Columnمحمد مبشر انوار

موقف

موقف

تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)

اقتدار کا کھیل کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری ہو چکا ہے اور یہاں صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ ایک طرف ریاست کو ماں بھی کہا جاتاہے اور دوسری طرف اسی ماں کو ناانصافی کرنے پر ایک مذہبی شخصیت اس پر تھوک بھی رہی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسی شخصیت ہی منبر پر اور اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی ماں کی نہ صرف عظمت کو تسلیم کرتی ہے، بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ماں طوائف بھی ہو تب بھی اولاد پر ماں کا احترام لازم ہے، جبکہ غیر شرعی احکام کی پابندی اولاد پر لازم نہیں البتہ ماں کے ایسے غیر شرعی احکامات کو انکار بھی ادب کے دائرے میں رہ کر کیا جانا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے فلور پر اپنی تقریر کے دوران انتہائی سخت جذباتی تقریر کرتے ہوئے، ایک طرف ریاست پر سخت تنقید کی، ریاست پر الزام لگایا ( ویسے یہاں مولانا کی ریاست سے مراد فوج سے تھی کہ پاکستان میں ریاست کے حوالے سے یہ تصور زیادہ قوی ہے کہ ریاست صرف مقتدرہ ہی ہے، جبکہ آئین پاکستان کے مطابق ریاست سے مراد پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیاں اور وہ ادارے یا افراد جو قانون سازی کر سکتے ہیں، کو ریاست کہا گیا ہے) کہ ریاست مذہبی لوگوں کو تقسیم کرتی ہے، سیاسی لوگوں کو تقسیم کرتی ہے، آپس میں تقسیم کرتی ہے، اس کے باوجود ریاست کو ماں کہا جائے، کیا ماں کا یہ کردار ہوتا ہے؟، کیا ماں اپنے بچوں کو تقسیم کرتی ہے، باہم لڑاتی ہے، تشدد پر اکساتی ہے، یا ان کو یکجا کرتی ہے؟۔ مولانا نے کہا کہ آپ ماں کا کردار ادا نہیں کر رہے، آپ قوم کو اپنی اولاد نہیں سمجھ رہے، اور جب آپ قوم کو اپنی اولاد نہیں سمجھیں گے تو ردعمل آئے گا۔ ریاست کو ایسی ماں کی طرح ہونا چاہئے جو اپنے بچوں کے لئے تڑپ رکھتی ہو، ریاست نے ہم پر دہشت گردی میں سہولت کاری کا الزام لگایا، جبکہ ہم نے دہشت گردی کے عذاب کو جھیلا ہے اور بات یہیں تک نہیں رہی، ریاست نے دہشت گردی کی آڑ میں کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، جبکہ آپ کے گورنر نے گورنر راج کے بعد معدنیات کی بات کی، امریکی سفارتکار نے معدنیات کے حوالے سے انٹرویو دیا، کیا ماں کا کردار ایسا ہوتا ہے ؟، اس کے بعد جو لفظ مولانا نے ادا کئے، وہ یقینی طور پر میں یہاں لکھنا بھی نہیں چاہتا کہ پوری قوم اس سے واقف ہو چکی ہے، لیکن میری ذاتی رائے میں مذکورہ لفظ مولانا کو کسی بھی صورت بولنے سے گریز کرنا چاہئے تھا، کہ مولانا انتہائی سے زیادہ زیرک اور جہاندیدہ سیاستدان ہیں، اور ایسے الفاظ کا معنی و مفہوم بہتر سمجھتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہرطور اس کے پس پردہ بھی مولانا کسی سیاسی فائدے کے حصول میں کوشاں ہیں، اس کی وضاحت بھی پیش کرتا ہوں، لیکن اس سے پہلے مولانا کی اس سخت تقریر کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ نے جو پوسٹ مارٹم کیا، اس پر بھی نظر دوڑا لیں۔ خواجہ آصف نے مولانا کی اس تقریر کے جواب میں دوٹوک الفاظ میں مولانا کی ساری سیاست کی قلعی کھول دی، اور انہیں پورے ہال میں الگ کرکے رکھ دیا کہ مولانا وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے، جبکہ کسی بھی دوسری مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی، یہاں خواجہ آصف دانستہ دوسری مذہبی سیاسی جماعتوں کو طرح دے گئے کہ آج کل دوسری مذہبی سیاسی جماعت پس پردہ پھر سے ن لیگ کیساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ اپنی توپوں کا رخ صرف مولانا کی طرف ہی رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے مجبور نہ کیا جائے کہ میں مولانا کی کارروائیاں پی ڈی ایم دور، اس سے قبل مشرف دور اور بطور کشمیر کمیٹی چیئرمین، اس ہائوس کو بتائوں، مراد کہ اس حمام میں ننگے سب ہیں مگر سب ہی ایک دوسرے کے گندے پوتڑوں کو ڈھانپے ہوئے ہیں، خواجہ آصف نے ان گندے پوتڑوں کے متعلق اشارہ تو کر دیا مگر کھل کر بولنے سے گریز کرگئے، سب کچھ کہہ بھی دیا اور کہتے کہتے رہ بھی گئے، جس کی کمی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پوری کر دی، سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کھل کر کہا کہ مولانا اسلام کو ہر اس چیز کیلئے استعمال کرتے ہیں کہ جس میں انکا ذاتی فائدہ ہو۔

