارت مذہبی امور کے حکام کو یاد رکھنا چاہیے سعودی عرب میں پاکستان ہاوسز ہمارے ملک کی پہچان ہیں۔ جب سعودی شرعی عدالت کے پاس عمارات کی خریداری کے لئے کئی ملین ریال موجود ہیں تو عمارات کی خریداری میں تاخیر کیوں ہے؟ یہ درست ہے وزارت مذہبی امور کے حکام کو سعودی حکام کی مدح سرائی ضرور کرنی چاہیے تاہم اس کے ساتھ گوناگوں مسائل کے حل کے لئے لائحہ عمل ہونا چاہیے۔ وزارت مذہبی امور کے حکام عازمین حج کے امور کو اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت سمجھ کر سرانجام دیں تو ان کی عاقبت سنور سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button