احساس نہیں، کچھ پاس نہیں
احساس نہیں، کچھ پاس نہیں
شہرِ خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسان کی شخصیت کا حسن صرف اس کے علم، دولت، عہدے یا گفتگو کے سلیقے میں نہیں، بلکہ اس بات میں بھی پوشیدہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ کیسا برتا کرتا ہے۔ اس کی زبان سے نکلا ایک جملہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر سکتا ہے اور یہی جملہ کسی کے دل میں ایسی چبھن پیدا کر سکتا ہے جو مدتوں باقی رہے۔
بعض لوگ اپنی گفتگو کو خوش مزاجی، زندہ دلی اور بے تکلفی کا نام دیتے ہیں، لیکن جب ان کے الفاظ کسی دوسرے کو زخمی کر دیتے ہیں تو وہ اس کا دکھ سمجھنے کے بجائے اسی پر حساس ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ گویا غلطی الفاظ میں نہیں، سننے والے کے دل میں ہے۔ یہیں سے احساس اور بے حسی کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دوسروں کے حلیے، غربت، تعلیمی قابلیت، خاندانی حالات اور ذاتی معاملات کو مذاق کا موضوع بناتے ہیں۔ کسی کے لباس پر فقرہ کسا جاتا ہے، کسی کے تلفظ پر ہنسی اڑائی جاتی ہے اور کسی کی مجبوری کو محفل کی تفریح بنا دیا جاتا ہے۔ حاضرین قہقہے لگاتے ہیں اور فقرہ باز اپنی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، مگر جس شخص کو نشانہ بنایا گیا، اس کے دل پر کیا گزری، اس سے کسی کو غرض نہیں ہوتی۔
اگر وہ خاموشی سے اٹھ کر چلا جائے تو اس کی خاموشی بھی اس کے خلاف گواہی بن جاتی ہے۔
’’ آج کل لوگوں کو مذاق برداشت ہی نہیں ہوتا‘‘۔’’ ذرا سی بات پر منہ بنا لیتے ہیں‘‘۔ ’’ بھئی، زندگی میں خوش مزاجی بھی کوئی چیز ہوتی ہے‘‘۔
یہ جملے بظاہر معمولی ہیں، لیکن ان کے پیچھے ایک ایسا رویہ چھپا ہوتا ہے جس میں انسان اپنی بات کے اثرات کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے دوسرے کے ردِعمل کو غلط قرار دے کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اگر اس کی بات بے ضرر تھی تو سامنے والے کو تکلیف کیوں پہنچی، اور اگر تکلیف پہنچی ہے تو کیا اسے اپنی ناگواری ظاہر کرنے کا حق نہیں؟۔
خوش مزاجی اور دل آزاری میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ہنسی اور تمسخر میں۔ حقیقی مزاح میں سب شریک ہوتے ہیں، مگر توہین آمیز مذاق میں ایک شخص ہنستا ہے اور دوسرا اپنی عزت بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ہماری خوشی کسی دوسرے کی تذلیل سے وابستہ ہو جائے تو اسے زندہ دلی نہیں، بے حسی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ہر انسان کے مزاج، تجربات اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔ ایک بات جو کسی کے لیے معمولی ہو، وہی دوسرے کی کسی پرانی محرومی یا ناکامی کی یاد تازہ کر سکتی ہے۔ غربت پر کیا گیا طنز کہنے والے کے لیے چند لمحوں کی تفریح، لیکن سننے والے کے لیے اپنی پوری زندگی کا دکھ بن سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ دل دکھنے پر ہر شخص اپنی کیفیت ظاہر کرے۔ بعض لوگ محفل میں ہنس دیتے ہیں تاکہ اپنی بے عزتی کا تاثر پیدا نہ ہونے دیں۔ بعض تعلقات بچانے کے لیے خاموش رہتے ہیں اور کچھ اس لیے جواب نہیں دیتے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بحث سے ان کی تذلیل مزید بڑھے گی۔ ان کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔
اس سے بھی زیادہ قابلِ غور صورت اس وقت سامنے آتی ہے جب دوسروں پر طنز کرنے والا شخص اپنی ذات کے معاملے میں بالکل مختلف ثابت ہوتا ہے۔ دوسروں کو نصیحت کرتا ہے کہ بات دل پر نہیں لینی چاہیے، لیکن کوئی اس کے بارے میں معمولی سا تبصرہ کر دے تو اس کے تیور بدل جاتے ہیں۔ اسے اپنی غلطی کی نشاندہی ناگوار گزرتی ہے اور اختلاف اپنی توہین محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ تضاد خود آگاہی کی کمی کا نتیجہ ہے۔
جب انسان اپنی ذات کو مرکز بنا لیتا ہے تو اسے اپنا دکھ حقیقی اور دوسروں کا دکھ مبالغہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اپنی عزت اسے عزیز ہوتی ہے، لیکن دوسرے کی عزت کا خیال نہیں آتا۔ اپنے لیے رعایت چاہتا ہے، مگر دوسروں کو وہی رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ یوں احساس ایک یک طرفہ دعویٰ بن جاتا ہے، جس میں اپنی حساسیت خوبی اور دوسروں کی حساسیت خامی دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ احساس کا اصل امتحان اپنی ذات کے گرد نہیں، اپنی ذات سے باہر ہوتا ہے۔
اپنی تکلیف محسوس کرنا فطری ہے، مگر دوسرے کی تکلیف محسوس کرنے کے لیے شعور، ظرف اور ہمدردی درکار ہوتی ہے۔ اپنے لیے احترام چاہنا آسان ہے، لیکن دوسرے کے احترام کی حفاظت کرنا کردار کی پختگی کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی طرح اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لیے انا کو پیچھے ہٹانا پڑتا ہے اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ ہماری نیت خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، ہمارے الفاظ کا اثر ہمیشہ ہماری نیت کے مطابق نہیں ہوتا۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر ناراضی درست نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر اختلاف دل آزاری ہے۔ بعض اوقات غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے، بعض لوگ معمولی بات پر غیر ضروری ردِعمل دیتے ہیں اور کبھی مذاق کو بھی اپنی ذات پر حملہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن اس امکان کی بنیاد پر ہر شکایت کو حساسیت کا مسئلہ قرار دینا بھی درست نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی ناراض کیوں ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی ناراضی کے بعد ہم کیا کرتے ہیں۔ کیا ہم اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یا فوراً اس کی شخصیت پر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں؟ کیا ہم کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد دکھ دینا نہیں تھا، یا یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ تم تو ہر بات پر برا مان جاتے ہو؟۔
اگر ہماری کسی بات سے کسی کا دل دکھا ہے تو یہ کہنا کہ ’’ میرا مقصد تمہیں تکلیف دینا نہیں تھا، لیکن میری بات سے تمہیں دکھ پہنچا، اس پر مجھے افسوس ہے‘‘۔ ایک مہذب رویہ ہے۔ اس کے برعکس ’’ اچھا بھئی، معاف کرو، اب تو خوش ہو جائو‘‘، کہنا معذرت نہیں، بلکہ دوسرے کے احساسات کو ایک بار پھر حقیر سمجھنے کا اظہار ہے۔
