CM RizwanColumn

غربت، سیاسی کشیدگی میں اضافہ

غربت، سیاسی کشیدگی میں اضافہ

سی ایم رضوان

پاکستان میں غربت اور سیاسی کشیدگی میں حالیہ سالوں کے دوران مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاسی کشیدگی میں اضافے کی وجہ تو سیاستدانوں کی ترجیحات کے خاص طور پر غلط تعین کا بڑا عمل دخل ہے جبکہ عالمی بینک اور اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں معاشی بحران اور شدید مہنگائی کی وجہ سے اس کے کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 2019ء اور 2020ء میں 22فیصد کے قریب تھی۔ سال2023۔2024ء میں کووڈ 19کے اثرات نے بھی پاکستان میں غربت میں اضافہ کیا، اس سے قبل 2022کے تباہ کن سیلاب کے باعث بھی یہ شرح قریباً 39.8فیصد سے 44.7فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اب اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 38.3فیصد سے زائد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار ہے، جبکہ روزانہ 3.65ڈالر پر زندگی بسر کرنے والی آبادی کی شرح میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی کثیر الجہتی غربت انڈیکس کے مطابق اگر پاکستان اور بھارت میں غربت کی شرح کا تقابل کیا جائے تو یہ امر سامنے آتا ہے کہ بھارت نے پچھلی دو دہائیوں کے دوران اپنے لاکھوں افراد کو غربت سے باہر نکالا ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کی مسلسل معاشی پالیسیاں، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور آئی ٹی سیکٹر کی پیشرفت ہے جبکہ پاکستان میں معاشی عدم استحکام کے باعث یہ شرح بھارت کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اس شدید غربت کی وجہ یہاں پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور بار بار کی سیاسی کشمکش ہے جو کہ معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافے اور نت نئے ٹیکسوں کی وجہ سے بھی عام آدمی کی قوتِ خرید بالکل ختم ہو چکی ہے۔ پیداوار اور معاشی نمو کی شرح میں کمی کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافہ کی شرح (2.55%)بھی بہت زیادہ ہے، جس سے فی کس وسائل کم ہو رہے ہیں۔ بنیادی انسانی وسائل میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جدید روزگار کے قابل نہیں ہو پا رہے جس سے بیروزگاری اور غربت ایک نہ رکنے والا سیلاب بن گیا ہے۔

غربت سے نجات کا طریقہ تو یہ ہے کہ یہاں پائیدار معاشی اصلاحات کے ساتھ پالیسیوں کو تسلسل دیا جائے۔ سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے کم از کم 10سالہ میثاقِ معیشت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی سے زرعی پیداوار بڑھائی جائے اور مقامی انڈسٹری کو سستی توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ برآمدات بڑھیں۔ نوجوانوں کو آئی ٹی، جدید ہنر اور فری لانسنگ کی تربیت دی جائے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں برآمدی آمدن پیدا کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غریبوں پر بالواسطہ ٹیکس کم کر کے امیر طبقے اور غیر پیداواری شعبوں ( مثلاً رئیل اسٹیٹ) کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ قدرتی آفات سے بچا کے لئے پائیدار بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر اور متاثرہ کسانوں کے لئے بیمہ اور امدادی منصوبے بھی ضروری ہیں لیکن یہ تمام تر منصوبے اور اقدامات ایک ذمہ دار سول حکومت اور ملکی سیاست دانوں کی ترجیحات کے متقاضی ہیں لیکن ہمارے سیاستدان تو اس معاشی عذاب سے نگاہیں چرا کر اپنے اپنے مفادات اور اقتدار کے حصول اور طوالت کے لئے باہمی سیاسی محاذ آرائی میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ نتیجتاً اس سیاسی عدم استحکام سے ملک کے معاشی حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں لہٰذا یہ صورت حال غربت کی شرح میں کمی لانے میں مثبت نہیں بلکہ انتہائی منفی کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ سیاسی رسہ کشی ملکی معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس سے غربت ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں جب بھی حکومت بدلتی ہے یا سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، تو نئی حکومت پچھلی حکومت کے عوامی اور معاشی منصوبوں کو اکثر ختم کر دیتی ہے۔ معاشی پالیسیاں بار بار بدلنے سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار طویل مدتی منصوبوں میں پیسہ لگانے سے کتراتے ہیں، جس سے نئے روزگار پیدا نہیں ہوتے۔ سیاسی بدامنی اور دھرنوں، احتجاج کے ماحول میں غیر ملکی کمپنیاں ملک سے اپنا سرمایہ نکال لیتی ہیں یا نیا سرمایہ لانے سے گریز کرتی ہیں۔ سیاسی کشیدگی سے روزمرہ کی کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان روزانہ اجرت پر کام کرنے والے غریب طبقے کو ہوتا ہے۔ سیاسی طور پر کمزور حکومتیں اکثر غیر مقبول لیکن ضروری معاشی اصلاحات کرنے سے ہچکچاتی ہیں یا پھر اقتدار بچانے کے لئے آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر معاہدے کرتی ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ ( بجلی، گیس کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافہ) عام غریب پر پڑتا ہے۔ دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے عدم استحکام کا شکار پاکستان جیسے ممالک کو قرض دینے یا امداد فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ تیزی سے گرتا ہے، جس سے درآمدی اشیاء ( پٹرول، خوراک، ادویات) مہنگی ہو جاتی ہیں۔ شدید مہنگائی کی وجہ سے درمیانہ طبقہ خطِ غربت سے نیچے چلا جاتا ہے اور جو پہلے سے غریب ہیں، ان کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔ حکومتیں اپنی تمام تر توجہ اور مالی وسائل سیاسی جوڑ توڑ اور امن و امان برقرار رکھنے پر صرف کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں تعلیم، صحت، اور بظاہر غربت مٹائو پروگرامز ( مثلاً بینظیر انکم سپورٹ وغیرہ) کی بہتری کے لئے درکار فنڈز کم پڑ جاتے ہیں۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اس سیاسی محاذ آرائی کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر کم از کم 10سے 15سالہ بنیادی معاشی ایجنڈے پر متفق ہوں۔ تمام ادارے اور سیاسی دھڑے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تاکہ ملک میں سیاسی اور معاشی اعتماد بحال ہو۔ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود بنیادی معاشی اور روٹی، کپڑا، روزگار سے جڑے منصوبوں کو جاری رکھا جائے۔

