چھاتی کا کینسر، ایک انسانی مسئلہ

چھاتی کا کینسر، ایک انسانی مسئلہ
روشن لعل
وہ تمام امور اور معاملات جن کا دنیا کے انسانوں، دیگر جانداروں، ماحول اور عمومی کاروبارزندگی کے ساتھ کسی طرح کا تعلق بنتا ہے ان پر توجہ دینے اور ان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے سال کا کوئی نہ کوئی دن ان سے موسوم کر دیا جاتا ہے۔ ایسا قومی یا بین الاقوامی سطح پر ہوتا رہتا ہے۔ اقوام متحد ہ میں اس کے کسی ممبر ملک کی قرارداد کے منظور ہونے پر کسی دن کو عالمی دن قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہر برس یہ دن خاص قسم کی تقریبات منعقد کر کے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے عورتوں، مزدوروں، بچوں، ماحول اور مختلف قسم کی بیماریوں سے موسوم کردہ دن پوری دنیا میں انتہائی جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ اس تمہید سے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اگر کسی معاملے سے وابستہ کر کے کوئی دن ، عالمی دن قرار پا جائے تو وہ معاملہ کتنی اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ اب ذرا سوچیں کہ اگر محض ایک دن کی بجائے پورا مہینہ کسی معاملے سے موسوم کر دیا جائے تو وہ معاملہ دنیا میں بسنے والے انسانوں کے لیے کس قدر اہم ہوگا۔ چھاتی کا کینسر دنیا میں ایک ایسا معاملہ یا مسئلہ ہے جسے اجاگر کرنے اور جس کے متعلق لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے اکتوبر کا پورا مہینہ مختص کر رکھا ہے۔ ہر برس اکتوبر کے مہینے میں مختلف قومی و بین الاقوامی تنظیمیں اور ریاستی و غیر ریاستی ادارے چھاتی کے کینسر سے آگاہی کی مہم کو ایک تحریک کی شکل میں چلاتے ہیں۔ اس تحریک کا لوگو(Logo) پنک ربن ہے اس لیے اسے Pink ribbon movementبھی کہا جاسکتا ہے۔
بریسٹ کینسر کے خلاف ’’ سوزن جی کومن فار دی کیور‘‘ ( Susan G. Komen for the Cure ) نامی تنظیم دنیا میں سب سے موثر اور متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ تنظیم نینسی گڈ مین کومن نامی خاتون نے 1982ء میں اپنی بہن سوزن گڈمین کومن کے نام پر قائم کی جو 33سال کی عمر میں بریسٹ کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے تین برس بعد1980ء میں میں انتقال کر گئی تھی۔ نینسی گڈ مین کو جب یہ معلوم ہوا کہ بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر مناسب احتیاط اور علاج کی صورت میں مریض کی زندگی بچائی جاسکتی ہے تو اس نے زیادہ شدت کے ساتھ اپنی بہن کا دکھ محسوس کرنا شروع کر دیا۔ دکھ کی اس کیفیت میں نینسی کو خیال آیا کہ بریسٹ کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد بھی اس کی بہن سوزن کی زندگی بچ سکتی تھی مگر مرض کی تشخیص اور علاج میں تاخیر کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اس کے بعد نینسی نے سوچا کہ اس کی بہن کی زندگی تو ممکن ہونے کے باوجود نہ بچ سکی مگر اس مرض میں مبتلا جن عورتوں کی زندگی بچانا ممکن ہو سکتی ہے وہ ان کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ کرے گی۔ یوں اس نے عورتوں کی رہنمائی کرتے ہوئے بریسٹ کینسر سے تحفظ کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا۔ اس طرح سوزن نے بریسٹ کینسر کے خاتمے کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے ہوئے اپنی بہن کے نام پر تنظیم بنائی اور اس تنظیم کے ذریعے دنیا میں یہ آگاہی پھیلائی کہ بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے بریسٹ کینسر کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔
بریسٹ کینسر کے متعلق آگاہی اور اس کے خاتمہ کے لیے ’’ سوزن جی کومن فار دی کیور‘‘ نام کی تنظیم نے جو کام کیا وہ ہر طرح سے گراں قدر، بے مثال اور قابل تحسین ہے مگر اس کے باوجود اس تلخ حقیقت کو ماننے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں اس موذی مرض کے لیے وہ احساس پیدا نہیں ہو سکا جس کی اشد ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر 9میں سے 1خاتون بریسٹ کینسر کے خطرے کی زد میں ہو سکتی ہے۔ یہ عورت کون ہوسکتی ہے اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا اس کا مطلب ہے کہ ضروری نہیں کہ کینسر کا یہ مرض ہر عورت کو لاحق ہو مگر اس کے اس حقیقت سے چشم پوشی اختیار نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی عورت کا اس کی زد میں آنے کا امکان موجود ہے۔ جب کسی بھی عورت کے اس مرض کی زد میں آنے کا امکان موجود ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس سے بلاوجہ ڈرنے کی بجائے اس کے متعلق آگاہی حاصل کی جائے اور خود کو ان احتیاطی تدابیر پر عمل کے لیے تیار کیا جائے جن کے ذریعے بریسٹ کینسر سے تحفظ ممکن ہو سکتا ہے۔ جہاں تک دنیا کے دیگر ممالک کا تعلق ہے تو یورپ و امریکہ میں تو پہلے سے موجود آگاہی کی وجہ سے ابتدائی مرحلے پر ہی اس مرض کی تشخیص ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وہاں علاج کے مواقع اور سہولتیں اس قسم کی ہیں کہ کسی پیچیدہ علاج سے پہلے ہی مریض کی زندگی بچالی جاتی ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں بریسٹ کینسر کے متعلق آگاہی اور احساس نہ ہونے کے برابر ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی صورتحال کے متعلق اس برس بھی وہی کچھ بیان کیا جارہا ہے جو اس سلسلے میں گزشتہ برسوں کے دوران تحریر کیا گیا تھا۔ پاکستان میں اس کینسر میں مبتلا عورتیں زیادہ تر اس وقت علاج کی طرف رجوع کرتی ہیں جب ان کا مرض تیسرے یا چوتھے درجے تک پہنچ کر تقریباً لاعلاج ہو چکا ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر کو ویسے تو عورتوں کا مرض تصور کیا جاتا ہے مگر یہ مسئلہ صرف عورتوں کا نہیں بلکہ انسانوں کا ہے۔ یہ مسئلہ ہر اس گھر کا ہے جہاں عورت موجود ہے کیونکہ جہاں عورت موجود ہے وہاں بریسٹ کینسر کے ظاہر ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ اس لیے بریسٹ کینسر کیسے اور کیوں نمودار ہو سکتا اور اس کی ابتدائی علامات کیا ہیں اس سے آگاہی صرف عورتوں کے لیے ہی نہیں گھر میں موجود مردوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات اور علاج کی تفصیلات سے مردوں کا آگاہ ہونا اس لیے بھی زیادہ ضروری ہے، کیونکہ یہاں عام گھروں میں عورت اپنے ذاتی معاملات طے کرنے اور حتیٰ کہ علاج کے لیے بھی آزاد اور خود مختار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ستی ساوتری بنے رہنے کی روایت کے زیر اثر اکثر عورتیں گھر کے دوسرے افراد کی نسبت اپنے مسائل اور تکلیفوں کی طرف کم ہی دھیان دیتی ہیں، دوسرا پاکستان کی عورتیں ہوں یا مرد، کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہونے کے شک کے بعد اس کے تشخیصی ٹیسٹوں سے بھاگنا قریباً سب کی نفسیات کا حصہ ہے۔ اس رویے کی وجہ لوگوں کی معاشی مجبوریاں بھی ہیں۔ اس صورتحال میں گھر کے مردوں میں سے خاص طور پر باپ اور خاوند کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ رہیں کہ کسی خاتون میں بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات کیا ہوسکتی ہیں اور اگر خدانخواستہ یہ علامات ظاہر ہوجائیں تو مریض خاتون کو حوصلہ دیتے ہوئے فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
بریسٹ کینسر میں مبتلا عورتوں کے علاج کے سلسلے میں حکومت سے یہ گزارش ہے کہ خاص طو ر پر خواتین کے لیے ایسے صحت کارڈ جاری کیے جائیں جو اس مرض کی بلامعاوضہ تشخیص اور علاج کے لیے ان کے کام آسکیں۔