اس حقیقت سے کسی کو بھی انکار نہیں اور نہ ہی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے کہ مولانا اپنے ذاتی مفادات کے لئے کسی اصولی سیاست کے کبھی قائل ہی نہیں رہے بلکہ ایک مولانا پر ہی کیا موقوف دیگر سیاسی جماعتیں بھی اب اس کی قائل ہو چکی ہیں حتی کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت بھی اسی اصول کی قائل نظر آتی ہے، جس پر آگے بات کرتا ہوں۔ بہرحال محسن نقوی نے کہا کہ یہ خود گورنر راج سے پہلے ہمیں آ کر کہتے تھے کہ گورنر راج لگا کر ہماری ان سے جان چھڑائی جائے اور اب ریاست کے متعلق جو الفاظ استعمال کر رہے ہیں تو سنیں اب آپ کو ریاست میں نوکری نہیں ملنی اور نہ ہی آپ کو ریاست سے ٹکٹیں ملنی ہیں۔ ویسے حیرت اس بات پر ہے کہ کیا ریاست دودھ پیتی ہے کہ اسے یہ علم نہیں کہ ایک سیاسی حریف سیاسی عمل کو روکنے کے لئے اکسا رہا ہے اور ریاست کو اس کے مضمرات کا علم نہیں یا ریاست نہیں جانتی کہ آئینی طور پر کیسے گورنر راج لگایا جا سکتا ہے یا ریاست کو ادراک نہیں کہ ایک منتخب حکومت کو گرا کر اگر سیاسی حریف کو فائدہ نہیں ملتا تو ایسے اقدام پر اس سیاسی حریف کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟۔ ویسے اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ ریاست نے جو قدم اٹھایا ہے وہ کسی کے کہنے پر ہرگز نہیں اٹھایا بلکہ ریاست کے اپنے طے شدہ اہداف تھے، اپنی ترجیحات تھی، جن کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاست نے یہ انتہائی قدم اس وقت اٹھایا جب منتخب سیاسی حکومت ریاست کے اہداف حاصل کرنے کے لئے تیار نہ تھی اور وجہ دہشت گردی کو بنایا گیا، صوبائی حکومت کے عدم تعاون کو نااہلی قرار دے کر گورنر راج لگایا گیا کہ اپنے اہداف حاصل کئے جائیں۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ، سپیکر اور سیاسی جماعت کے صوبائی صدر کو بھی حراست میں لیا گیا کہ اس اقدام کے خلاف کوئی احتجاج نہ ہوسکے، جو کلیتا ایک غیر جمہوری اقدام ہے۔ رہی بات مولانا فضل الرحمان کی اب گورنر راج کی مخالفت اور اس پر تنقید کی، تو واضح ہے کہ اگر بقول محسن نقوی واقعتا مولانا کی جانب سے گورنر راج لگانے کی تجویز دی گئی تھی، اور ریاست مولانا کے مزاج کو سمجھتی بھی ہے تو مولانا کو اس گورنر راج سے کیا ملا؟، جب مولانا کو کچھ ملا ہی نہیں تو مولانا تنقید تو کریں گے یا انہیں اس کا حق بھی حاصل نہیں رہا ؟، یا دوسری صورت یہ بھی ہے کہ مولانا اس تنقید سے اپنی سیاست کے تن مردہ میں نئی روح پھونک رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی جانب سے تو احتجاجی آوازیں اٹھنا بند ہوتی نظر آرہی ہیں کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اب تحریک انصاف احتجاج نہیں کرے گی۔

دوسری طرف تحریک انصاف نے جب یہ واضح کر دیا ہے کہ اب وہ احتجاجی سیاست نہیں کرے گی، تو عمران خان کی رہائی و علاج معالجہ تو بہت دور رہ گئے کہ اس وقت تو تحریک انصاف عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی کے خلاف بھی عملا کچھ کرتی دکھائی نہیں دیتی، جبکہ عدالتوں سے انصاف ملتا انہیں دکھائی نہیں دے رہا، اس کے باوجود تحریک انصاف مصر ہے کہ وہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہے گی۔ ایم پی او کے تحت عمران خان کی تینوں بہنیں اس وقت نظربندی کا شکار ہیں، جبکہ نورین نیازی کی حالت شدید خراب ہونے کے باعث انہیں ہسپتال منقل کیا گیا، اور عدالتوں کی حالت یہ ہے کہ عمران خان کی بہنوں کی جانب سے وکلاء نے نظر بندی کے خلاف جو درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، ان کی سماعت میں عمران خان کی بہنوں کے لئے کپڑے و ادویات کی فراہمی کے احکامات تو دئیے جا چکے ہیں، مگر ان کی نظربندی کو ختم کرنے کی بجائے مزید توسیع کی جا چکی ہے۔ وکلاء کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو بھی درخواست دی گئی ہے اور عدالت میں بھی استدعا کی گئی ہے کہ نظر بندی ختم کی جائے، جبکہ عدالت کی جانب سے ایک متفرق درخواست دائر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک متفرق درخواست دائر کرکے علاج اور ملاقاتوں کی اجازت لی جائے، عدالت حالات کے مطابق ازخود بھی یہ حکم صادر کر سکتی ہے مگر کیا کیا جائے کہ عدالت تو عدالت ہے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ تمام تر جانبداری و غیر منصفانہ طرز عمل کے باوجود، تحریک انصاف اب احتجاج نہیں کرے گی، یوں عمران خان جس نے اس سیاسی جماعت کو پروان چڑھایا ہے، آج اسی جماعت کی جانب سے لاوارث بن چکا ہے، جبکہ اس کی وارث اس کی بہنیں نظر بندی کا شکار ہو چکی ہیں، ایک طرف مولانا اس صورتحال میں بیک وقت ریاست پر تنقید کرکے، ریاست کو دیوار سے لگا کر اور تحریک انصاف کے ’’ موقف‘‘ کے قریب ہو کر اپنا سیاسی فائدہ تلاش کر رہے ہیں تو دوسری طرف تحریک انصاف اپنے اصولی موقف پر سمجھوتہ کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button