بحری راستوں کی بندش

بحری راستوں کی بندش
تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)
طاقت کا نشہ عموما، مضمرات سے بے نیاز تو کرتا ہے مگر بسا اوقات اس کے نتائج انتہائی ہولناک اور خوفناک ہوتے ہیں بالخصوص جب فریق مخالف کی طاقت و مزاحمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہ ہو، اس کی استعداد کے متعلق تخمینے غلط ہوجائیں یا اس کی مزاحمت توقعات سے کہیں بڑھ جائے تو نقصانات بھی اسی تناسب سے کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ 28فروری 2026ء کو امریکہ بھی، طاقت کے نشے میں ایک بار پھر بعینہ ماضی ،مشرق وسطیٰ میں وارد ہوا کہ اس کے خیال میں مشرق وسطیٰ کی قدیم ترین قوم و تہذیب میں ،دہائیوں سے پابندیوں کا شکار قوم میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ امریکی حملے برداشت کرپاتی اور امریکہ کو یہ گمان گزرا کہ وہ چند دنوں میں اس ملک و قوم کو زیر کرنے میں کامیاب ہو جائیگا مگر بدقسمتی سے تاحال امریکی اندازے،تخمینے اور مزاحمتی توقعات ،اسے اپنے توسیع پسندانہ عزائم میں ناکام کئے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے ماضی میں ہونے والے ایک سانحہ کو بنیاد بنا کر،ایران کے پڑوسی ملک عراق کو نہ صرف بری طرح تاراج کیا تھا بلکہ آج تک اس کے معدنی ذخائر پر قابض ہے اور اس کی کل آمدن پر امریکہ کا قبضہ ہے جبکہ عراق کو ضرورت کے مطابق،امریکہ اخراجات کے لئی اس آمدن کا کچھ حصہ خیرات کی صورت ادا کرتا ہے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ آج کے دور میں بھی،وسائل عراق کے ہیں مگر ان پر قبضہ امریکہ کا ہے اور امریکہ ایک مرتبہ کی جارحیت کے بعد،ان وسائل کا مالک بنا بیٹھا ہے،اسی طرح جاپان اور کئی دیگر ممالک بھی امریکہ کے زیر اثر ہیں اور امریکہ ان کی دفاعی ضروریات کے عوض،ان کے وسائل ہڑپ کررہا ہے۔ دنیاکے کئی ممالک پربالواسطہ قابض ہونے کے باوجود،ان وسائل کو ہتھیانے کے باوجود،امریکہ کی اپنی معیشت پر نظر دوڑائیں تو اس وقت امریکہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے،جس پر دنیا کا سب سے زیادہ قرضہ،قریبا 37ٹریلین ڈالر واجب الادا ہے، یوں اس کی اپنی معیشت اس وقت انتہائی سخت مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ اپنی اس خامی کو پورا کرنے کے لئے،اپنے قرضوں کو اتارنے کے لئے،امریکہ کے پاس جو راستے موجود ہیں،ان میں اولین تو صنعتی پیداوار ہے ،جس کی پیداوار امریکہ سے باہر دیگر ممالک میں ،سستی لیبر کے باعث منتقل ہو چکی ہے ،یوں برانڈ بے شک امریکہ کا ہے مگر اس کی پیداوار دنیاکے دیگر ممالک میں ہورہی ہے،اس طرح امریکی برانڈز کی بیشتر کمائی امریکی سرمایہ کاروں کی جیب؍ تجوری میں تو جارہی ہے مگر امریکی میں مقامی آبادی کو اس کا حصہ نہیں مل رہا۔