پانچ لاکھ ڈیجیٹل چراغ اور روشن پاکستان

پانچ لاکھ ڈیجیٹل چراغ اور روشن پاکستان
تحریر: رفیع صحرائی
یہ بات سوفیصد درست ہے کہ قوموں کی ترقی کا راستہ ہمیشہ ان کے تعلیمی اداروں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جس ملک نے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو علم، تحقیق، ہنر اور جدید ٹیکنالوجی سے جوڑ لیا، اس نے ترقی کی منزلیں طے کر لیں، جبکہ جو اقوام نئی دنیا کے تقاضوں سے آنکھیں چراتی رہیں، وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ گئیں۔ آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، آن لائن تعلیم اور جدید سائنسی علوم کی دنیا ہے۔ روایتی تعلیم اب فرسودہ ہو چکی ہے اور اس کی عملی افادیت بہت کم رہ گئی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے پانچ لاکھ ہونہار اور مستحق طلبہ کو کروم بکس فراہم کرنے کا حکومتی فیصلہ بلاشبہ ایک خوش آئند اور دوررس قدم ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 25اکتوبر کو ’’ وزیراعظم یوتھ کروم بک اسکیم‘‘ کا باقاعدہ آغاز کیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں پانچ لاکھ طلبہ کو دو سال کے دوران کروم بکس فراہم کیے جائیں گے۔ ان آلات کے ساتھ MiFiانٹرنیٹ ڈیوائسز بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ طالب علم محض کمپیوٹر کا مالک نہ بنے بلکہ اسے تعلیمی دنیا سے مربوط کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت بھی میسر ہو۔ حکومت کے مطابق انتخاب میرٹ، قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ہوگا اور سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس کے ہونہار طلبہ بھی اس اسکیم کا حصہ ہوں گے۔
یہاں وزیراعظم شہباز شریف کے ماضی کو نظرانداز کرنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ اگر انہیں پاکستان میں جدید تعلیم اور ڈیجیٹل تعلیمی سہولتوں کے فروغ کا ایک اہم معمار قرار دیا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ بطور وزیراعلیٰ پنجاب انہوں نے 2011ء میں طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم شروع کی، جس کا بنیادی مقصد ذہین اور محنتی طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دینا تھا۔ پنجاب حکومت کے ریکارڈ کے مطابق یہ سلسلہ میرٹ کی بنیاد پر جاری رہا اور ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے۔
یہ صرف لیپ ٹاپ تک محدود معاملہ نہیں تھا۔ شہباز شریف کے دورِ پنجاب میں طلبہ کے لیے ’’ اجالا‘‘ پروگرام بھی شروع کیا گیا، جس کے تحت دو لاکھ سے زیادہ سولر لیمپس فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باوجود طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس پروگرام میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ، دانش اسکولوں، ٹیوٹا اور ووکیشنل اداروں کے طلبہ کو بھی شامل کیا گیا۔ گویا اُس وقت کتاب کے ساتھ چراغ دیا گیا تھا، پھر کمپیوٹر دیا گیا، اور آج اسی سفر کو کروم بک اور انٹرنیٹ کی صورت میں اگلے مرحلے تک پہنچایا جا رہا ہے۔ یہی تسلسل کسی حکومتی وعن کو محض ایک وقتی منصوبے کے بجائے ایک طویل المدت تعلیمی پالیسی بناتا ہے۔
کروم بک آخر ہے کیا؟
