
*صنعتوں کی منتقلی سے پہلے نئے صنعتی زون قائم کیے جائیں: فہیم الرحمٰن سہگل*
_کوٹ پنڈی داس میں نئے ایس ایم ای صنعتی اسٹیٹ کا منصوبہ متعارف کرایا جائے گا: ایم ڈی پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن_
لاہور، 2 جولائی: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن پر زور دیا ہے کہ لاہور کے گردونواح میں فوری طور پر نئے صنعتی زون قائم کیے جائیں کیونکہ مکمل سہولیات اور مناسب قیمت پر صنعتی علاقے بنائے بغیر صنعتوں کی منتقلی ممکن نہیں۔
ان خیالات کا اظہار صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر مبین الٰہی سے ملاقات کے دوران کیا۔ اجلاس میں لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، پی ایس آئی سی کے ڈائریکٹر اسٹیٹس سبیح رضا، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین سید سلمان، عامر علی، افتخار احمد، محسن بشیر، ندیم انصاری، سید حسن رضا، شعبان اختر اور عرفان قریشی بھی موجود تھے۔
اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر پی ایس آئی سی مبین الٰہی نے وفد کو کوٹ پنڈی داس، لاہور میں نئے سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ تقریباً 130 ایکڑ پر مشتمل ہوگا، جس میں 364 صنعتی پلاٹس قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کار پلاٹ کی قیمت کا 40 فیصد بطور ڈاؤن پیمنٹ ادا کریں گے جبکہ باقی 60 فیصد رقم دو سال کے دوران سہ ماہی اقساط میں ادا کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ فی کنال قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جس میں ترقیاتی اخراجات بھی شامل ہیں، جبکہ صنعتکاروں کو آسان شرائط پر مالی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے صنعتوں کو سیل کرنے، نوٹس جاری کرنے اور کارروائیوں سے کاروباری برادری شدید بے یقینی کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ سگیاں، دروغہ والا اور ملتان روڈ سمیت مختلف علاقوں میں قائم صنعتیں کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہیں۔ ان صنعتوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، ہزاروں افراد کو روزگار دیا، ٹیکس ادا کیے اور ملکی برآمدات و معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں مناسب اور کم لاگت صنعتی زون موجود نہ ہونے کی وجہ سے صنعتکاروں نے انہی علاقوں میں اپنی صنعتیں قائم کیں، اس لیے متبادل انتظام کیے بغیر انہیں مشکلات میں ڈالنا مناسب نہیں۔
فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ کاروباری برادری منصوبہ بندی کے تحت شہری ترقی اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کی حامی ہے، لیکن جب تک مکمل بنیادی سہولیات سے آراستہ نئے صنعتی زون قائم نہیں کیے جاتے، صنعتوں کی منتقلی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور اور اس کے گرد موجود صنعتی اسٹیٹس تقریباً مکمل طور پر بھر چکے ہیں اور مزید صنعتوں کی گنجائش نہیں رکھتے۔انہوں نے پی ایس آئی سی پر زور دیا کہ وہ بجلی، گیس، پانی، سڑکوں، سیوریج، ڈرینیج اور دیگر تمام بنیادی سہولیات سے آراستہ نئے ایس ایم ای صنعتی زون قائم کرے۔ انہوں نے ون ونڈو آپریشن اور پلگ اینڈ پلے سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ صنعتیں جلد کام شروع کر سکیں۔
لاہور چیمبر کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ روڈا، انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) سمیت دیگر اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس اس وقت تک معطل کیے جائیں جب تک صنعتوں کی منتقلی کے لیے مناسب انتظامات نہیں ہو جاتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس صنعتی کلسٹرز کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں، جس کی وجہ سے مؤثر پالیسی سازی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پی ایس آئی سی، ایل سی سی آئی کے مشورے سے ایس ایم ای صنعتی زونز کے لیے طویل مدتی ماسٹر پلان تیار کرے۔
لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ نے منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کی منتقلی پر بہت زیادہ لاگت آئے گی، اس لیے زمین کے ساتھ ساتھ فیکٹری عمارتوں کی تعمیر اور مشینری کی خریداری کے لیے بھی آسان مالی سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ صنعتیں پہلے ہی پیداواری لاگت میں اضافے اور مشکل کاروباری حالات کا سامنا کر رہی ہیں جبکہ روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ منصوبے کا آغاز محدود پیمانے پر کیا جائے اور بعد ازاں ضرورت کے مطابق اس میں توسیع کی جائے۔
اجلاس کے دوران لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے بھی مختلف تجاویز پیش کیں، جن میں صنعتی کلسٹرز کی بنیاد پر مرحلہ وار منتقلی، منتقلی کے لیے خصوصی مراعات، مجوزہ صنعتی اسٹیٹ کا رقبہ بڑھا کر کم از کم 500 ایکڑ کرنا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 20 سالہ لیز ماڈل متعارف کرانے کی تجاویز شامل تھیں۔