دوسرا راستہ ،جو دفاعی صنعت سے وابستہ ہے اور براہ راست امریکی معیشت کا دوسرا ستون ہے،اس کے لئے دنیا میں یا جنگوں کا بازار گرم ہو یا ایسی ریاستیں جو اپنے دفاع میں خود کفیل نہ ہوں بلکہ امریکہ یا کسی دوسری طاقتور ریاست کے مرہون منت ہوں کہ جہاں امریکہ اپنے دفاعی نظام اور فوجیوں کو تعینات کرکے ،اس کا معاوضہ وصول کرے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ نے گزشتہ صدی میں اپنے دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ ،اپنی فوج کو بھی مشرق وسطی کے کئی ایک ممالک میں تعینات کرکے،ان ممالک سے خطیر رقم اکٹھی تو کی مگر اس کے باوجود امریکہ میں مقامی صنعت کے عدم پھیلائو سے وہ نتیجہ حاصل نہیں کرپایالہذا صدر ٹرمپ ،اپنے انتخابی منشور کے برعکس جنگیں رکوانے کی بجائے،جنگ کروانے میں ملوث ہو چکے ہیں۔ البتہ جنگ کہاں اور کس ملک کے خلاف شروع کی جانی ہے،اس کے متعلق امریکی صدر انتہائی سے زیادہ سمجھداری کی بجائے چالاکی سے بروئے کار آئے ہیں اور ایسے خطے کا انتخاب کیا ہے کہ جہاں ان کے دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ فوجی بھی پہلے سے ہی موجود تھے اور اس خطے کی متمول ریاستیں ،اس جنگ کا بوجھ اٹھانے کی سکت بھی رکھتی ہے لہذا میدان جنگ مشرق وسطیٰ کو بنایا گیاتاہم ان عزائم کے باوجود ابھی تک امریکہ مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کو اس جنگ میں براہ راست اتارنے میں ناکام رہا ہے۔
ابتدائی چالیس روزہ جنگ میں ایک طرف امریکہ ؍اسرائیل نے ،پہلے ہی ہلے میں ایرانی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا تو دوسری طرف میناب میں بچیوں کے سکول کو نشانہ بنا کرسو سے زائد بچیوں کو شہید کر دیا،اس سکول کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ یہ غلط معلومات کی بنیاد پر ہوا بہرحال یہ سانحہ امریکہ کے ماتھے پر کلنک کا نشان رہے گا،تیسری طرف ایران کی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ردعمل کے طور پر ایران نے شدید مزاحمت کرتے ہوئے،خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو تاک تاک کر نشانہ بنانا شروع کیا اور امریکی طاقت کو کچلنا شروع کر دیا،جو ابھی تک فریقین کی جانب سے جاری ہے۔ چالیس روزہ جنگ کے بعد،امریکی صدر کی آنکھوں سے طاقت کا زعم ہٹا ،یا زمینی حقائق نے لائحہ عمل تبدیل کرنے پر مجبور کیا کہ پاکستان جیسے ملک کے وزیراعظم کی ’’ درخواست‘‘،جو بعدا زاں امریکی خواہش ثابت ہوچکی کہ پاکستانی وزیراعظم نے اس درخواست کا متن بغیر تبدیل کئے اپنے’’ X‘‘ پر شئیر کر دی، جس سے ساری دنیا کو علم ہو گیا کہ اس جنگ بندی کا خواہش مند درحقیقت کون ہے؟، البتہ اس حقیقت کا آج تک علم نہیں ہو سکا اور نہ ہو سکے گا کہ کیا جوش جذبات میں پاکستانی وزیر اعظم نے ،غلطی سے اس درخواست کو شیئر کیا تھا یا پس پردہ دنیا کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اس جنگ بندی کا اصل خواہشمند کون ہے؟بہرحال اس درخواست کو امریکی صدر نے فوری طور پر منظور کرتے ہوئے،جنگ بندی کا اعلان کردیا اور پس پردہ مذاکرات کی میز سجائی گئی۔ بہرحال ان مذاکرات کا جو حشر ہوا،وہ اب ماضی اور تاریخ کا حصہ ہے اور ایران کے خدشات ان مذاکرات کے حوالے سے، امریکی صدر اور حکام نے سچ ثابت کئے ہیںکہ امریکہ ان مذاکرات کی آڑ میں دوسرا کھیل کھیلنا چاہتا تھا،اور ہے۔ اس دوران البتہ یہ ضرور ہوا کہ امریکہ جو ایرانی جزیرے ’’ خارگ‘‘پر،امریکی صدر کی دیرینہ خواہش،قبضہ کرنے کے لئے پر تولتا رہا جو ایرانی معیشت کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ایران نے اب تک نہ صرف خارگ جزیرے کا تحفظ کیا ہے بلکہ صدیوں سے موجود آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط اس قدر مضبوط کر لیا ہے کہ یہ آبنائے، جو دنیا بھر کے بیس فیصد اور تیس فیصد ایل این جی کی گزرگاہ کے ساتھ ساتھ، خلیجی ممالک کے لئے اشیائے ضروریہ کی ترسیل کا ذریعہ ہے، اس کو مکمل اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ جنگ کی موجودہ صورتحال یہی ہے کہ ایک طرف بظاہر امریکہ اس آبنائے کو کھلوانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن دوسری طرف اس آبنائے کی ناکہ بندی بھی کئے ہوئے ہیں،یوں وہ تجارتی جہاز جو اس آبنائے میں پھنسے ہوئے ہیں، ایران کی اجازت کے بغیر یہاں سے نکل نہیں سکتے اور ایرانی جہازوں کو امریکی ناکہ بندی سے گزرنے کی اجازت نہیں۔ امریکی صدر اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ ایران پر بمباری کی نسبت آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی زیادہ موثر ہے کہ اس طرح ایرانی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے لیکن اس کے باوجود، ایران نے ابھی تک شکست تسلیم نہیں کی اور نہ کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایک طرف خلیجی ممالک کی تجارت بری طرح متاثر ہورہی ہے تو دوسری طرف ان ممالک کے لئے اشیائے ضروریہ کی فراہمی بھی مشکلات سے دوچار ہے، جبکہ اصل معاملہ یورپی ممالک کے لئے ہے کہ ان کی صنعت کے علاوہ عوامی سطح پر بھی توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ جنگ اور مذاکرات کی اس آنکھ مچولی میں خام تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہو رہی جبکہ اس کی ترسیل بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے البتہ امریکی سینٹ کام کے مطابق مئی سے اب تک، مخدوش صورتحال کے باوجود،900سے زائد تجارتی جہازوں کی آمد و رفت آبنائے ہرمز سے ممکن ہوئی ہے، جس میں قریبا 4500ملین بیرل خا م تیل کی ترسیل بھی ممکن ہوئی ہے، واللہ اعلم بالصواب۔ اب اس صورتحال کے پس منظر میں جائیں تو دوسری حقیقت بھی واضح ہے کہ امریکہ نے ایران پر جارحیت کرنے سے قبل تیل پیدا کرنے والے ایک دوسرے اہم ملک وینزویلا پر بھی بعینہ عراق قبضہ کر لیا تھا یعنی دنیا کو تیل و گیس کی سپلائی جاری رکھنے کے لئے، تیل کے تمام ذخائر پر امریکہ قابض ہونا چاہ رہا ہے تاکہ تیل کی کمائی سے اپنی معیشت کو سنبھالا دے سکے۔ امریکی منصوبے ایک طرف اور اللہ رب العزت کے منصوبے دوسری طرف اور بے شک، دوام اللہ رب العزت کے منصوبوں کو ہی ممکن ہے، امریکی اپنے منصوبوں کے مطابق ابھی تک خلیجی ریاستوں کو اس جنگ میں ملوث کرنے میں ناکام ہیں، جس میں ان خلیجی ریاستوں کی دانشمندی کے ساتھ ساتھ صبر و تحمل کا اہم کردار ہے، تو دوسری طرف اس جارحیت کے نتیجہ میں قدرتی آبی گزرگاہ پر ایران کا قبضہ تاحال مسلم کروا چکا ہے اور تیسری طرف صورتحال یہ ہے کہ یمنی انصار اللہ نے تادم تحریر باب المندب، بحیرہ احمر کا دہانہ بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے جبکہ اس تحریر کی اشاعت تک وہ بھی بند ہو چکا ہوگا۔