عام قاری کے لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر کروم بک روایتی لیپ ٹاپ سے کس طرح مختلف ہے؟۔ کروم بک بنیادی طور پر ایسا کمپیوٹر ہے جو ChromeOSپر چلتا ہے اور بالخصوص انٹرنیٹ، آن لائن تعلیم اور کلائوڈ بیسڈ کام کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں تیز رفتاری سے آغاز، نسبتاً آسان استعمال، کم دیکھ بھال اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے موزوں ماحول جیسی خصوصیات موجود ہیں۔ Googleکے مطابق ChromeOSڈیوائسز تعلیمی اداروں میں طلبہ کے کام، اسائنمنٹس، ویب وسائل اور Google Classroomجیسی سہولتوں کے استعمال کو آسان بناتی ہیں۔ پاکستانی طلبہ کے لیے اس کی اصل اہمیت اس کے ہارڈویئر سے کہیں زیادہ اس رسائی میں ہے جو یہ انہیں علم کی دنیا تک فراہم کر سکتی ہے۔
ایک دور افتادہ گاں کا طالب علم، جس کے گھر میں نہ ذاتی کمپیوٹر ہے اور نہ مہنگی کتابیں خریدنے کی استطاعت، اگر کروم بک کے ذریعے آن لائن لیکچرز، ای لائبریریوں، تعلیمی ویب سائٹس، ڈیجیٹل کورسز اور تحقیقی مواد تک رسائی حاصل کر لیتا ہے تو اس کے سامنے امکانات کی ایک نئی دنیا کھل سکتی ہے۔ اسی لیے یہ پانچ لاکھ کروم بکس دراصل پانچ لاکھ آلات نہیں، پانچ لاکھ تعلیمی امکانات ہیں۔
انٹرنیٹ کے ذریعے ایک طالب علم اپنے استاد کے کلاس روم سے نکل کر دنیا کی کسی بھی معروف یونیورسٹی کے لیکچر تک پہنچ سکتا ہے۔ وہ نئی زبان سیکھ سکتا ہے، پروگرامنگ اور گرافک ڈیزائننگ کا ہنر حاصل کر سکتا ہے، مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات سمجھ سکتا ہے، آن لائن کورسز مکمل کر سکتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔
یہاں سے تعلیم اور روزگار کا ایک نیا رشتہ بھی جنم لیتا ہے۔ جو پاکستان کو خودکفالت کی طرف لے جانے کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کے قابل بھی بنا سکتا ہے۔
بے روزگاری ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا نوجوان اگر دورانِ تعلیم ہی فری لانسنگ، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، آن لائن تدریس اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں میں مہارت حاصل کرے تو وہ صرف ملازمت تلاش کرنے والا نوجوان نہیں رہے گا بلکہ روزگار پیدا کرنے والا فرد بھی بن سکتا ہے۔ وہ اپنے گھر بیٹھے عالمی مارکیٹ میں خدمات فراہم کرکے پاکستان کے لیے زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ وزیراعظم شہابا شریف نے بھی افتتاحی تقریب میں اسی امید کا اظہار کیا کہ یہ آلات طلبہ کو مزید تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ مستقبل میں روزگار کے مواقع تک پہنچانے میں مدد دیں گے۔
اس منصوبے کا ایک اور خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس میں تعلیم کے مختلف دھاروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ مدارس کے ہونہار طلبہ کو بھی اس اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق پانچ لاکھ طلبہ تک یہ سہولت پہنچانے کا مقصد یہی ہے کہ ذہانت، محنت اور صلاحیت کسی مخصوص طبقے، علاقے یا ادارے تک محدود نہ رہیں۔
پاکستان کی قریباً 15کروڑ نوجوان آبادی کو بوجھ سمجھنے کے بجائے قومی طاقت میں تبدیل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ نوجوان اگر تعلیم یافتہ، ہنرمند اور ٹیکنالوجی سے آشنا ہوں تو یہی آبادی پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔ تاہم حکومت کی تحسین کے ساتھ ایک گزارش بھی ضروری ہے۔ اس اسکیم کی کامیابی صرف کروم بکس تقسیم کرنے سے نہیں ہوگی۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ آلات طالب علم کی زندگی میں واقعی تبدیلی لائیں گے۔ اور وہ پوری منصوبہ بندی اور شفافیت کے ساتھ حق داران تک پہنچیں گے۔ اس کے لیے میرٹ، شفافیت، انٹرنیٹ، بجلی، تربیت اور مانیٹرنگ جیسے تمام پہلوں پر یکساں توجہ دینا ہوگی۔ کسی غریب طالب علم کو