معذرت کمزوری نہیں ہوتی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنے تعلقات کو اپنی انا سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جو شخص اپنی غلطی تسلیم کر سکتا ہے، وہ اپنی شخصیت کو چھوٹا نہیں کرتا، بلکہ اپنے کردار کو بلند کرتا ہے۔
البتہ احساس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم ہر بات کو بدگمانی سے نہ دیکھیں، ہر اختلاف کو توہین نہ سمجھیں اور ہر مذاق کو دشمنی قرار نہ دیں۔ مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں ہر شخص ہر بات برداشت کرنے پر مجبور ہو، بلکہ وہ ہے جہاں اظہار کی آزادی کے ساتھ دوسروں کی عزت کا خیال رکھنے کی تربیت بھی موجود ہو۔
گھر، تعلیمی اداروں، دفاتر اور دوستوں کی محفلوں میں احترام اسی وقت قائم رہتا ہے جب اختلاف کے باوجود انسان کی عزت محفوظ ہو۔ والدین بچوں کی کمزوریوں پر مسلسل طنز کریں تو ان کا اعتماد مجروح ہو سکتا ہے۔ استاد طالب علم کی غلطی درست کرنے کے بجائے پوری جماعت کے سامنے اس کی تضحیک کرے تو علم سے اس کا تعلق کمزور پڑ سکتا ہے۔ دفتر میں سربراہ ملازمین کو سب کے سامنے ذلیل کرے تو خاموشی کے پیچھے خوف اور بے اعتمادی جنم لے سکتی ہے۔ اسی طرح دوستوں کی محفل میں بار بار کسی ایک شخص کو مذاق کا نشانہ بنانا دوستی کی مضبوطی نہیں، بلکہ احترام کے فقدان کی علامت ہے۔
زندگی پہلے ہی مسائل اور ذمہ داریوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہنسی، مذاق اور بے تکلفی اس کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں، اس لیے خوش مزاجی یقیناً ایک خوبی ہے۔ مگر ہنسی ایسی ہونی چاہیے جس میں انسان دوسرے کے ساتھ ہنسے، دوسرے پر نہیں۔ اگر ہماری زندہ دلی کسی کی عزتِ نفس کو کچل کر پروان چڑھتی ہے تو ہمیں اپنی خوش مزاجی کا جائزہ لینا چاہیے۔
انسان کی پہچان صرف اس سے نہیں ہوتی کہ وہ کتنے لوگوں کو ہنسا سکتا ہے، بلکہ اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کی موجودگی میں کتنے لوگ خود کو محفوظ اور قابلِ احترام محسوس کرتے ہیں۔ زبان سے نکلے الفاظ چند لمحوں میں فضا سے گزر جاتے ہیں، لیکن ان کے اثرات بعض اوقات دل میں برسوں ٹھہرے رہتے ہیں۔ بولنے سے پہلے ایک لمحے کا توقف، مذاق سے پہلے دوسرے کی کیفیت کا خیال اور اختلاف کے وقت لہجے پر قابو، بہت سی تلخیوں سے بچا سکتا ہے۔احساس کا مطلب ہر وقت اداس رہنا یا ہر بات پر جذباتی ہو جانا نہیں۔ احساس یہ ہے کہ انسان اپنی خوشی کے لیے دوسرے کی عزت قربان نہ کرے، اپنی آزادی کے نام پر دل آزاری کو جائز نہ سمجھے اور اپنی نیت کی صفائی کے ساتھ اپنے عمل کے اثرات کا جائزہ بھی لیتا رہے۔
جس شخص کو صرف اپنی تکلیف محسوس ہوتی ہے، وہ حساس تو ہو سکتا ہے، مگر لازماً صاحبِ احساس نہیں ہوتا۔ احساس وہ ہے جو اپنی ذات سے نکل کر دوسرے کے دل تک پہنچے، جو ہمیں بولنے کی آزادی کے ساتھ خاموش رہنے کا سلیقہ بھی دے، ہنسنے کی خوشی کے ساتھ دوسرے کی مسکراہٹ کی حفاظت بھی سکھائے اور اپنی عزت کے ساتھ دوسروں کی عزت کو بھی اہم سمجھے۔ کیونکہ جس انسان کے پاس علم ہو مگر احترام نہ ہو، دولت ہو مگر ہمدردی نہ ہو، زبان ہو مگر اس پر قابو نہ ہو اور دل ہو مگر اس میں دوسروں کے لیے گنجائش نہ ہو، اس کے پاس بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک بنیادی انسانی خوبی کی کمی رہ جاتی ہے۔ احساس نہیں، تو کچھ پاس نہیں۔