ملکی معیشت کی اس ابتر صورتحال میں غریب کو بچانے اور ملکی معیشت کو آگے لے جانے کے لئے یہ بھی تسلیم کر کے آگے بڑھنا چاہئے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا ملک کی سیاست، انتظامی امور اور معیشت میں تاریخی طور پر ایک مرکزی اور فعال کردار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی اور معاشی بحران یا غربت میں اضافے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے مثر کردار پر عوامی اور سیاسی سطح پر مختلف آراء اور شدید بحث پائی جاتی ہے۔ بعض سیاسی رہنماں اور معاشی ماہرین کا ایک بڑا طبقہ اسٹیبلشمنٹ کے ماضی کے کردار کو موجودہ سیاسی و معاشی صورت حال کا اہم ذمہ دار گردانتا ہے۔ ان ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور رہنماں کو بنانے، گرانے یا اپوزیشن کو دبانے کا عمل ملک میں مسلسل سیاسی عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔ جب حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، تو مستقل نوعیت کی پائیدار معاشی پالیسی تشکیل نہیں پاتی۔ اس طرح کے سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں اکثر معاشی فیصلوں سے زیادہ اپنی سیاسی اور حکومتی بقا کی جنگ لڑتی ہیں، جس سے طویل مدتی منصوبے معطل ہو جاتے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔

سول حکومتوں کے فضول اخراجات پر بجٹ کا بڑا حصہ صرف ہونے کی وجہ سے بھی تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی وسائل پر کم خرچ ہوتا ہے، جو کہ غربت میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ماضی میں انتظامی، معاشی معاملات میں بار بار مداخلت کی وجہ سے سول اور جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہو سکے، جس کا اثر براہِ راست گورننس پر پڑا ہے۔ اس کے برعکس، اسٹیبلشمنٹ اور ان کے حمایتیوں کا نقطہ نظر بھی قابل غور ہے۔ ان کا یہ استدلال بھی بجا ہے کہ پاکستان کو سرحدوں پر چیلنجز اور اندرونی دہشت گردی کا سامنا ہمیشہ سے رہا ہے، اس لئے مضبوط سکیورٹی اور دفاعی بجٹ ملک کی بقا کے لئے ناگزیر ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا اکثر موقف یہ رہا ہے کہ ملک کی جمہوری اور سیاسی قیادت میں بدعنوانیاں، گورننس کا فقدان اور ادارہ جاتی صلاحیت کی کمی موجود ہے، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ سالوں میں اسٹیبلشمنٹ نے ایس آئی ایف سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری ( خصوصاً خلیجی ممالک سے) لانے، زراعت، معدنیات اور آئی ٹی کو فروغ دینے اور سمگلنگ و نان ڈاکیومنٹڈ معیشت کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دونوں آرا کے تقابل کے بعد متفقہ حل یہ ہے کہ اگر پاکستان کو غربت، افراط زر اور سیاسی محاذ آرائی سے نکالنا ہے تو تمام اداروں ( بشمول اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور سیاسی جماعتوں) کو آئین میں درج اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا۔ سیاسی فیصلے عوام کے ووٹ اور پارلیمنٹ کے ذریعے ہونے چاہئیں تاکہ ایک مستحکم اور بااختیار حکومت قائم ہو سکے۔ دوسری طرف تمام سیاسی دھڑوں اور اسٹیبلشمنٹ کو مل کر ایک طویل مدتی معاشی روڈ میپ بنانا ہوگا جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود متاثر نہ ہو۔ دفاعی اور سکیورٹی ضروریات کو متوازن کرتے ہوئے تعلیم، صحت اور ہنر مندی پر بھی سرمایہ کاری بڑھانا ہو گی تاکہ غربت کی بنیادی وجوہات ختم ہو سکیں۔

سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button