کروم بک دے دی جائے مگر اس کے علاقے میں انٹرنیٹ دستیاب نہ ہو تو مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ اسی لیے MiFiڈیوائسز کی فراہمی ایک قابلِ تحسین فیصلہ ہے، لیکن دور دراز علاقوں میں مناسب نیٹ ورک کوریج اور قابلِ برداشت تعلیمی ڈیٹا بھی یقینی بنانا ہوگا۔ موجودہ منصوبے میں فراہم کیے جانے والے انٹرنیٹ کنکشن کے بارے میں حکومت نے بتایا ہے کہ اس سے پانچ لاکھ طلبہ کے ساتھ خاندانوں کے دیگر افراد سمیت قریباً 25لاکھ لوگوں تک ڈیجیٹل رسائی بڑھ سکتی ہے۔
اسی طرح طلبہ کو صرف مشین دینا کافی نہیں، انہیں اس مشین کو موثر طریقے سے استعمال کرنا بھی سکھانا ہوگا۔ اسکولوں اور کالجوں میں ڈیجیٹل لٹریسی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ اور آن لائن تحقیق کے بنیادی کورسز متعارف کرائے جائیں۔ اساتذہ کی تربیت بھی کی جائے تاکہ وہ طلبہ کو ٹیکنالوجی کے مثبت اور تعمیری استعمال کی طرف رہنمائی دے سکیں۔ سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ کروم بکس کی تقسیم میں کسی قسم کی سیاسی وابستگی، سفارش یا اقربا پروری کی گنجائش نہ ہو۔ جس طالب علم کے ہاتھ میں یہ ڈیجیٹل چراغ پہنچنا ہے، وہ واقعی مستحق اور باصلاحیت ہو۔ وزیراعظم نے میرٹ پر تقسیم کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اب اس عزم کو شفاف ڈیجیٹل نظام، قابلِ تصدیق ریکارڈ اور موثر مانیٹرنگ کے ذریعے عملی شکل دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جب تعلیمی مواقع میرٹ پر فراہم کیے جاتے ہیں تو ہمارے نوجوان کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ پنجاب کی لیپ ٹاپ اسکیم کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ مالی مشکلات ذہانت اور تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ موجودہ کروم بک پروگرام اسی تصور کو قومی سطح پر ایک نئے اور زیادہ جدید مرحلے میں داخل کرتا دکھائی دیتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور حکومتِ پاکستان اس قابلِ تحسین اقدام پر بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ سیاست، اختلافات اور روزمرہ کے حکومتی معاملات اپنی جگہ، مگر جو حکومت نوجوان کے ہاتھ میں ہتھیار کے بجائے کتاب، اور کتاب کے ساتھ ٹیکنالوجی دیتی ہے، وہ مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔ آج کا ایک کروم بک لینے والا طالب علم کل کا انجینئر، ڈاکٹر، سائنس دان، پروگرامر، محقق، کاروباری شخص یا عالمی سطح کا فری لانسر بن سکتا ہے۔
شاید یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب ہم مدت سے دیکھتے آئے ہیں۔ ایک ایسا پاکستان جہاں غربت کسی بچے کی ذہانت کو شکست نہ دے، جہاں دیہات کا طالب علم بھی دنیا کے بہترین تعلیمی وسائل تک پہنچ سکے، جہاں نوجوان ملازمت کا منتظر نہ رہے بلکہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرے، اور جہاں علم و ہنر ہماری اصل قومی طاقت بن جائیں۔
پانچ لاکھ کروم بکس اس سفر کا اختتام نہیں، آغاز ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس آغاز کو مستقل قومی پالیسی، معیاری تعلیم، تیز رفتار انٹرنیٹ، جدید نصاب اور نوجوانوں کی عملی تربیت سے جوڑ دیا جائے۔ تب واقعی یہ کہنا ممکن ہوگا کہ پاکستان صرف ڈیجیٹل پاکستان کا خواب نہیں دیکھ رہا بلکہ اس کی تعمیر شروع کر چکا ہے۔





